تازہ تر ین

”جانان“پختونوں کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کوزائل کرنے میں کامیاب

لاہور(کلچرل رپورٹر)عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلموں میں ”جانان “ نے توقعات سے بڑھ کر بزنس کیا ہے کیونکہ اسے ہر طبقے نے بہت پسندکیا ہے حالانکہ ریلیز سے قبل ناقدین اس فلم کو کسی کھاتے میں نہیںڈال رہے تھے کیونکہ اس کے مقابلے میں دو بڑی پروڈکشن کی فلمیں پیش کی جارہی تھیں۔ اس فلم بارے صرف اتنا معلوم تھا کہ یہ چندنئے لوگوں نے بنائی ہے جس کا مقصد پختونوں کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کو زائل کرنا ہے۔فلم کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ اسے ریحام خان نے پروڈیوسر کیا لیکن فلم کے کریڈٹ میں حریم فاروق ،منیر حسین اور آئی آرکے یعنی علی رحمن خان فلمز لکھا ہوا تھا ۔فلم کے شروع ہوتے ہی دو نام سامنے آئے جو عثمان خالد بٹ اور اظفر جعفری کے تھے فلم کے ڈائریکٹر ہیں۔ اکثرلوگ ان ناموں سے ناواقف ہوں گے لیکن ان دونوں نے تین سال پہلے ایک ہارر فلم ’سیاہ‘ کے عنوان سے بنائی تھیجو بہت ہی کم بجٹ سے بنای گئی تھی اس لیے اس کی پروڈکشن کوالٹی کمزور تھی لیکن ”جانان “کے پہلے شاٹ سے ہی یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اس دفعہ پروڈکشن کوالٹی بہت بہتر ہے۔فلم کی کہانی سرسری طور پر انتہائی سیدھی سادی ہے۔ مینا (ارمینا خان) جو کینیڈا میں رہتی ہے، گیارہ سال بعد اپنے آبائی گھر اپنی کزن پلوشہ (ہانیہ عامر) کی شادی کے سلسلے میں واپس آتی ہے۔ اس کا آبائی گھر سوات میں ہے اور اس کو تھوڑی بہت تشویش تو ہے کہ وہ اب روایتی طور طریقے کیسے نبھائے گی، کیسا لباس پہنے گی اور اس بارے میں پاکستان آنے سے پہلے اس کی کینیڈیں دوست مذاق بھی کرتے ہیں۔تاہم اس کا خاندان کافی امیراور روشن خیال ہے اور جلد ہی یہ سب پریشانیاں اس کے ذہن سے دور چلی جاتی ہیں اور وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دو خوش شکل کزن لڑکے بھی اس کے اردگرد ہیں۔ جن میں سے ایک، دانیال (علی رحمان خان)، اس کو دیکھتے ہی اس پر فدا ہو جاتا ہے اور دوسرا، اسفندیار (بلال اشرف) مینا کو اچھا لگنے لگتا ہے۔مینا دانیال کی شعبدہ بازی پر مبنی حرکتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی لیکن دوسری طرف اسفندیار انتہائی کم گو ہے اور اپنے جذبات کو دبائے رکھتا ہے۔ اسفندیار کی ساری توجہ ا±س سکول پر ہے جو وہ علاقے کے یتیم اور غریب بچوں کے لیے چلاتا ہے۔ یہ سکول آگے جا کر کہانی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔دوسری طرف اس خاندان کی لڑکی پلوشہ کی شادی اس کی اپنی پسند سے ایک پنجابی لڑکے (عثمان مختار) سے ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے اس کے پختون گھرانے میں ویسے ہی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ دوسری طرف ہنسی مذاق کا یہ ماحول یکدم تبدیل ہو جاتا ہے جب کچھ اہم حقائق سب کے سامنے فاش ہو جاتے ہیں۔ ا±ن سے خاندان میں بھی ٹو±ٹ پھو±ٹ ہوتی ہے اور کئی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ یہ بات نہیں کہ ”جانان“ میں کوئی جھول نہیں ہے بلکہ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ناقابل فہم ہیں۔ اسفندیار باقی سب کے بر عکس اتنا کم گو اور سنجیدہ کیوں ہے، اس کی وجہ کبھی سمجھ میں نہیں آتی۔ اور اس کی سازشی چچی آخر میں اپنے تیور کیوں بدل لیتی ہیں، یہ بات بھی مطمئن نہیں کرتی۔ وِلن کا انجام بھی کچھ جلد بازی کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن فلم میں اتنا ڈرامہ ہے کہ یہ فلم بینوں کی دلچسپی برقرار رکھتی ہے اور اس کے کردار مجموعی طور پر ایسے بھرپور طریقے سے لکھے گئے ہیں کہ ہمیں آخر تک تجسّس رہتا ہے کہ ا±ن کے ساتھ کیا ہو گا۔سپورٹنگکرداروں میں پشتو فلموں کے تجربہ کار فلمساز عجب گ±ل، جو پلوشہ اور اسفندیار کے والد کا کردار ادا کرتے ہیں، اور ہانیہ عامر اپنے کرداروں کو اچھی طرح نبھاتے ہیں جبکہ نیّر اعجاز نے‘جو علاقے کی بااثر شخصیت اکرام الل±ہ کا کردار ادا کرتے ہیں، ہمیشہ کی طرح ٹھوس پرفارمنس دی ہے۔ویسے اس فلم میںاگر کسی اداکار نے بہترین پرفارم کیا ہے تو وہ علی رحمان خان ہیں۔ ا±ن کا کردار ایک دل کے اچھے لیکن شعبدہ باز لڑکے کا ہے جس کیشکل دیکھتے ہی سب ہنس پڑتے ہیں۔ اگر ’جانان‘ کی اداکاری میں بڑی کمی ہے تو وہ بلال اشرف کی طرف سے محسوس ہوتی ہے۔ بلال دیکھنے میں ہیرو لگتے ہیں لیکن ابھی انہیں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔پوری فلم میں اسفندیار کے مشکل سے ڈیڑھ تاثرات سکرین پر نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر وہ غصّے میں ہی دکھائی دیتا ہے۔ فلمکی موسیقی احمد علی، طحٰہ ملک اور سلیم سلیمان کی م±شترکہ کاوش ہے۔ وہ نہ تو کانوں کو ب±ری لگتی ہے نہ ہی کوئی خاص اثر چھوڑتی ہے۔ گانے فلم میں کم کم ہی ہیں اور اس میں کوئی ایسا موقع نہیں ہے جہاں گانا زبردستی ٹھونسا گیا ہو۔رانا کامران کی عکاسی ایک بار پھر اعلیٰ درجہ کی ہے۔ لیکن ایک بات شدت سے محسوس کی گئی فلم کی سوات کی اصل اور قدرتی خوبصورت مکمل طور پر نہیں دکھائی گئی۔ اکثر آﺅٹ ڈور مناظر یہ واضح ہورہا ہے کہ ان کی شوٹنگ اسلام آباد یا کسی اور جگہ کی گئی جبکہ ان ڈور مناظر کے دوران بھی بیک گراﺅنڈ میں سوات کے پہاڑوں کی بجائے اور لوکیشن واضح محسوس ہوتی ہے۔فلم میں پہلی بار کام کرنے والی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی اپنی پرفارمنس سے شائقین کو بہت متاثر کیا ہے جبکہ فلم کا میوزک کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں ناکام رہا ہے ۔فلم کا ٹائٹل سانگ ”جانان“بارباربیک گراﺅنڈ میں چلایا جاتا ہے۔ فلم میں جہاں پختون کلچر کے مثبت پہلو دکھائے گئے ہیں وہیں پر کچھ اہم اور منفی باتوں کی عکاسی بھی کی گئی ہے جنہیں اکثر شائقین نے ناپسند کیا ہے۔فلم کی ہیروئین کا بیک گراﺅنڈ اگرچہ پختون ہے لیکن اسے پشتو بالکل نہیں آتی ۔ دوسرے فنکاروں کے ساتھ ساتھ نیئر اعجاز کی پرفارمنس بہت متاثر کن ہے ۔پاکستان کے علاوہ اس فلم کو بیرون ملک بھی ریلیز کیا گیا ہے جہاں دوسرے شائقین کے ساتھ ساتھ پشتو بولنے اور سمجھنے والوں نے بہت پسند کیا ہے۔البتہ فلم میں یہ بات شدت سے محسوس کی گئی کہ زیادہ تر مناظر میں تمام فنکاروں نے کرداروں کی مناسبت سے میک اپ بہت زیادہ کیا ہواتھا۔جبکہ فلم کی شوٹنگ چند لوکیشنز پر ہی مکمل کرلی گئی تھی۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved