تازہ تر ین

دھرنوں سے حکومت ختم ہوجائے گی؟

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
ایک وقت تھا کہ ”ظالمو! قاضی آرہا ہے“ کا نعرہ ہر طرف گونجا کرتا تھا۔ قاضی حسین احمد ایک نہایت ہی متحرک اور اور نڈر قسم کے امیر جماعت اسلامی تھے۔ ان کے وقت یہ نعرہ بڑے بڑے ظالمو اور قبضہ گروپوں کی نیندیں اڑا دیا کرتا تھا۔ آج کل بھی میڈیا میں ”ظالما“ کے نام سے ایک اور گانا نما چیز چل رہی ہے مگر وہ تو کوکاکولا بنانے والی مشروب ساز کمپنی کا ہے کہ ”ظالما! کوکاکولا پلا دے“ اس نعرے کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ بہرحال ظالمو! قاضی آرہا ہے کے نعرہ نے کچھ رنگ جمایا تو قاضی صاحب جیسے مخلص مجاہد کو بھی یہ بات کچھ زیادہ پسند آگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس مخلص اور سادہ لوح پٹھان نے اپنے اس نعرے کو ”دھرنے“ میں صبح‘ شام بدل دیا۔ اس طرح روزانہ قاضی صاحب اسلام آباد اور لاہور کی طرح مختلف شہروں میں اپنے شباب ملی کے نوجوانوں کے ساتھ دھرنے دینے لگ پڑے اور اس طور پر میڈیا پر بھی چھائے رہے بلکہ تواتر سے چھپنے بھی لگے۔ قاضی حسین احمد کے دھرنوں نے ملکی سیاست میں اپنا اثر دکھانا شروع کیا تو ان کی دیکھا دیکھی کچھ تانگہ نما پارٹی لیڈر بھی دھرنے دینے شروع ہوگئے کہ اس طرح ان کی پذیرائی ان کے سیاسی قد سے کہیں بلند نظر آتی تھی۔ رفتہ رفتہ مقامی پولیس اور معاشرے میں جب دھرنا روٹین شروع ہوگئی تو ایسے احتجاجوں کا سیاسی رنگ بھی پھیکا پڑنا شروع ہوگیا اور ان میں پہلی سی کاٹ نہ رہی۔ وہ پرانے وقتوں کے جلسے‘ جلوس تھے یا قاضی صاحب کے دھرنے احتجاج‘ ملکی معاشرے کو جب ان کی عادت سی ہوگئی تو پھر کچھ افلاطونوں نے اپنی آواز کو بلند رکھنے کے لئے ”لانگ مارچ“ کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ گزرے دس پندرہ برسوں میں لانگ مارچ اور بالخصوص اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کرنا یا اس کی دھمکی دینے کا رواج عروج پر رہا۔ تاثر یہ دیا جاتا رہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو عوامی قوت کے بل بوتے پر اسلام آباد کے دارالحکومت کو مفلوج کرکے حکمرانوں سے مطالبات منوائے جائیں گے۔ عموماً یہ دھمکی کارگر رہتی تھی اور خوف فساد خلق سے اکثر حکومتیں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی طرف متوجہ ہوجاتی تھیں۔ لانگ مارچ کی احتجاجی سیاست کا آخری کامیاب نتیجہ وکلاءاور سول سوسائٹی کے اس احتجاج پر تب کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی بحالی کی صورت میں نکلا تھا جبکہ گاڑیوں کا احتجاجی کارواں لاہور سے گوجرانوالہ پہنچا تھا۔ اگرچہ وہ نام نہاد لانگ مارچ نہایت ہی کمزوری سے عبارت تھا مگر اس کو آرمی چیف کی بروقت مداخلت نے نتیجہ خیز بنا دیا تھا۔ چیف جسٹس کی بحالی کا اعلان ہوگیا اور سیاست دانوں کی عزت سادات بھی محفوظ رہ گئی۔ ہمارے خیال میں ایسے جج کی بحالی‘ لانگ مارچ قماش کی سیاست کا عروج کا واقعہ تھا جو کہ بعد میں اس کے حصے میں کبھی نہ آیا۔ یہ ایسی ہی کامیابی کا نتیجہ تھا کہ آنے والے دنوں میں تمام چھوٹے موٹے سیاستدان بلکہ کچھ سیاسی بونے بھی حکومتوں سے مطالبات منوانے کے لئے اسلام آباد پر لانگ مارچ کرنے کی دھمکیاں دینے لگ پڑے تھے۔ کہتے ہیں کہ ہر چیز کی آخر کوئی حد ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حد ہی تھی کہ آج ادھر انتخابات مکمل ہوئے تو عین اگلے ہی روز سے ہارنے والے لانگ مارچ کرنے کی دھمکیاں دینے شروع ہوگئے۔ اب کوئی عقل کا اندھا ان ہارنے والوں سے پوچھے کہ کیا جیتنے والی پارٹی حکومت میں تھی کہ وہ دھاندلی سے جیت گئی؟ اور اگر وہ حکومت میں نہ ہونے کے باوجود بھی دھاندلی کرکے جیت گئے ہیں تو ”ہارنے والے“ بھی اسی میدان میں دوڑ رہے تھے‘ وہ بھی دھاندلی کرلیتے اور جیت جاتے۔ دوڑ کا میدان جب سب کے لئے برابر لگا تھا تو پھر گلے کی رگیں پھلا پھلا کر دھاندلی دھاندلی کا شور کیسا؟ جس میں ہمت تھی وہ جیت گیا اور یہ ”ہمت“ اپنے لئے کوئی بھی کرنے میں آزاد تھا۔ رہ گئی انتخابی اخلاقیات‘ تو وہ بھی اس معاشرے سے ہی ڈیمانڈ کی جاسکتی ہے‘ جس میں کہ ایسی اخلاقیات اور قدریں موجود ہوں۔ وگرنہ ”روم شہر میں آپ بھی ویسے ہی رہیں جیسے کہ رومن وہاں رہتے ہیں۔“ ہوسکتا ہے کہ ہزاروں برس پہلے سے موجود رومیوں والی یہ ضرب المثل کہاوت بہترین اخلاقی کسوٹی پر پوری نہ اترے مگر یہ ظاہر ہے کہ یہ انسان کو کسی بھی معاشرے سے بے جا مطالبات منوانے کے مقابلے میں پہلے پہل اسی معاشرے میں رچی بسی روایات سے سمجھوتہ نہ کرکے زندگی گزارنے کی تلقین کرتی ہے اور یہ تلقین آج بھی کچھ ایسی بے جا نہیں۔
بہرحال جب حکمرانوں نے دھاندلی دھاندلی کی مالا جپنے والوں کی بات کو توجہ سے نہ سنا تو درجواب آں غزل کے طور پر انہوں نے بھی ابتدائی سال کے اندر ہی لانگ مارچ کرنے کا نعرہ لگا دیا کہ یہی ہمارا سیاسی فیشن اور رواج بن چکا تھا۔ اس رواج میں مذہبی رنگ بھرنے کے لئے بیرون ملک سے ایک ”مولانا“ بھی امپورٹ ہوئے جن کی کوشش بسیار سے چند لاشیں بھی مہیا کردی گئیں۔ خیال تھا کہ ایک ایسا لانگ مارچ جس کو کہ بھرپور نعرہ دھاندلی‘ مذہبی عصبیت اور لاشوں جیسے نگینوں سے جڑ دیا گیا ہو‘ وہ کیونکر فوری کامیاب نہیں ہوگا؟ مگر اسی اثنا میں پاکستان کی سیاست اور بالخصوص قومی افواج بھی ماضی کے تجربوں سے کافی ”میچور“ ہوچکی تھیں۔ ملکی سیاست میں پہلی بار متواتر دو منتخب اسمبلیوں نے اپنا اپنا آئینی عرصہ نہ صرف پورا کیا تھا بلکہ ایک شفاف جمہوری انداز میں کامیابی سے انتقال اقتدار بھی ہوچکا تھا۔ پاکستانی سیاست میں اب اس قدر پختگی آچکی تھی کہ ایک کامیاب سیاسی انداز میں ایوان صدر اسلام آباد سے ایک فوجی آمر کو بھی خوبصورتی سے رخصت کردیاگیا تھا۔ اسی فوجی آمر کی کرسی پر پہلے سیاست کے واسطے سے ہی آصف علی زرداری اور اب ممنون حسین بیٹھے ہیں۔ مگر 2013ءکے انتخابات کے اگلے ہی برس پاکستان کی کوتاہ نظر اپوزیشن اور بدخواہ غیرملکی مداخلت کار اس حقیقت کو پرکھنے میں قطعی ناکام رہے‘ سو نتیجہ کیا نکلا؟دوران مارچ/دھرنا گاہے بگاہے قبریں بھی کھودی گئیں اور کفن بھی لہرائے گئے مگر دن رات گزرتے گئے اور ایک عدیم المثال میڈیا کوریج بھی اس احتجاج کو متواتر ملا مگر آخر میں ناکامی ہی مقدر بنی کہ ملکی پارلیمان نے پختگی سیاست میں اس لانگ مارچ کو عوامی غیض و غضب کی لہر بننے سے روک دیا تھا۔
آج 2016ءچل رہا ہے‘ منتخب اسمبلی نے اپنا زیادہ عرصہ مکمل کرلیا ہے۔ پاکستانی سیاست جو کہ جلسے‘ جلوسوں اور دھرنے‘ احتجاجوں سے ہوتی ہوئی لانگ مارچی ماحول (SYNDROME) سے اب بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب اپنے آئینی عرصے کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہے اور جاری جمہوریت کا یہی ایک بنیادی مقصد ہونا چاہئے کہ اسمبلیوں کو ان کا آئینی عرصہ پورا کرنے کا موقع ملے۔ ووٹر کو اپنے ڈالے گئے اچھے یا برے ووٹ کے فیصلے کو پانچ برس بھگتنا چاہئے۔ پانچ برس کے عرصے میں کوئی مارشل لاءرکاوٹ ڈالے یا کوئی سیاستدان‘ عوام پاکستان کو ان کو دھتکار کر رکھ دینا چاہئے۔ ہاں مگر جب پانچ برس پورے ہوجائیں تو پھر انہی عوام کو نہ صرف آنکھیں کھول کر اپنا ووٹ صحیح رہنماﺅں کے حوالے کرنا چاہئے بلکہ ہر اس بیلٹ باکس کی بھی رکھوالی گنتی ہونے تک عوام ہی کریں جس میں کہ وہ اپنی ”قیمتی رائے“ ڈالتے ہیں تاکہ کوئی بھی اندرونی یا بیرونی سازشی ان کے ووٹ کو اچک نہ لے جاسکیں۔
جہاں تک ہر روز‘ ہر بات پر احتجاجی کالیں دینے کا رواج ہے‘ تو ملکی سیاست میں آنے والے دنوں میں ایسے طالع آزما بھی اسی طرح سے ناکام و نامراد ہونے کو ہیں جیسے کہ پہلے والے دھرنے اور لانگ مارچ ناکام نامراد ہوچکے ہیں مگر اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ حکومتی خطاکاریوں کی نشاندہی نہ ہو۔ حکومت کے سامنے اگر تگڑی اپوزیشن نہ ہو توکچھ حکمران خزانہ پاکستان کیا‘ ملک کے درختوں کے پتے بھی چوری کرکے بیچ دیں اور سرمایہ پانامہ‘ دبئی اور لندن لے جائیں۔ ایسے دوزخی شکم پرستوں کے سامنے ایک متحرک اپوزیشن کا رہنا‘ عوام پاکستان کے حق میں اللہ کی رحمت ہی ہوگی جو کہ اس وقت بھی وطن عزیز میں موجود ہے۔٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved