تازہ تر ین

لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ ،دشمن کی چوکیاں تباہ

راولپنڈی(ویب ڈیسک)پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب آزاد کشمیر میں بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کے سرجیکل اسٹرائیک کی سختی سے تردید کی ہے۔پاکستان نے جوابی کاروائی میں بھارت کا جانی نقصان کے ساتھ ساتھ 3اہم پوسٹیں بھی تباہ کر دی گئیں ،بھارت کا سپلائی روٹ تباہ کر دیا گیا ۔پاکستان نے آئندہ بھی بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہے ۔عسکری ذرائع کے مطابق بھارت کو جانی نقصان بھی اُٹھا نا پڑا ہے ،بھارت کا مین سپلائی روٹ بھی تباہ کر دیا گیا ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ”آئی ایس پی آر“ نے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیک کے بھارتی دعوو¿ں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کوئی سرجیکل اسٹرائیک نہیں کی گئی بلکہ بھارتی فوج نے ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی جس کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کا بلااشتعال فائرنگ کوسرجیکل اسٹرائیک قراردینا سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے، بھارت کی جانب سے مشتبہ حملہ آوروں کے لانچ پیڈ کا ذکر بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ پاکستانی سرزمین پرسرجیکل اسٹرائیک کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نےنجی نیوزچینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کا دعوٰی بالکل غلط ہے، بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ اپنی عوام کو تسلی دینے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے، مستقبل میں بھی اگر بھارت نے ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، پاک فوج سرحدوں پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے۔

نئی دلی(ویب ڈیسک) بھارت کے ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا دعویٰ کیا ہے۔بھارت کے ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ کا بھارتی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان پر روایتی الزام تراشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ہمیں اطلاع ملی کی لائن آف کنٹرول پر آزاد کشمیر کی جانب سے کچھ تخریب کاروں نے جموں وکشمیر میں داخل ہو کر بھارتی فوج پر حملہ کرنے کے لئے پوزیشنیں لے رکھی ہیں جس پر بھارتی فوج کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فورسز کے آپریشن میں اہم ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جس میں در انداز اور ان کے سہولت کار بھی شامل ہیں۔بھارت کے ڈی جی ایم او کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساری صورت حال سے اپنے پاکستانی ہم منصب کو آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ مستقبل میں بھارت کا اس قسم کا آپریشن جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن بھارتی افواج سرحدی صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن نہیں بلکہ کراس بارڈر فائرنگ تھی جس کا اسی طرح بھرپور جواب دیا گیا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved