تازہ تر ین

نعروں سے تبدیلی نہیں آتی

غلام اکبر …. آج کی بات
تبدیلی کے لئے ہجرت کرنی پڑتی ہے ،ایک سوچ سے دوسری سوچ کی طرف ،اللہ تعالیٰ نے الفاظ میں بڑی قوت پیدا کی ہے۔ زبان میں جادو جگانے اور امیدوں کے چراغ روشن کرنے کی جو بے پناہ تاثیر یا خاصیت ہے اس سے انکار ممکن ہی نہیں۔2014ءکے دھرنے کے دوران تحریک انصاف کے ایک نعرے نے بڑی ہلچل مچائی تھی۔” تبدیلی آئے گی نہیں تبدیلی آگئی ہے۔“
اس سادہ سی معصوم سی سٹیٹمنٹ میں بے پناہ کشش تھی۔ جاذبیت تھی۔ اثرانگیزی تھی۔ لگتا تھاکہ جس خواب کی تکمیل کےلئے کپتان نے تقریباً اٹھارہ برس صبر آزما حوصلہ آزما اور امتحان طلب جدوجہد کی تھی وہ ایک طویل عرصہ تک نامکمل رہنے کے بعد اچانک پورا ہوچکا تھا۔قوم کی رگ و پے میں امیدوں کے دیپ جل اٹھے تھے۔پھر اچانک یوں ہوا کہ ایک روز قوم کے سامنے پھر وہی سراب تھا جس نے کئی دہائیوں سے اسے امید اور یاس کے درمیان معلق کررکھا تھا۔
سراب انسان کے ساتھ کیا کھیل کھیلتے ہیں اس کے بارے میں نہیں لکھوں گا۔ لکھوں گا اس کیفیت کے بارے میں بھی نہیں جو ذہن میں امیدوں کے چراغ بجھنے پر پیدا ہوتی ہے۔میں بنیادی طور پر رجائیت پسند آدمی ہوں۔ مایوسی کو کفر سمجھتا ہوں۔ ہمارے سامنے ہمارے رہبر اعظم ﷺکی حیات مبارکہ ہے۔ عمران خان بھی آپ ﷺکو ہی اپنارہبرِ اول اور رہبرِ کامل قرار دیتے ہیں۔ لیکن آپ ﷺکی زندگی سے عمران خان نے کیا کیا سبق سیکھے ہیں۔؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مکہ کی گلیوں میں آپ ﷺنے ایک ایسی جنگ لڑی تھی جس میں جیت کی امید دور دور تک نظر نہیں آتی تھی۔میاں نوازشریف اکثر مینڈیٹ کی بات کرتے ہیں۔ صرف مکہ کا ہی نہیں اردگرد کی تمام بستیوں کا بھی مینڈیٹ سردارانِ مکہ کے پاس تھا۔ ابوسفیان کے منہ سے اسی لئے ایک ہی بات نکلتی تھی کہ ” عبدالمطلب کے پوتے میں حوصلہ بے پناہ ہے۔ لیکن ایک روز اس کی زبان خود ہی تھک جائے گی۔ اس کے حوصلے خود ہی دم توڑ جائیں گے۔ اوروہ خود چل کرہمارے پاس آئے گااور کہے گا۔ میں اپنے آپ کو تمہاری پناہ میں دیتاہوں۔“
آنحضرت ﷺ نے طائف کا حوصلہ شکن سفر بھی کیا۔ اور ا±س کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلام کو ایک نیا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ اسلام کو نئی سیاسی حکمت عملی کی ضرورت تھی۔ اور نئے حلیف درکار تھے۔ چنانچہ مکہ کے قریب کی پہاڑیوں میں خفیہ طور پر اہلِ یثرب کے ساتھ ایک ایسی ملاقات کا اہتمام ہوا جس میں طے پانے والا معاہدہ بنی نوع انسان کی تاریخ تبدیل کرنے والے سفر کا موجب بن گیا۔عمران خان کو آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ زیادہ غور اور انہماک کے ساتھ کرناہوگا۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ریاستِ مدینہ جیسی ریاست قائم کی جائے گی۔ ایسی ریاست قائم کرنے کے لئے مکہ چھوڑ کر مدینہ پہنچنا ہوگا۔ جس نظام میں رہ کر عمران خان تبدیلی کی بات کرتے ہیں نمک کی ا±س کان کی مانند ہے جس میں جاکر آدمی خود نمک بن جاتا ہے۔عمران خان اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی ہوگی ۔اپنا راستہ بھی تبدیل کرنا ہوگا اور اپنی منزل کا واضح تعین بھی کرنا ہوگا۔
………………..
قائداعظم کا مختصر مگر تاریخی جواب
یہ کالم میں نے نومبر 1997ءمیں لکھناشروع کیا تھا۔ تھی۔ مجھے لکھنے کے لئے وقت بڑا کم ملتا تھا۔ پھر مختصر لکھنا میری عادت بن گئی۔اس عنوان کے تحت میں نے اب تک ساڑھے پانچ ہزارسے زیادہ کالم لکھے ہوں گے۔ ایک ہی موضوع بار بار میرے زیر قلم آیا ہوگا۔ لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ ایک ہی بات میں نے دو مرتبہ نہیں لکھی ہو گی۔ اور میری دو تحریریں آپس میں ٹکرائی بھی نہیں ہونگی۔ اٹھار ہ سال بعد میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بات چند جملوں میں آسانی کے ساتھ سمجھائی جاسکتی ہو اس کےلئے زیادہ روشنائی ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آج یہ لمبی چوڑی تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ میرا آج کا کالم بہت ہی زیادہ مختصر ہے۔
آپ جانتے ہیںکہ ہندو توا کے علمبرداروں نے اپنے مکروہ خونی دانت دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔ ممبئی میں گوشت کا ناغہ چار روز تک بڑھانے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابندی عیدالاضحی کی آمد کے موقع پر لگائی گئی ہے۔
مسلمانانِ کشمیر نے ا س شرمناک ”ہندوانہ اقدام“ پر مقبوضہ کشمیر میں جو ہڑتال کی ہے اسے آسیہ اندرابی نے گائے کی قربانی دے کر چار چاند لگا دیئے ہیں۔مجھے اس موقع پر وہ تاریخی انٹرویو یاد آئے بغیر نہیں رہا جو برطانوی رائٹربیورلی نکلز نے 1943ءمیں قائداعظم کا لیا تھا۔
نکلز نے ایک بنیاد ی سوال دو مرتبہ پوچھا تھا۔”پاکستان کیوں؟“
دونوں مرتبہ قائداعظم نے بڑا مختصر جواب دیا تھا۔
پہلا جواب یہ تھا ”اس لئے کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں“
دوسرا جواب یہ تھا ”مسلمان گائے کو ذبح کرکے کھا جاتے ہیں اور ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں۔٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved