تازہ تر ین

تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال

جاوید ملک …. مساوات
بھارت میں گزشتہ دنوںدس بڑی ٹریڈیونینز نے مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوںکےخلاف تاریخ ساز ہڑتال کرکے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے واضح رہے کہ کانگریس حکومت کےخلاف دس کروڑ محنت کشوںکامظاہرہ کانگریس کی حکومت کو لے ڈوبا تھا گزشتہ سال دو ستمبر کو کی جانیوالی ہڑتال میں پندرہ کروڑ محنت کشوںنے شرکت کی تھی اس مرتبہ سینٹر فار ٹریڈیونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری تپس سین کا کہنا تھا کہ ہڑتال میں پندرہ کروڑ لوگ شرکت کریںگے مگر بھارت میں موجود ماہرین اور تجزیہ نگاروںکے مطابق ہڑتال میں 18 سے 20 کروڑ لوگوںنے شرکت کی اس طرح یہ آج تک انسانی تاریخ کی ہونیوالی سب سے بڑی ہڑتال تھی جس کے دوران بھارت کی کسی سڑک پر کوئی پہیہ نہیں گھوما ٹیلی فون کی کوئی گھنٹی نہیں بجی اور بجلی کا کوئی بلب نہیں جلا۔ بی جے پی کی ٹریڈ یونین کو چھوڑ کر بھارت کی تمام ٹریڈ یونینز کے ہڑتال میں شامل ہونے پر ایشین جریدے اے ایم آر نے سرخی جمائی ہے کہ ” شائن انڈیا کے دعویدار مودی کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ میڈیا کی منافقت کے باوجود اس تھپڑ کی گونج پوری دنیا میںسنی گئی ہے“ اسی طرح ایک برطانوی جریدے نے اس ہڑتال کو دنیا بھر میں اٹھنے والی محنت کشوںکی نئی لہر قرار دیتے ہوئے اسے سرمایہ دارانہ سسٹم کی ناکامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کے اندر مودی کی پالیسیاںدوسرے ہی سال زمین بوس ہوگئی ہیں اتنی بڑی ہڑتال کا خود ہڑتال کرنیوالے تصور نہیں کررہے تھے دوسری طرف عالمی میڈیا کی طرح بھارتی میڈیا نے بھی مسلسل ہڑتال سے پہلے اور ہڑتال کے روز اس خبر کو دبانے کی پوری کوشش کی ممتاز تجزیہ نگار ونود ملک نے خبریںکو بتایا کہ بھارت میں ہونیوالی اس ہڑتال کا مطلب ہے کہ بھارت کا اکثریتی طبقہ اس جمہوریت سے نفرت کرتا ہے جو انہیں روٹی روزی کا تحفظ دینے کے بجائے ان کے منہ سے روٹی چھین رہاہے بھارت میں جمہوریت کے نام پر جس طرح امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہورہا ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس وقت مودی کی حمایت صرف 11 فیصد رہ گئی ہے درحقیقت یہ ایک بغاوت ہے جو آنیوالے دنوںمیں انقلاب کی شکل اختیار کرنے جارہی ہے جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ انڈیا میں مختلف ٹریڈ یونینز کی کال پر کروڑوں مزدور اور سرکاری ملازمین ملک گیر ہڑتال پر ہیں جس سے بندرگاہیں اور بینکنگ سمیت کئی شعبے متاثر ہوئے ہیں۔اس ہڑتال کے لیے ملک کی 10 مختلف ٹریڈ یونینز نے کال دی تھی ۔
سرکاری بینکوں کے ملازم بھی اس ہڑتال کا حصہ تھے لیکن سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کے نظریات کی حامل محنت کشوں کی تنظیم بھارتی مزدور یونین ہڑتال میں شامل نہیں تھی ۔انڈیا کی حکومت معاشی اصلاحات کے تحت دوا سازی کی صنعت سے لے کر شہری ہوا بازی کے کئی اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی تیاریاں کر چکی ہے لیکن مزدور تنظیموں کو اس بات کا خوف ہے کہ ان شعبوں کی نج کاری سے بڑے پیمانے پر ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جا سکتا ہے ۔مودی کی حکومت اس ہڑتال کی مخالف تھی اور اس نے اسے روکنے کی کوشش بھی کی لیکن چونکہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے اس لیے ہڑتال کی گئی بھارتی جرید ہ مورچہ کے ایڈیٹر ستیش کمار کے مطابق آنیوالے دن بھارت میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے دن ہیں اس وقت بھارت کی 74 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جی رہی ہے جو مودی ہر سال ایک کروڑ بیروزگاروںکو روزگار کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے ان کے تیسرے سا ل تک پندرہ کروڑ لوگ مزید غربت کی لکیر سے نیچے گر چکے ہیں اور روزگار دینے کے بجائے انہوںنے محنت کشوںکی پہلی نوکریوںکو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے عالمی اداروں کے دباﺅ پر تیزی سے پرائیوٹائزیشن لبرلائزیشن اور کمرشلائزیشن کی جارہی ہے اس طرح 50 کروڑ سے زائد بھارتی مزدوروںکو نوکریوںسے نکالنے یا پھر انہیں کنٹریکٹ پر لیجانے کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے کسی سیاسی پارٹی کی قیاد ت کے متحرک نہ ہونے پر محنت کش خود سڑکوںپر نکل آئے ہیں اس کا ایک اور مطلب یہ بھی ہے کہ بھارت کی تمام سیاسی پارٹیاںامریکہ اور آئی ایم ایف کی ایجنٹ ہیں اور اب محنت کش ان پارٹیوںکے چہروں سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں انہوںنے کہاکہ حکومت نے اس ہڑتال کو روکنے کیلئے لالچ بھی دیا اور ہر طرح کا ریاستی دباﺅ بھی ڈالا مگر وہ محنت کشوںکو سڑکوںپر آنے سے نہیں روک سکی۔ انہوںنے کہا کہ یہ ہڑتال مودی حکومت کےخلاف ہی عدم اعتماد نہیں ہے بلکہ پورے نظام کےخلاف نفرت کا اظہار ہے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین کے صدر قمر الزماں خاں کے خیال میں اس ہڑتال کے برصغیر سمیت پوری دنیا پر اثرات مرتب ہوںگے بھارت کے اندر محض آٹھ فیصد مزدور لیبرتنظیموںکے اند رہیں اور تیزی سے اب مزدور تنظیموںمیں جارہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ آنیوالے دنوںمیں ہونیوالی ہڑتالیں اور احتجاج مودی کو کالر سے پکڑ کر اقتدار سے باہر پھینک دیں گے انہوںنے کہاکہ دو ستمبر کو پورے بھارت میں کسی سڑک پر کوئی پہیہ نہیں گھوما کوئی شٹر نہیں کھلا او رکروڑوںلوگوںنے پورے بھارت کو جام کر کے بڑے شہروںسے لیکر دیہاتوںتک حکمرانوںکےخلاف ایسا احتجاج کیا ہے جس نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے مگر یہ تاریخ اس وقت تک یادگار نہیں بن سکتی جب تک اسے ایک انقلابی قیادت کے ساتھ نہیںجوڑا جاتا جو بدقسمتی سے بھارت کے اندرموجود نہیں ہے ۔
گلوبل ریسرچ کی ایک رپورٹ میں کولن ٹوڈ ہنٹر نے لکھا ہے ۔ ”غربت کا مسئلہ ہندوستان میں بار بار اپنا سر اٹھاتا رہتا ہے ۔ پلاننگ کمیشن بار بار خط غربت کو تبدیل کرتا رہتا ہے ۔ ہندوستا ن میں خط غربت سے چھیڑ چھاڑ ایک اچھا مشغلہ بنا ہوا ہے ۔ ہندوستان کے بیہودہ حد تک امیر حکمران طبقات کے لیے غربت ایک ہزیمت بنی ہوئی ہے جو خلائی پروگرام، جدیدہتھیاروں، سپورٹس ٹا¶نز، شرح ترقی کے اعداد و شمار، فارمولا ون کے ریسنگ ٹریک اور بڑی عمارتوں کے ذریعے ہندوستان کو ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور دکھانا چاہتے ہیں“۔
تیس لاکھ خاندانوں، جو کل خاندانوں کی کل تعداد کا صرف 1.25 فیصد ہے ، کے پاس ایک لاکھ ڈالر سے زائد انویسٹبل فنڈز کی موجودگی کو پھر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ہندوستان دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی فہرست میں شامل ہے ۔ مودی نے شیخی بگھاری کہ ہندوستان کی شرح نمو 7.9 فیصد ہے جبکہ وہ یہ بات بھول گیا کہ غربت کے خاتمے کی شرح 0.8 فیصد ہے جس کا آبادی میں اضافے کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ منفی میں آتا ہے جو بیس سال پہلے بھی یہی تھا۔
یہ ہے وہ حقیقی صورتحال جسے بھارت کا ہر شہری اپنی آنکھوںسے دیکھ رہاہے مگر عالمی اور بھارتی میڈیا بھارت کے ایک فیصد سرمایہ داروںکے پاس بڑھتی ہوئی دولت کو بھارت کی ترقی قرار دے رہا ہے حالانکہ یہ ترقی اکثریتی عوام کے ایک بڑے حصے کو روزانہ غربت کی کھائی کے نیچے پھینکتی چلی جارہی ہے اس طبقاتی خلیج کا منطقی انجام محنت کش طبقے کی بغاوت اور بھارتی سرمایہ داروںکے ساتھ ساتھ ان کے گماشتہ حکمرانوںکے نظام کی تباہی پر منتج ہونے جارہا ہے اور آخری تجزیے میں بی جے پی کانگریس او ربائیں بازو کی بانجھ نظریات رکھنے والی پارٹیوںکو تباہی کا یہ عمل ہمیشہ کیلئے ماضی کاحصہ بنا دے گا۔٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved