تازہ تر ین

دماغی صحت کا دن

ڈاکٹر نوشین عمران
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دنیا بھر میں 10 اکتوبر 2016ءکو دماغی صحت کا دن منایا جا رہا ہے۔ ذہنی دباﺅ، نفسیاتی مسائل، الجھنیں، ان سے بچاﺅ، انہیں ختم کرنے کے طریقے اور اس حوالے سے آگاہی کے لئے سال میں ایک بار یہ دن منایا جاتا ہے۔
نفسیاتی امراض میں سے عام ڈیپریشن کا مرض ہے۔ انسان اکثر اوقات مایوسی، بے یقینی، بیزاری کا شکار ہو جاتا ہے۔ عموماً یہ کیفیت دو سے چار ہفتے میں دور ہو جاتی ہے۔ کبھی اس کی کوئی وجہ ہوتی اور کبھی بغیر کسی خاص وجہ ڈیپریشن ہو جاتی ہے۔ اسے طبی طور پر مرض تب قرار دیا جاتا ہے جب یہ بہت عرصہ رہے اور ختم ہونے کا کوئی آثار نہ ہو، اس کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ روزمرہ کام کاج اور شخصیات متاثر ہونے لگیں۔
اینزائٹی نیوروس یعنی خوف،ڈر کی کیفیت جسے مریض خود بھی سمجھتا اور جانتا ہے لیکن اسے روکنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اس کی شدت پندرہ سے چالیس سال کے درمیان ہوتی ہے۔ کئی افراد ایک انجانے خوف کے باعث خود کو کسی خاص علامت کا شکار سمجھنے لگتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ان میں وہ علامت واقعی شروع ہو جاتی ہے جیسا کہ سردرد، جسم درد یا اس طرح کا کوئی بھی مسئلہ وہ بار بار ایک انجانے خوف کے باعث ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں لیکن مرض کی وہ وجہ نہیں ملتی۔ کچھ لوگ ہر امتحان یا انٹرویو سے پہلے پیٹ درد، بخار، دست کا شکار ہو جاتے ہیں۔
شیزوفرینیا ایسی ذہنی بیماری ہے جس میں انسان ایسی چیزیں دیکھنے اور سننے لگتا ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ ایسے میں مریض بے تکی باتیں، جھوٹی باتیں، عجیب برتاﺅ کرنے لگتا ہے۔ اکثر مریضوں کی عمریں سترہ سے تیس سال کے درمیان ہوتی ہیں۔
مالیخولیا یا میلنکولیا میں مریض شدید خوف میں مبتلا ہو کر عجیب و غریب اور بعض اوقات پاگلوں جیسی حرکتیں کرنے لگتا ہے۔
بائی پولرڈس آرڈر میں موڈ بھی حد سے زیادہ حوشگوار اور اس میں بہت تیزی اور گرمجوشی ہوتی ہے اور کبھی بے حد اداس غمزدہ ہو جاتا ہے۔ اس مرض کا تعلق ماحول سے زیادہ وراثت سے ہے یعنی خاندان میں نسل در نسل ہو سکتا ہے۔
او سی ڈی یعنی ایک ہی خیال بار بار آنا چاہے اس کی وجہ ہو یا نہ ہو۔ جیسا کہ بار بار گننا، ہاتھ دھونا، کسی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ محسوس کرنا، وہم کرنا، پرتشدد خیالات آنا، کسی کو مار دینے کا خیال آنا یا مر جانے کا وہم ہو جانے، ایسے لوگوں میں سے اکثریت کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال غلط ہیں لیکن وہ انہیں روکنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ او سی ڈی تقریباً دو سے تین فیصد لوگوں کو ہوتا ہے۔ اکثر ذہنی دباﺅ، حالات میں تبدیلی، جلد گھبرا جانا۔
ذہنی یا نفسیاتی بیمار کی کوئی نہ کوئی قسم ہر گھر میں ہوتی ہے۔ ہر گھر میں نفسیاتی مسائل کا شکار کوئی نہ کوئی شخص یا مریض ضرور ہوتا ہے چاہے اس کی شدت کم ہو یا زیادہ۔ اگر آپ خود کو یا اپنے اردگرد ایسے کسی شخص کو دیکھیں تو اسے اکیلا کرنے یا مذاق کا نشانہ بنانے کی بجائے سائیکو تھراپسٹ سے رجوع کریں۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved