تازہ تر ین

سرائیکستان…. نان سرائیکی نقطہ نظر

اسلم اکرام زئی …. بحث و نظر
جناب رنگ اور زبان کے پجاریوں کی طرف سے میرے ایک مضمون کے جواب میں ایک ظہور دھریجہ کے بعد تین دھریجوں اور ایک دھریجی خاتون دانشور کے میرے خلاف مضامین چھپ چکے ہیں ۔ اب مجھے بھی موقع ملنا چاہئے۔روزنامہ خبریں میں سرائیکستان کے حوالے سے میں نے اپنے دو دوستوں کے ساتھ مل کر ایک مضمون لکھا جس کے جواب میں بارش کے بعد اچانک باہر نکلنے والے برساتی مینڈکوں نے ٹرانا شروع کر دیا۔ میں الفاظ کی اس گولہ باری سے کبھی نہیں گھبرایا تاہم میرے ذہن میں تھا کہ سرائیکی کاز کے بزعم خود دانشور حضرات اپنا شوق پورا کر لیں۔ پھر میں ایک ہی مرتبہ اپنا نقطہ نظر قارئین کے سامنے پیش کروں گا۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خبریں ایک ایسا اخبار ہے جو قومی سطح پر شائع ہوتا ہے۔ میرا اس اخبار سے بھی بہت پہلے جناب ضیاشاہد سے ایک ذاتی اور قلبی رشتہ ہے اور ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ظہور دھریجہ جیسے کالم نگاروں کو جو خبریں ہی کے صفحات سے پاکستان بھر میں معروف ہوئے اگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ یہ اخبار شائع کرنے والے‘ اس کا آغاز کرنے والے کون تھے تو میں کیا عرض کر سکتا ہوں۔ سرائیکی علاقے میں یوں بھی تعلیم بہت کم ہے تاہم ظہور دھریجہ صاحب کے اس تحریری بیان پر میری طرف سے وضاحت ضروری ہے۔
ظہور صاحب! میں ادارہ خبریں کا ملتان میں پہلا جنرل منیجر ہوں۔ اس وقت یہ اخبار لاہور سے چھپ کر آتا تھا۔ پہلے آٹو پلازہ میں روزنامہ مساوات کے دفتر کے ساتھ دفتر لیا۔ یاد رہے کہ مساوات کے بیورو چیف قسور سعید مرزا تھے جو بعدازاں فاروق لغاری صاحب کی صدارت کے دوران ان کے پریس سیکرٹری بنے۔ فاروق لغاری صاحب اکثر مساوات ملتان کے دفتر آیا کرتے تھے۔ جب ملتان سے خبریں شائع کرنے کا پروگرام بنا تو میں نے کینٹ میں بلقیس پلازا کے نام سے ایک نئی عمارت منتخب کی اور اس کے دو فلور کرائے پر لئے۔ حامد سعید ملک صاحب چیف رپورٹر تھے اور آج بھی ہیں۔ رانا محمودالحسن جو آج کل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اور اسمبلی کے رکن ہیں‘ خبریں ملتان کے رپورٹنگ سٹاف میں فل ٹائم کام کرتے تھے۔ مظہر جاوید بھی سیاسی رپورٹر تھے۔ بلڈنگ کی بیسمنٹ بھی کرائے پر لی گئی تاکہ پریس لگایا جا سکے۔ اس دور کا سب سے بڑا اور مشہور واقعہ گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کو دفتر کے افتتاح کیلئے بلانا ہے۔ مقامی سیاستدانوں نے بھی تقریب میں حصہ لیا اور ایک بڑی سڑک پر قناتیں اور شامیانے لگا کر جلسہ گاہ بنائی گئی۔ اس چوک میں میاں اظہر ہی نے خبریں چوک کی تختی نصب کی۔ میں نے خبریں کے ابتدائی دور میں ظہور دھریجہ کا نام کبھی نہیں سنا تھا او مجھے یہ یاد نہیں کہ یہ ذات شریف کب کالم نگار رہی۔ جب فنانس کا بندوست پوری طرح سے نہ ہو سکا تو ہم اس کیلئے کوشش کرتے رہے۔ لبرٹی پیپرز پبلک لمیٹڈ ادارہ تھا۔ میری ذاتی کاوشوں سے اس کے دو ڈائریکٹر بنے اور متعدد چھوٹے شیئر ہولڈرز۔ پھر میں نے گل دین کالونی میں سابقہ دفتر کرائے پر لیا جو اخبار مارکیٹ کے اندر واقع تھا۔ اس کے پڑوس میں دفتر کا عقبی حصہ پریس کیلئے حاصل کیا گیا۔ اس طویل عرصے میں مجھے سرائیکی زبان یا صوبے کا کوئی لکھاری خبریں کے صفحات پر نظر نہیں آیا۔ پھر میری تجویز پر ضیاشاہد صاحب نے لاہور سے اپنے مرحوم بیٹے عدنان شاہد صاحب کو انچارج بنا کر ملتان بھیجا اور پریس کا بندوبست کیا گیا۔ موجودہ ریذیڈنٹ ایڈیٹر امتیاز گھمن صاحب ہیڈآفس لاہور میں کمپیوٹر سیکشن کے انچارج تھے۔ انہوں نے ملتان آ کر یہ سیکشن منظم کیا اور پھر روزنامہ خبریں ملتان بڑی شان کے ساتھ مارکیٹ میں آیا۔ میاں غفار پہلے ریذیڈنٹ ایڈیٹر‘ امتیاز گھمن صاحب جنرل منیجر‘ بعدازاں اگرچہ میں نے ایک انشورنس کمپنی میں ملازمت کر لی لیکن برسوں تک میں جزو وقتی طور پر خبریں کے شعبہ تعلقات عامہ کا انچارج رہا‘ جس کا باقاعدہ طور پر مجھے ماہوار اعزازیہ ملتا تھا۔ یہ انتظام علیم چودھری مرحوم کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بننے کے دوران بھی جاری رہا۔
جناب علیم چودھری مرحوم نے بطورریذیڈنٹ ڈائریکٹر اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان کےلئے شاندار خدمات انجام دی اور ان کے ساتھ ساتھ امتیاز گھمن صاحب کی محنت سے خبریں کا نیا دفترملتان میں علیم ٹاور کے نام سے تعمیر ہوا۔
ان کی وفات کے بعد ضیاشاہد صاحب نے مجھے انشورنس کمپنی سے ریٹائرمنٹ پر خبریں کا کوآرڈی نیشن منیجر مقرر کیا۔ اسی دوران ضیاصاحب کے چیلنج کے طور پر مجھے ”نیااخبار“ ملتان کا پراجیکٹ سونپا اور ٹارگٹ دیا کہ تین ماہ کے اندر اس کی سرکولیشن اور بزنس میں اس حد تک اضافہ کرو کہ یہ اخبار خود کفیل ہوسکے ورنہ یہ انتظام ختم کر دیا جائے گا۔ دھریجہ صاحب اب یہاں کالم لکھ رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پراپیگنڈا عام ہو گیا کہ خبریں ملتان سرائیکی تحریک کا اخبار ہے حالانکہ ضیاشاہد کا نقطہ نظر یہ تھا اور آج بھی ہے کہ وہ سرائیکی زبان اور تہذیب کے فروغ کے پرجوش حامی ہیں لیکن وہ خود پیدائشی طور پر سندھی ہیں۔ان کے والدین کا تعلق مشرقی پنجاب سے تھا جو 1947ءمیں مہاجر بن کر پاکستان آئے۔ پانچویں جماعت تک بہاولنگر اور 10ویں جماعت تک ملتان میں تعلیم پائی۔پھر لاہور جاکر یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی۔وہ سرائیکی علاقے میں نئے صوبے کے قیام کے حق میں بھی ہیں اور جنوبی پنجاب میں غریب اور محروم عوام کے لیے انہوں نے زندگی بھر عملاً جدوجہد کی ہے لیکن دھریجہ صاحب اور ان کے ساتھی سن لیں کہ وہ نہ تو سرائیکی سپیکنگ ہیں اور نہ اس علاقے میں پیدا ہوئے تھے لہٰذا دھریحہ کا بلاشرکت غیرے خود کو خبریں کی پالیسی کا مالک سمجھنا یا ہماری محترمہ عابدہ صاحبہ کا جو خود کو سرائیکستان پارٹی خواتین شاخ کی سربراہ قرار دیتی ہیں یہ مطالبہ کرنا یا ضیاشاہد صاحب کو مشورہ دینا کہ اسلم اکرام کو خبریں سے نکالو انتہائی لغو اور لایعنی بات ہے۔ تین ماہ میں جب میں ٹارگٹ پورا نہ کر سکا تو ضیاصاحب کے اصرار کے باوجود میں نے رضاکارانہ طور پر تحریری استعفیٰ دیا کیونکہ میں اس خیال کا حامی ہوں کہ ریل کا حادثہ ہو جائے تو بھی وزیر ریلوے کو رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔
دھریجہ صاحب! میں آج خبریں کا ملازم نہیں ہوں تو بھی اس کی بنیادوں میں میرا خون اور پسینہ شامل ہے جس دن میں چاہوں خبریں ٹیم میں شامل ہوسکتا ہوں کیونکہ ضیاصاحب کو میری قربانیوں کا مکمل ادراک ہے۔ یہ سرائیکی پارٹیوں والے مجھے کیا نکلوائیں گے ان کی تو اپنی شناخت یہ ہے کہ جب خبریں ایک بڑا خبار بن گیا تو انہوں نے اسے اپنے گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ ضیاشاہد صاحب جو ذات برادری‘ نسل اور زبان کی بنیاد پر استوار ہونے والی پارٹیوں کے خلاف قسط وار مضامین لکھ رہے ہیں‘کیا وہ آپ لوگوں کے کہنے پر کسی کارکن کو نکال سکتے ہیں۔ پھر خبریں ایک قومی اخبار ہے۔ مظفرآباد آزاد کشمیر کے بعد پشاور، اسلام آباد، لاہور، کراچی اور ملتان سے بیک وقت شائع ہوتا ہے۔ ادارہ خبریں پانچ شہروں سے ایک ایوننگر ”نیااخبار“ شائع کرتا ہے اور سندھی اخبار ”خبرون“ کا پرنٹر‘ پبلشر بھی ہے‘ کیا ان سب پر سرائیکی کے دعویداروں کا قبضہ ہو سکتا ہے‘ کیا وہ کراچی سے پشاور تک یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ فلاں کو رکھو اور فلاں کو نہ رکھو؟
پھر خبریں ہی نہیں میں نے اپنے کیریئر کا آغاز ضیاشاہد کی ادارت میں شائع ہونے والے روزنامہ پاکستان سے کیا۔ ملتان چھوڑ کر لاہور میں رہائش اختیار کی اور صرف چھ ماہ میں اس قدر محنت کی کہ پاکستان کے مالک اکبر علی بھٹی مرحوم نے مجھے بزنس ایگزیکٹو بنا دیا اور ڈیڑھ لاکھ روپے سے ایک نئی سوزوکی گاڑی خرید کر دی۔ انہوں نے مجھے رہائش کیلئے اپنا ایک گھر بھی دیا لیکن جب ضیاشاہد صاحب روزنامہ پاکستان سے الگ ہوئے تو میں نے بھی کار واپس کردی اور ان کی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ لٹن روڈ پر مزنگ چونگی کے قریب ایک نئی عمارت کا پہلا فلور ہم نے کرائے پر لیا۔ ضیاشاہد صاحب نے مجھے 50ہزار روپے کا بندوبست کر کے سات کمروں پر مشتمل فرنیچر خریدنے کا حکم دیا۔ ہم سال بھر اس دفتر میں بیٹھ کر منصوبے بناتے رہے اور جب پنچ محل کی عمارت قسطوں پر جماعت اسلامی سے خریدی گئی جو دراصل روزنامہ جسارت کا دفتر اور پریس تھا اور خبریں نکالا گیا تو مجھے انہوں نے ملتان آفس کی ذمہ داری سونپی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دھریجہ صاحب جیسے بیسیوں افراد جو آج تحریری طور پر مطالبے کرتے ہیں کہ میرے مضمون کا جواب فلاں صفحے پر فلاں جگہ شائع کیا جائے ‘ان کا یا ان کے قریبی لوگوں کا خبریں کی بنیادی ٹیم کا دوردراز سے بھی تعلق نہ تھا۔ ضیاشاہد صاحب کی محنت‘ لگن اور عوام کی خدمت اور جنوبی پنجاب کی محرومی کے خلاف کاوش کے نتیجے میں خبریں کامیاب ہوگیا تو دھریجہ صاحب جیسے لوگوں نے بھی اس بلڈنگ کے سامنے اپنا ”چھابہ“ لگا لیا اور آج ان کے سرائیکی تعصب پر تنقید کی جائے تو پہلے مضمون کی مار بھی یہ لوگ برداشت نہیں کرتے اور شور مچانے لگتے ہیں کہ خبریں میں لکھنے والے فلاں شخص کو نکالا جائے‘ یہ ان کی جمہوریت ہے۔
جناب! میںآج خبریں میں ملازم نہیں ہوں لیکن کیا مجھے مضمون لکھنے کا بھی حق حاصل نہیں۔ کیا سرائیکی کے نام پر اپنی دکانداریاں چمکانے والے مالک بن بیٹھے ہیں؟ اور ہم لوگ جنہوں نے اپنی عمر کے 20سے زیادہ سال اس اخبار کو دیئے ہم اپنا نقطہ نظر بھی نہیں چھپوا سکتے؟ کاش سرائیکستان پارٹی کی عہدیدار ایک خاتون نہ ہوتیں اور کوئی مرد سامنے آتا تو میں ان کی اس بات کا جواب ضرور دیتا کہ اسلم اکرام کو خبریں سے نکالنے کا مطالبہ کرنے والے خودکس کھیت کی مولی ہیں‘ وہ دعادیں اس اخبار کو جس نے انہیں دانشور کے طور پر روشناس کروایا ورنہ مظفرآباد‘ اسلام آباد‘ پشاور لاہور ‘ سکھر اور کراچی سے چھپنے والے اس اخبار کے قارئین میں سے کوئی ان لوگوں کے نام سے بھی واقف نہ ہوتا۔ خاتون محترم کے بارے میں پتہ چلا کہ موصوفہ جو سرائیکی پارٹی کے خواتین ونگ کی صدر ہیں شائد ایف اے پاس ہیں۔ معلوم نہیں دھریجہ صاحب کی کیا تعلیم ہے لیکن تہذیب سے وہ یکسر دور ہیں اور اخبار کے اس چیف ایڈیٹر کو احکام جاری کرتے ہیں جس نے اس غیر معروف قلم کار کو پاکستان بھر میں متعارف کروایا۔
یہ حضرت مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نے ان سے خود ”فریدی رومال“ مانگا تھا۔ میں خواجہ فریدکی عظمت‘ ان کی صوفیانہ سوچ اور زبردست شاعری کا معتقد ہوں لیکن کیا واقعی فریدی رومال کے ساتھ ایک مربع زمین یا ایک کنال پلاٹ بھی عطاکیا جاتا ہے۔ مجھ جیسا شخص ان سے بھیک مانگے گا کہ مجھے ایک فریدی رومال عطا کیا جائے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ خبریں کے آنے سے پہلے شاعر ہوتے ہوں گے لیکن اس اخبار کے سالانہ سرائیکی مشاعروں کے علاوہ بے پناہ مذاکروں اور تقاریب میں جنوبی پنجاب کے مسائل کی نشاندہی کی۔ زبان اور تہذیب کے لئے جنگ لڑی اور یہ لوگ اپنے لوگوں پر تنقید کے چار لفظ بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ ان کے ایک نوجوان کا مضمون پڑھا جو بہاﺅالدین ذکریا یونیورسٹی میں شاید ایم فل کر رہے ہیں اور جنہوں نے اپنا حق چھین لینے کے دعوے کے ساتھ بزعم خود سرائیکی کاز کے یا مخالفین کو دھمکیاں دیں۔ برخودار! جنوبی پنجاب میں یقینا سرائیکی بہت سے لوگوں کی مادری زبان ہے یہاں نان سرائیکی بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں کیا نفرت کا زہر پھیلا کر آپ گلی گلی کوچہ گوچہ خانہ جنگی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہاں مشرقی پنجاب سے آئے ہوئے پنجابی بھی آباد ہیں۔ روہتک کے بے شمار لوگ بھی ہیں۔ بلوچ بھی انتہائی جنوبی علاقوں میں بکثرت ہیں۔ سرائیکی کے علاوہ دوسری زبانیں بھی یہاں بولی جاتی ہیں۔ آپ شوق سے صوبہ بنائیں لیکن کیانان سرائیکی لوگوں کی زبانیں آپ بند کرسکتے ہیں۔ کیا سینٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سرائیکی بھائیوں کے ساتھ غیر سرائیکی نمائندوں کو آپ اسمبلی کی رکنیت سے علیحدہ کرسکتے ہیں؟ ضیا شاہد صاحب نے ہمیشہ کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی خواہش ہے تو صوبہ بھی بنائیں اور زبان وتہذیب کو بھی ترقی دیں لیکن انہوں نے اس نفرت اور تعصب کو کبھی ہوا نہیں دی جس کو ایک صوبے کے نام پر آپ اپنے لوگوں کے دلوں میں پیدا کررہے ہیں۔
صوفیاءکی اس سرزمین میںجہاں محبت خلوص اور روداری کا راج ہے اور صدیوں سے رہا ہے۔ آپ جیسے چند سو یا چند ہزار افراد یہاں زبان اور نسل کی بنیاد پر نفرتیں بانٹنا چاہتے ہیں۔ میں آخر میں صرف ایک بات کہوں گا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ اپنی ذاتی مجلسوں میں کھل کر یہ کہتے ہیں کہ مہاجروں نے آپ کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرلیا ہے اور ہندو کے جانے کے بعد بھی یہ زمینیں اور جائیدادیں آپ کو ملنی چاہئیں تھیں۔ آپ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم اپنا حق واپس لیں گے۔ آپ کے نوجوان لیڈرزنے اپنے مضمون میں بھی دھمکیاں دی ہیں کہ وہ اپنا حق چھین لیں گے۔ گزشتہ دنوں سالانہ سرائیکی مشاعرے کے ایک شاعر اور دانشور ایک وکیل صاحب کو ساتھ لے کر لاہور خبریں کے ہیڈ آفس پہنچے اور ضیا شاہدصاحب سے ملاقات کے دوران یہ کہا کہ نان سرائیکی لوگوں کی فہرستیں بنانا شر وع کر دی ہیں کہ کس کس کو نشانہ بنا کر پراپرٹی واپس لینی ہے اور اسے اپنی زمین جائیداد یا مکان سے محروم کرنا ہے۔ مجھے ضیا شاہد صاحب نے خود یہ بتایا کہ میں نے بڑے پیار سے انہیں سمجھایا تھا کہ سرائیکی صوبہ سرائیکی تہذیب اور سرائیکی زبان کیلئے آپ ضرور جدوجہد کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن جنوبی پنجاب میں اگر آپ زبان اور نسل کی بنیاد پر سرائیکی اور نان سرائیکی جھگڑا شروع کروانا چاہتے ہیں تو خبریں ہرگز ہر گز اس مقصد کی حمایت نہیں کرے گا کیونکہ ہماری نظر میں پاکستان میں بسنے والے تمام افراد خواہ ان کا تعلق کسی رنگ ونسل یا زبان سے ہو ہمارے بھائی ہیں اور ہم قائداعظم کی ان تعلیمات پر عمل کرنے کے حامی ہیں کہ پاکستان بھی ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں اور پھر پاکستانی اور یہاں نہ کوئی سندھی ہے پٹھان نہ پنجابی اور نہ بلوچ۔ اگر ہم ان چار قومیتوں سے اوپر اٹھ کر پاکستانی سوچ اور اسلامی فکر کو رائج کرنے کے حامی ہیں تو ہم سرائیکی نسل یا زبان کی بنیاد پر نئی تفریق کرنے والوں سے یہ کہیں گے کہ خدارا اس ملک پر رحم کریں ۔ اپنا سیاسی اور معاشرتی حق ضرور لیں لیکن گلی گلی محلہ محلہ نفرتیں نہ پھیلائیں۔ روزنامہ خبریں ہو یا پاکستان کے وسائل ہم جنوبی پنجاب میں سرائیکی سپیکنگ عوام کے حقوق کی جنگ میں دل وجان سے ان کے ساتھ ہیں لیکن ہم نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکانے والوں کی حوصلہ افزائی قطعاً نہیں کرسکتے۔ مجھے معلوم ہے کہ مزید سرائیکی دانشوری کا زعم رکھنے والے اور لوگ بھی مضامین بھیج رہے ہیں تاہم ایک دیرینہ ساتھی اور بانی کارکن کی حیثیت سے میری درخواست ہوگی کہ خدارا سرائیکی حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کو اتنی جگہ اپنے اخبار میں نہ دیں کہ نان سرائیکی خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کرنے لگیں اور دھریجہ صاحب! آپ کو اور آپ کے دیگر ساتھیوں کیلئے میں یہ ضرور کہوں گا کہ آج کل ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہوں لیکن اگر آپ چیلنج کریں گے تو جب چاہوں گا اس ادارے میں کسی بھی ذمہ داری پر پھر سے خبریں کے قافلے میں شامل ہوجاﺅں گا۔ آپ مجھے خبریں سے نکالنے کا مطالبہ کیا کرتے ہیں۔ میرا جب جی چاہے گا میں اپنے ادارے میں کسی بھی سیٹ پر جا کر بیٹھنے کا حق رکھتا ہوں کیونکہ میں نے اپنی جوانی اور عمرکے 20 سال اس اخبار کو دیئے ہیں اور میں ان فصلی بٹیروں میں شامل نہیں ہوں جو محض اپنے اغراض کیلئے خبریں کے اجارہ دار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved