تازہ تر ین

کالاباغ ڈیم سیاست کی نذر !

معین باری….توجہ طلب
”چیئرمین واپڈا ظفرمحمود نے استعفیٰ دے دیاہے جو وزیراعظم نے منظور کرلیا“ہے۔ ”ذرائع کے مطابق ظفرمحمود کی جانب سے گزشتہ چند ماہ سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لئے راہ ہموار کرنے کی مہم تیزی سے چلائی جارہی تھی جس پر کالاباغ ڈیم کے مخالف سیاسی حلقوں کی جانب سے حکومت پر دباﺅ تھا جو اس استعفیٰ کی اہم وجہ بنا ہے۔“
ماضی میں مضبوط قلعوں یا فوجوں کو شکست دینے کارگر طریق یہ تھا کہ حملہ آور ان کے رسد و رسائل منقطع دیتے۔ اس طرح محصورین بھوک و پیاس سے تنگ آکر سرنڈر کردیتے۔ چنگیز خان نے ملک چین دیوار چین کے محافظ کمانڈروں کو خرید کر فتح کیا۔ خلیفة المسلمین معتصم بااللہ نے ہلاکو خان سے دوستانہ مراسم قائم کئے اور تحائف بھیجتا رہا۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کی فوجیں اسلامی ممالک میں سروں کے مینار بنا رہی ہیں۔ پھر جو خلیفہ اس کے درباریوں اور اہل بغداد کا حشر ہوا وہ اب تاریخ بن چکا ہے۔
1968ءمیں ہمارے سیاستدانوں کی ایک فاش غلطی سقوط ڈھاکہ کی موجب بن گئی۔ وہ یہ تھی کہ 1968ءمیں شیخ مجیب الرحمان اور اس کے 34 ہمنواﺅں جن کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ رابطے تھے اور پاکستان دولخت کرنے کی سازش ہوچکی تھی۔ اس غدار کو سیاست دانوں نے ایوب خان پر دباﺅ ڈال کر جیل سے آزاد کرایا اور حکمرانوں نے اسے 6 پوائنٹ پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ اب ایسی فاش غلطیاں ہمارے حکمران اور سیاست دان دانستہ کررہے ہیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی شہ رگ کی تین رگیں (راوی۔ بیاس۔ ستلج) کٹ چکیں۔ جن تین رگوں (چناب‘ جہلم‘ سندھ) سے پچاس فیصد پانی کا نکاس ہورہا تھا۔ ان پر سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے ڈیم بنا لئے ہیں۔ دریائے سندھ کا پانی ٹنل کے ذریعے ڈائیورٹ کیا جارہا ہے۔ دریائے چناب پر بگھلیہار ڈیم آپریشنل ہوچکا ہے‘ جس کی اجازت پاکستان نے بخوشی دے دی۔ جہلم پر وولر بیراج مکمل ہوچکا ہے۔ شاید حکومت پاکستان اس پر بھی خیرسگالی کاگرین سگنل بھیج دے۔ بھارت میں 12 ڈیم دریائے چناب سے نکلنے والی نہروں پر بن چکے ہیں۔ بھارت چناب کا پانی ہماری ضرورت کے وقت روک لیتا ہے اور سیلابی ایام میں چھوڑ دیتا ہے۔
دریائے چناب پر چار نئے پراجیکٹ تیار ہوچکے ہیں جن کا نام 560MW-430 MW/ KiRU اور 320-KAWAR RATTLE ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ بھارت ستلج۔ راوی اور بیاس کی طرح ہمارے باقی تین دریاﺅں کو بھی مکمل ڈائیورٹ کرنے پر تلا ہے۔ جب دشمن دریاﺅں پر قبضہ جما کر پانی بند کردے۔ قومی سلامتی کو اس سے بڑا خطرہ کیا ہوسکتا ہے؟
پاکستانی حکومتوں نے بھارتی رعب میں آکر انہیں پاکستانی دریاﺅں پر ڈیم بنانے اور ٹنلوں کے ذریعے پانیوں کو ڈائیورٹ کرنے کی کھلی چھٹی دے دی۔ ہم ہیں کہ نہ اپنی رگ حیات کا تحفظ کرسکے اور نہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر آمادہ ہوئے جس کی تیاری پر اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں۔یہ جانتے ہوئے کہ بھارت ہمارے دریاﺅں کا پانی ڈیم بنا کر یا ڈائیورٹ کرکے جنگ لڑے بغیر ہمیں بھوک و ننگ سے مارنا چاہتا ہے۔
یہی تو چینی جرنیل سن زو کا سبق ہے کہ ”اصل فتح یہ ہے کہ دشمن سے لڑے بغیر اس کی قوت مدافعت ختم کردو“۔ اس وقت ہر محبت وطن اور ذی شعور پاکستانی کا یقین ہے کہ کالا باغ ڈیم ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ بھارت کی اعلانیہ جارحیت اور ہمارے حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے اگر ہمارے تین دریا راوی اور ستلج کی طرح گندے نالے بن گئے جوہڑ بن رہے ہیں تو ملکی زراعت کے ساتھ معیشت بھی تباہ ہو جائے گی۔
آبی ماہرمحمد سلیمان خاں لکھتے ہیں ”عدالت عظمیٰ نے انجینئرنگ سٹڈی فورم کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی رٹ کو جس طرح خارج کیا۔ کیا اس سے کوئی اچھا اثر ابھرتا ہے؟ بھارت میں درمیانے اور بڑے درجے کے تقریباً ساڑھے چار ہزار ڈیم بنائے گئے جن سے سستی بجلی فراہم کرکے نہ صرف صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی گئی بلکہ آبی ذخائر سے اپنی زمینوں کو سیراب کرکے اپنے خوردنی مسائل کو حل کیا۔
سلیمان خاں لکھتے ہیں ”پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت پر ہے۔ ہماری 90% صنعتوں کی بنیاد بھی زرعی خام مال پر ہے۔ ان دونوں صنعتوں کے لیے پانی اور سستی بجلی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ نیپرا رپورٹ 2010ءکے مطابق پن بجلی کے ذریعے 22 ارب یونٹ کی پیداواری لاگت صرف 16 پیسے فی یونٹ اس کے مقابلہ میں تیل سے بجلی پیدا کرنے کے لیے تقریباً 24 روپے فی یونٹ لاگت آتی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈیم کہاں بنائے جائیں۔ اس کے لیے دنیا بھر کے ماہرین نے کالا باغ ڈیم کو موسٹ فیورٹ قرار دیا ہے۔ کالا باغ ڈیم سے صرف بجلی کی قیمتوں میں چار ارب ڈالر سالانہ بچت ہوگی جبکہ قومی معیشت میں سالانہ 17 ارب ڈالر سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ 10 لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ چاروں صوبوں کی 50 لاکھ ایکڑ سے زیادہ بنجر زمین آباد ہوگی۔ہمارے ازلی دشمن نہیں چاہتے کہ کالا باغ ڈیم بنے۔
یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت کالا باغ ڈیم کی تعمیر روکنے کے لیے پاکستان میں اپنے ہمنوا سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کو اربوں روپے بانٹ چکا ہے۔
شمس الحق کے بعد ظفر محمود دوسرے واپڈا چیئرمین تھے جنہوں نے کالا باغ ڈیم کی فوری تعمیر کے لیے آواز اٹھائی۔ ظفر محمود نے ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے ڈیم کی تعمیر کو لازمی قرار دیا۔ اور اس موضوع پر ان کے مضامین مہینوں تک اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ ظفر محمود کی کالا باغ ڈیم کی ملکی سلامتی کے لیے فوری تعمیر کا شور پاکستان میں بھارتی سیاسی ہمنواﺅں کو پسند نہ آیا۔
حکمران بھی کیا کرتے وہ ملکی توانائی بحران پر قابو پا نہیں سکتے، آئندہ انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ اس میں ناکامی کے خوف سے سیاسی مخالفین کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوئے۔ لگتا ہے کالا باغ ڈیم اب سہانہ خواب ہی رہے گا مگر آبی ماہرین کی رائے کہ اگر کالا باغ ڈیم نہ بنا تو 2150 تک پاکستان کی زرعی زمینیں بنجر ہو جائیں گی، سن کر خوف آتا ہے۔٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved