تازہ تر ین

بندر بانٹ

اسرار ایوب….قوسِ قزح
چاہیے تو یہ تھا کہ آزاد کشمیر کو گڈ گورننس کا نمونہ بنا کر ساری دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا کہ دیکھو جو حصہ ہمارے پاس ہے وہ کیسا ہے اور جو ہندوستان کے پاس ہے اس کا حال کیا ہے ؟ لیکن ہم نے آزادکشمیر میں کرپشن، اقربا پروری،لاقانونیت اور میرٹ کی پامالی کا وہ بازار گرم کر رکھا ہے کہ شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا۔صرف یہی ایک مثال دیکھ لیجئے کہ چیف سیکریٹری کو قانون کی رو سے فقط ایک سرکاری گاڑی رکھنے کی اجازت ہے جبکہ موصوف کے زیرِ استعمال ایک نہیں دو نہیں تین نہیں بلکہ آٹھ سرکاری گاڑیاں ہیں۔اطلاع کے مطابق ان بیش قیمت گاڑیوں میں سے 3لاہور،2اسلام آباد اور3مظفرآباد میں ”کارِ سرکار“کی انجام دہی کے لئے رکھی گئی ہیں یعنی یہ گاڑیاں غریب عوام کی رگوں سے نچوڑے ٹیکس سے خریدی ہی نہیں گئیں بلکہ ان میں ڈیزل پٹرول بھی خزانہ سرکار سے ڈلوایا جاتا ہے، چیف سیکرٹری کے سٹاف کے پاس جو گاڑیاں ہیں وہ ان کے علاوہ ہیں۔لیکن یہ کارنامہ موجودہ چیف سیکرٹری ہی انجام نہیں دے رہے بلکہ گاڑیوں کی تعداد میں جمع تفریق کے ساتھ ان کے پیش رو بھی اسی عظیم روش پر چلتے رہے۔
ایک چیف سیکرٹری ہی کیا سرکاری گاڑیوں کے حوالے سے آزادکشمیر کی ہر حکومت متفقہ طور پر بندر بانٹ کی قائل رہی ، پھر جب پانی سر سے گزرنے لگا اور ہر کونے کھدرے سے احتجاج بلندہونا شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل (وقت) کی سربراہی میںاس مینڈیٹ کے ساتھ ایک چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی کہ وہ سرکاری گاڑیوں کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ایسی تجاویز بھی مرتب کرے جن سے اس لاقانونیت کو روکا جا سکے۔ اس کمیٹی کے سربراہ اعزاز نسیم(جو ریٹائر ہو چکے ہیں) نے بذاتِ خود میرے ٹی وی شو میں سرِ عام بتایا کہ تمام محکمہ جات کی جانب سے گاڑیوں کا ریکارڈ مہیا نہیںکیا گیا ،پھر بھی 900سے زیادہ گاڑیاں ایسی تھیں جو غیر قانونی طور پرکچھ اس طرح استعمال کی جارہی تھیںکہ ایک وزیر کے ذاتی استعمال میں( سرکاری خرچ پر)13گاڑیاں تھیں جبکہ ٹرانسپورٹ پالیسی مجریہ 1992کی رو سے انہیں فقط 2گاڑیوں کا استحقاق حاصل تھا۔ اس حوالے سے تقریباً 250صفحات کی رپورٹ پیش کی گئی لیکن اس پر کارروائی تو دور کی بات، اعزاز نسیم ہی کے بقول اسے غائب ہی کر دیا گیاالبتہ ان کے پاس اس کی کاپی اب بھی موجود ہے۔ گاڑیوں کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے جس طریقہءکار کو اپنانے کی سفارش کی گئی اسے ”مانیٹائزیشن“کہا جاتا ہے جو وفاقی حکومت نے برائے نام ہی سہی لیکن اپنا ضرور رکھا ہے، جس کے تحت افسران کونجی استعمال کے لئے سرکاری گاڑیاں نہیں دی جاتیں بلکہ مناسب رقم ادا کر دی جاتی ہے ۔ اس طریقہءکار کو درد دل رکھنے والے افسران نے پسند کیا لیکن ان کی نسبت دوسری قماش کی تعداد کیونکہ بہت زیادہ ہے لہٰذا اس تجویزکا گلا گھونٹ دیا گیا۔
وزیر تو وزیر، آزادکشمیر میں ایک سیکرٹری کے زیرِ تصرف بھی 3سے 4گاڑیاں ہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ ہروزیرِ اعظم اور اس کے کنبے کو سرکاری گاڑیوںکے نشے کی لت ہوتی ہے یابیوروکریسی اسے یہ لت ڈال دیتی ہے، ایک وزیرِ اعظم کے بھولے بھالے بیٹے سے تو ایک بار پوچھا گیاکہ تم نے ایک سرکاری افسر کی گاڑی اپنے تصرف میں کیوں رکھی ہوئی ہے؟ تووہ بولاکہ وزیرِ اعظم کی فیملی کے ہر ممبر کو سرکاری گاڑی ملتی ہے اور میرے حصے میں یہ گاڑی آئی ہے، جب پوچھا کہ تمہیں یہ بات کس نے بتائی تو وہ بولا کہ وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ کے ٹرانسپورٹ افسر نے۔ سابق وزیرِ اعظم پیپلز پارٹی کے چودھری مجید کی فیملی کے پاس14سرکاری گاڑیاں تھیں،جبکہ آزادکشمیر میں سرکاری گاڑیوں کی تعدادکم و بیش 10ہزار ہے لیکن اس میں نیم سرکاری اداروں کی گاڑیاں شامل نہیںجبکہ وہ بھی سرکاری پیسوں سے خریدی جاتی ہیں۔ دوسری طرف 25کے لگ بھگ سرکاری محکمہ جات ہیں تو اتنے محکموںکے لئے اتنی گاڑیاں کم از کم میری سمجھ سے تو باہرہیں،تو کیا اسی لئے فیملی کے ہر ممبر کو الگ گاڑی ملتی ہے؟
سابق وزیرِ اعظم سردارسکندر حیات نے اپنے دورِ حکومت میں وزیرِ اعظم کی مراعات میںایک عدد 1600سی سی کار بھی شامل کروائی لیکن صدر ریاست جنرل محمد انور کو اس سہولت سے محروم رکھا توجنرل صاحب اپنے طور پر ہی ایک گاڑی( کسی قاعدے قانون کے بغیر) ساتھ لے گئے ، ان کی دیکھا دیکھی اگلے صدر راجہ ذولقرنین خان (جو خاندانی رئیس ہیں)نے بھی ایک گاڑی پر ہاتھ صاف کر لیے اور اس کا جواز ایڈیشنل سیکرٹری سروسز وقت (راجہ رزاق جو بنیادی طور پر محکمہ قانون کے ملازم ہیں) نے یہ دیا کہ کیونکہ اس حوالے سے قانون بن رہا ہے لہٰذا صدر صاحب یہ گاڑی لے جا سکتے ہیں۔ قانون کی کیا خوبصورت تشریح ہے ؟ اور قانون پر عملدرآمدنہ ہونے کے خلاف کیس سننے پر ماموراعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا ماجرہ یہ ہے کہ ان کو بھی 1600سی سی گاڑیوں کی اجازت ہے لیکن ان کے زیرِ استعمال بھی بڑی بڑی گاڑیاں ہیں جنہیں خریدنے کی منظوری (خدا جانے کس طرح)مالیات سمیت تمام متعلقہ محکمہ جات سے حاصل کی گئی ہے۔ایک طرف یہ عالم ہے اور دوسری طرف کئی ہسپتالوں میں ایمبولینس تک کی سہولت مہیا نہیں، اور مریضوں کو کرائے کی عام گاڑیوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔
اب آئیے پولیس کی طرف،ایک سینئر پولیس افسر بتا رہے تھے کہ آزادکشمیر پولیس کے پاس269گاڑیاں اور 45تھانے ہیں، اس کے باوجود تمام جگہ پر سرکاری گاڑیاں مہیا شدہ نہیں ہیں اوربے چارے تفتیشی افسران کو پبلک ٹرانسپورٹ پر سرکاری ڈیوٹی انجام دینی پڑتی ہے، یعنی بڑے بڑے پولیس افسران کے زیرِ تصرف بھی دو دو تین تین بلکہ چار چار گاڑیاں ہیں۔
آزادکشمیر کے موجودہ وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر ایمانداری اور جرا¿تمندی کے حوالے سے بڑی ہی اچھی شہرت کے حامل ہیں جنہیں کشمیری ایک مسیحا کی حیثیت سے دیکھتے ہیں ورنہ ”پی ایم ایل این“کو دوتہائی اکثریت کسی صورت حاصل نہیںہو سکتی تھی، راجہ صاحب خلافِ معمول محض 9رکنی کابینہ بنانے کا تاریخی کارنامہ بھی انجام دے چکے ہیں ، تو امید کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری گاڑیوں کی بندر بانٹ کا نوٹس بھی فوری طور پر لیں گے بصورتِ دیگر کسی دوسرے سے بہتری کی امید تو کسی کو ہے ہی نہیں۔٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved