تازہ تر ین

پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش شروع 14

ضیا شاہد
ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ مثال سامنے لائی جائے کہ اگر گجرانوالہ کا رہنے والا کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے مابین سرحد کو نہیں مانتا اور اس کے خیال میں بھارتی پنجاب کا شہری اس کا بھائی ہے اور یہ علاقہ اس کا وطن ہے، جبکہ پنجاب میں باہرسے آنے والے پٹھان، سندھی، بلوچ، یا وسط ہندوستان سے آنے والے اردو بولنے والے پاکستانی پنجاب میں مہاجر ہیں اور اگر وہ یہ دعویٰ کریں کہ پنجاب کی زمین کے نیچے جو معدنیات ہیں یازمین کے اوپر جو دو اڑھائی دریا باقی بچے ہیں ان کے پانی کو اور معدنیات کو صرف پنجاب کے لوگ استعمال کرسکتے ہیں اور اسی طرح پنجاب امیر ترین صوبہ بن سکتا ہے، اگر گجرانوالہ کا یہ باشندہ یہ دعویٰ بھی کرے کہ بھارتی پنجاب اور پاکستانی کو ملا کر گریٹر پنجاب بنادیا جائے تو کیا پاکستان کا کوئی شہری اسے تسلیم کرلے گا، اگر نہیں تو پھر غفار خان کے پوتے اور ولی خان کے بیٹے اسفند یار کو یہ حق کس آئین کے تحت دیا گیا ہے کہ اس اعلان پر قائم رہنے کا اظہار کرے کہ جو بجلی ان کا صوبہ پختونخوا پیدا کرتا ہے اس پر صرف انکا حق ہے، کیا اس دلیل کو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ کیا یہ پاکستانی آئین کی کھلم کھلا مخالفت نہیں، اگر آج تک کسی پنجابی، کسی سندھی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ آئین1973ءمیں طے شدہ امور سے بڑھ کر صوبہ اپنے جنگل، اپنی معدنیات، اپنا پانی اور اپنی بجلی پر قبضہ کرسکتا ہے تو کیا آئین کی رو سے وہ اعتراف نہیں کرتا، آج تک میں نے یہ نہیں سنا کہ واہگہ بارڈر فرنگیوں کی تقسیم ہے اور ہم اسے نہیں مانتے اور پنجاب کے دونوں حصوں کو ملا کرگریٹر پنجاب بنانا چاہتے ہیں، جناب کیا یہ سوچ اگر درست نہیں تو پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحد کو ختم کر کے آزاد پختونستان بنانے کی اسکیم کیسے آئینی ہوسکتی ہے اور یہ کہنا کہ پختونخوا کے تحت ہم صرف صوبے کے حقوق نہیں مانگ رہے، بلکہ مکمل خود مختار اور آزاد پختون ریاست کے علمبردار ہیں تو کیا آپ اسے تسلیم کرلیں گے؟کیا کہیں پاکستانی کا یہ کہنا کہ ” میں افغانی ہوں اور افغانی رہوں گا“ اس پس منظر میں کہ آپ کے آباو¿ اجداد پاک افغان سرحد کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرچکے ہوں، تسلیم کیاجاسکتا ہے،؟ اسفند یار ولی سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ جب آپ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی یا سینیٹ کی رکنیت کی امیدواری کا فارم بھرتے ہیں تو یہ نہیں لکھتے کہ آپ پاکستانی ہیں؟ اور کیا محض رکن اسمبلی یا سینیٹ بننے کیلئے خود کو پاکستانی قرار دینا باہر نکل کر نعرہ لگانا کہ آپ افغانی ہیں، آئین سے انحراف نہیں، ہماری وفاقی وزارت قانون سے بھی یہ درخواست ہے کہ وہ غفار خان اور ولی خان کے پس منظر کے ساتھ اسفند یار ولی کے اس اعلان پر غور فرمائیں اور اس سوال کا جواب دیں کہ کیا آئین کے آرٹیکل6 کے تحت اسفند یار پر مقدمہ نہیں بننا چاہئے، اور اسفند یار ولی اس بات کا بھی جواب دیں کہ کیا ان کے والد ولی خان صاحب نے ایک طرف آزاد پختونستان کیلئے سازش کی تھی تو دوسری طرف1973ءکے آئین پر دستخط بھی کِئے تھے، جناب آئین کا آرٹیکل1، دفعہ2 ، شق الف ملاحظہ ہوں،” پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگئے بلوچستان، شمال مغربی سرحد ( خیبر پختونخوا)، پنجاب، سندھ،
اسفند یار ولی ہوں یا محمود اچکزئی، کیا پاکستان میں رہنے والا کوئی شخص صوبہ پختونخوا اور افغانستان کے علاقوں کو ملا کر پختونستان کے قیام کا مطالبہ کرسکتا ہے اور کیا محمود اچکزئی صاحب آئین کے اس آرٹیکل کی روشنی میں خیبر پختونخوا کے اس صوبے کو افغانستان کا حصہ قرار دے سکتے ہیں، کوئی ہے جو اچکزئی صاحب سے پوچھے کہ تیری اُجلی چادر کے اندر پاکستانی آئین کے خلاف بُغض و عداوت کی گندگی کیوں موجود ہے کہ کسی پنجابی شاعر نے کیا خوب کہا تھا
” تیری بُکل دے وچ چور“
واضح رہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل238 کے مطابق اس میں تبدیلی کا طریقہ کار یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کسی قرارداد کو دو تہائی اکثریت سے منظور کریں، گویا صوبے کانام بدلنا ہو یا کوئی اور تبدیلی مقصود ہو صوبائی اسمبلی کی کسی قرار داد کی آئینی حیثیت نہیں ہے جب تک قومی اسمبلی اور سینیٹ اس کی منظوری نہ دے اِس کے باوجود اسفند یار ولی کے والد ولی خان کے یہ الفاظ ملا حظہ نام کی تبدیلی کے بارے میں
” اگر صوبائی اسمبلی کی قرار داد نہ مانی گئی تو ہمارا یہ راستہ اور تمہارا وہ راستہ“ صُوبہ پختونخوا میں ولی خان کے زمانے سے ہمیشہ یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ بجلی ہماری ہے پانی ہمارا ہے، ملک کو چھوڑیں بین الا قوامی طور پر مسلمہ قانون یہ ہے کہ کسی دریا کے زیریں حصہ میں بسنے والے لوگوں سے اس پانی کے استعمال کا حق نہیں چھینا جاسکتا،
جناب محترم آئین کے آرٹیکل6 کے یہ الفاظ بھی ملاحظہ کر لیجئے
” کوئی شخص جو طاقت کے استعمال یا دیگر غیر آئینی ذریعوں سے دستور توڑنے کی سازش کرے، سنگین غداری کا مرتکب ہوگا، کیا پاکستان میں رہنے والا کوئی شہری خود کو افغانی، ہندوستانی، ایرانی یا بنگلہ دیشی قرار دے سکتا ہے، پھر یہ اسفند یار ولی کیا آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہیںکیاان پر آئین کے آرٹیکل6 کے تحت مقدمہ نہ چلایا جائے“ آگے بڑھنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ابنِ انشاءجو ایک معروف شاعر، سفرنامہ نگار، اور ایک بڑے قومی اخبار کے مستقل کالم نویس تھے، ان کی ایک کتاب کا نام”اُردو کی آخری کتاب“ ہے، اس کتاب سے ایک خاکہ جسکا عنوان” ہمارا ملک“ ہے، ملا حظہ کیجئے۔
ایران میں ایرانی قوم رہتی ہے،
انگلستان میں کون رہتا ہے
انگلستان میں انگریز قوم رہتی ہے
فرانس میں کون رہتا ہے
فرانس میں فرانسیسی قوم رہتی ہے
یہ پاکستان ہے
اس میں پاکستانی قوم رہتی ہوگی
نہیں اس میں پاکستانی قوم نہیں رہتی
اس میں سندھی قوم رہتی ہے
اس میں پنجابی قوم رہتی ہے
اس میں بنگالی قوم رہتی ہے
اس میں یہ قوم رہتی ہے
اس میں وہ قوم رہتی ہے
( معاف کریں یہ مضمون لکھا گیا تو بنگالی قوم ہمارے ساتھ تھی اور ابھی پختون قوم، بلوچی قوم اور مہاجر قوم کے جھگڑے شروع نہیں ہوئے تھے)
لیکن پنجابی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں۔
سندھی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں۔
بنگالی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں۔
(ابنِ انشاءآج زندہ ہوتے تو یہاں بنگالیوں کا ذکر نہ کرتے البتہ یہ کہتے کہ پٹھان جو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں بلوچ تو ہندوستان میں بھی موجود ہیں‘ اردو بولنے والے مہاجر تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں)
آگے چل کر ابن انشاءکہتے ہیں
پھر یہ الگ ملک کیوں بنایا گیا۔
جواب ملاحظہ کیجئے۔
غلطی ہوگئی معاف کردیجئے۔
آئندہ نہیں بنائیں گے۔
پاکستان میں ایک قوم رہتی ہے یا چار قومیں‘ آج صورتحال یہ ہے کہ صوبہ پختونخوا میں جس کا نام صوبہ سرحد ہے اے این پی کی حکومت نے پختونخوا میں تبدیل کیا ہے۔ پختون قوم کی بات ہورہی ہے‘ کراچی میں جب سے ایم کیو ایم بنی ہے الطاف حسین مہاجر قوم کے لئے جنگ لڑ رہے تھے اور اس جنگ میں ”بھارت کی ایجنسی ”را“ اور اسرائیل سے مدد لینے“ ”پاکستان مردہ باد“ کے نعرے لگانے اور کراچی میں رینجرز کے سربراہ جنرل بلال کو قتل کی دھمکیاں دینے اور ان کی لاش بذام خود چوک میں کئی دنوں تک لٹکانے کی باتوں کے بعد فاروق ستار کی سربراہی میں ان کیخلاف (جھوٹی یا سچی) بغاوت ہوچکی ہے اور ایم کیو ایم جس کا نام پہلے ”مہاجر قومی موومنٹ“ تھا اور بعدازاں متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیا گیا‘ مہاجر قومیت کی دعویدار ہے البتہ آئینی پابندیوں سے بچنے کے لئے الطاف نے ایک فراڈ یہ کیا تھا کہ الیکشن میں ایک حصّہ حق پرست کا نام لیا گیا۔ ادھر سندھ میں قوم پرست ”جسے سندھ“ کے نام سے بھی کام کررہے ہیں اور ان کے مرحوم سربراہ جی ایم سید آزاد سندھ کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں پختون اور بلوچ آبادی کے الگ الگ حصے ہیں۔ پختونوں کے لیڈر بلوچستان میں سرحدی گاندھی عبدالصمد اچکزئی کے بیٹے محمود اچکزئی کی سربراہی میں سرگرم عمل ہیں اور بلوچستان کے پختون حصے کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ملا کر اسے گویا افغانستان کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ بلوچستان کے بلوچ ایریا سے بگٹی صاحب کے باغی بیٹے برہمداغ بگٹی کے علاوہ خان آف قلات لندن سے آزاد بلوچستان کا مطالبہ کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے پختون علاقوں کے اکثر سیاستدان یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ہمیں بلوچوں سے الگ قوم سمجھا جائے اور سرحد کو پختونستان کا نام دیا گیا ہے تو انہیں شمالی پختونخوا اور بلوچستان کے پختون ایریا کو جنوبی پختونخوا قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ بڑے صوبوں کو نئے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا تو ایک پرانی بات ہے اور دنیا میں بڑے صوبوں کی جگہ چھوٹے صوبے بنا کر مختلف ملکوں نے عوام کو انتظامی اور سیاسی حقوق دیئے ہیں تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب جو سب سے بڑا صوبہ ہے اسے تین حصوں یعنی لاہور‘ سرائیکستان اور بہاولپور میں تقسیم کرنے کے مطالبے قابل غور ہیں البتہ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ تقسیم بھی انتظامی نہیں بلکہ سرائیکی صوبہ نسل اور زبان کی بنیاد پر مانگا جارہا ہے اور 1997ءکے الیکشن کی رپورٹ میں جو سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن نے منظور کیں ان میں پاکستان سرائیکی تحریک اور سرائیکی نیشنل پارٹی بھی شامل ہے۔
پاکستان کے قیام سے پہلے آزادی کی جو تحریک چلی اور جس کی قیادت آخر میں مسلم لیگ کے سربراہ قائداعظم نے سنبھالی اس کا آغاز برصغیر میں مسلم سکالر جمال الدین افغانی کے نظریئے سے ہوا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں۔ علامہ اقبال نے مفکر پاکستان کی حیثیت سے خطبہ الٰہ آباد میں یہی فلسفہ پیش کیا۔ پاکستان کا نام اور ابتدائی خاکہ چودھری رحمت علی مرحوم نے وضع کیا تھا اور قائداعظم کی سرکردگی میں اسلامی جمہوریہ¿ پاکستان دنیا کے نقشے پر سامنے آیا۔ دو قومی نظریہ یعنی ہندو مسلم الگ الگ قومیں ہیں۔ وہ پاکستان کی بنیاد تھا۔ مشرقی پاکستان نے جسے بھارت کی مدد اور خفیہ ایجنسی ”را“ کی پشت پناہی حاصل تھی‘ اردو زبان کے خلاف تحریک سے قومیت کا آغاز کیا اور یہ تحریک بالآخر سقوطِ ڈھاکہ پر ختم ہوئی اور بنگلہ دیش کے قیام پر اندراگاندھی نے اعلان کیا تھا کہ ”ہم نے قائداعظم کا دو قومی نظریہ بحرہند میں غرق کردیا ہے۔“ کیا یہ ستم بالائے ستم نہیں کہ آج کے پاکستان میں پہلے صوبائی حقوق اور نسل اور رنگ کی بنیاد پر الگ ریاست کا تصور پیش کیا جاتا ہے جو قائداعظم کے دو قومی نظریئے کی کھلم کھلا تردید ہے اور پھر کم و پیش ہر صوبہ اور بعض صوبوں میں بسنے والے صرف زبان اور نسل کی بنیاد پر الگ ریاست کی بات کررہے ہیں الطاف حسین کی مہاجر ریاست ہو یا ”جئے سندھ“ تحریک کی سندھو دیش‘ بلوچستان کی بلوچ آبادی کا گریٹر بلوچستان کا تصور ہو یا بلوچستان کی پختون آبادی کا محمود اچکزئی کے ذریعے یہ نعرہ کہ ”ہمیں جنوبی پختونخوا اور پورے پختونخوا کو افغانستان کا حصہ سمجھا جائے۔“پختونخوا میں اے این پی کے صدر اسفند یارولی کا یہ دعویٰ کہ بقول ولی خان پختونستان صرف صوبے کا نام نہیں‘ پختون قوم کا وطن ہے اور اگر اسفند یار ولی جو ”افغانی پیدا ہوئے تھے اور افغانی مریں گے“ کے فلسفے کو پیش نظررکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قائداعظم کے دو قومی نظریئے کے بجائے پانچ یا چھ آزاد ریاستوں کا تصور ہے جو بھارت کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے جس کے لئے اس نے ساری عمر غفار خان اور ولی خان کا ساتھ دیا۔ بلوچستان میں سرحدی گاندھی عبدالصمد اچکزئی کو آگے بڑھایا‘ کراچی میں الطاف حسین کی کھل کر حمایت کی اور بدلے میں الطاف حسین آئے دن ”را“ سے مدد مانگ رہے ہیں۔کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے بھارت نے بلوچستان کے حقوق کا نعرہ لگایا اور بلوچستان کا بلوچ آبادی کے باغی لیڈر جو سوئٹزرلینڈ اور لندن میں مقیم ہیں ان کی بھرپور سیاسی اور مالی مدد کررہا ہے اس لئے آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ پاکستان صرف پاک فوج کے ذریعے ہمیشہ کے لئے قائم نہیں رکھا جاسکتا بلکہ ہمیں دوبارہ نسل اور زبان کے بجائے صرف ہندو اور مسلمان کی تقسیم پر مشتمل دو قومی نظریئے کو اپنانا ہوگا۔ لیکن ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بلوچستان میں بھارت کی مدد سے علیحدگی پسندوں پر ایک نظر ڈالی جائے اور کراچی کے سب سے بڑے علیحدگی پسند الطاف حسین کی حرکتوں کا جائزہ لیا جائے تب ہی ہم قائداعظم کے اس فرمان پر عمل کرسکیں گے کہ ”پاکستانی قوم ہوگی اور کوئی سندھی‘ پنجابی‘ پختون‘ بلوچ یا بنگالی نہیں ہوگا“ کاش ہم قائداعظم کے اس فرمان کو سینے سے لگائے رکھتے تاکہ ہمارے درمیان انتشار کی وہ کیفیت پیدا نہ ہوتی جو آج ہر طرف نظر آرہی ہے اور جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved