تازہ تر ین

اب فیصلہ ہوجانا چاہیے!

حلیم عادل شیخ …. گردش دہر
حکومت کی تو یہ کوشش ہے کہ لوگ متنازعہ خبر کے ایشو کواب ہی بھول جائیں اور پہلے کی طرح اپنے معاملات کو آگے کی طرف چلایا جائے،اس ایشو پر حکومت چونکہ اپنے بہت سے چہیتوں کو بچانا چاہتی ہے جو اس خبر کو بنانے اور اس کو پھیلانے کے ذمہ دار ہیں،بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت کے متحرک ترین وزراءکی شہرت یہ ہے کہ جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ فوج پر تنقید کرنا شروع کردیتے ہیں اور اس طرح وہ وزیراعظم کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کھیل میں کبھی کبھی کچھ بیوروکریٹس بھی شامل ہوجاتے ہیں جن کے مقاصد بہرحال سیاسی تو نہیں ہوتے لیکن ان کی نیت اور نظریں بڑے بڑے عہدوں اور شاہی مراعات پر ٹکی ہوتی ہیں جو یہ حکومتی وزیروں اور وزیراعظم کو خوش کرکے حاصل کرتے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جن کا کام نہ صرف فوج کےخلاف پراپیگنڈہ کرنا ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ وزیراعظم کے نام کی ڈفلی بجانا ہوتاہے۔ اس نیوز لیک کے معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ اعلیٰ ترین سطح کے اجلاس ہوتے ہیں اورجو بھی بات چیت ہوتی ہے اس کا باہر جانا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی نفی تصور کیا جاتا ہے، ایسے لوگوں کو سزائیں مل سکتی ہیں جو اس طرح کے کام کرتے ہیں یا حساس معاملات کو لیک کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ یہ خبر جھوٹی تھی تو پھر حکومت کا یہ جرم دوگنا ہوجاتاہے یعنی جھوٹ بول کر فوج کےخلاف پراپیگنڈہ کرنااور اسے اندرونی کہانی قرار دینا اس سارے معاملے میں اخباری نمائندہ تو صرف کوریئر کا کام کررہاہوتاہے،جس نے اپنی شہرت اور حکام بالا سے تعلقات بڑھانے کےلئے یہ حرکت کی۔ مگر اس ساری صورتحال میں اصل مجرم وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ جھوٹی یا سچی خبر گھڑی اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر ایک اخباری نمائندے کو استعمال کیا،مطلب ایک طرف فوج کےخلاف محاز کھولا!جھوٹی خبر بنائی اور ایک اخبار کے نمائندے کو اقتدار کی جھلک سے مرعوب کرکے استعمال کیااس سارے معاملے میں مقصد صرف اور صرف وزیراعظم کو خوش کرنا ہے، میری نظر میں اس خبر کا کچھ نہ کچھ سایہ وزیراعظم پر بھی پڑتاہے جو خود بھی ان منفی رحجانات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اگر ایسا نہیں ہے یا میں جھوٹ لکھ رہاہوں تو آپ ان کے حکومتی وزراءکی بیشتر فوج مخالف بیانات کی ویڈیوز دیکھ لیں کہ یہ کس کس انداز میں فوج کےخلاف پراپیگنڈہ کرتے رہے جبکہ مجھے کوئی ایک ایسی ویڈیو بھی دکھا دیجئے جس میں وزیراعظم نے ایسے بیانات کو دینے سے اپنے وزراءکو کبھی روکا ہو؟
فی الحال ہم پانامہ لیکس کی جانب آتے ہیںاس وقت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ پانامہ لیکس کیس کی سماعت کررہاہے،تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید نے وزیراعظم کو نااہل قرار دلوانے کےلئے اپنے ثبوت عدالت میں جمع کروادیئے ہیںجبکہ اس سے بچاﺅ کےلئے وزیراعظم اس کیس کے حوالے سے اپنے خاندان کی حفاظت کےلئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں وہ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کےلئے ہر حربہ آزمانا چاہتے ہیں کبھی وکیل تبدیل کرنے کا پروگرام تو کبھی 1947ءسے احتساب شروع کرنے کا معاملہ، یہ تمام باتیں قوم کا وقت بربادکرنے کے مترادف ہیں جبکہ سپریم کورٹ بھی موجودہ کیس کو ہی نمٹانے میں عافیت چاہتی۔ وزیراعظم کے وکیل کی جانب سے 1947ءکے قصے کو ایک طرف کرتے ہوئے یہ کہہ ڈالا کہ اگر اس دور سے کیسوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ہمیں بیس سال لگ جائیں گے جبکہ وزیراعظم اور ان کے درباریوں کی خواہش بھی یہی ہے کہ معاملہ سست روی سے چلے وہ تو بیس سال کی بجائے کم از کم ڈیڑھ سال اس معاملے کو لٹکانے کا سوچ رہے ہیں یعنی وزیراعظم کی مدت ہی اتنی رہ گئی ہے،اس دوران اپوزیشن جماعتیں تو عدالتوں کے چکر کاٹیں اور وزیراعظم 2018ءکے انتخابات کی تیاریوں کےلئے جلسے جلوسوں کرتے پھریں۔
دوستوں اس وقت ساری قوم ہی سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ پانامہ کا اونٹ بھی اب کسی کروٹ بیٹھ ہی جائے۔ دوسری جانب وزیراعظم کی حکومت پر لٹکتی ہوئی تلوارمتنازعہ خبربھی ہے جو فی الحال ان کی جان چھوڑتا ہوئی نظر نہیں آرہی،اس وقت ایک خبر یہ بھی ہے کہ چیئرمین عمران خان نے متنازع خبر بارے حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی کمیٹی کو مسترد کردیاہے اور کہاہے کہ جب متنازع خبر کے شواہد موجود ہیں تو پھر انکوائری کمیٹی کی کیا ضرورت ہے،اگر تحقیقات کروانی ہے تو حاضر سروس ججوں سے کروائی جائیں جبکہ نواز لیگ کی جانب سے بنائے جانے والے انکوائری کمیٹی کے سربراہ جسٹس(ر)عامر رضا کے مسلم لیگ سے گہرے روابط ہیں وہ مسلم لیگ کے نگران وزیراعلیٰ کے بھی امیدوار تھے یقینا ان سے کرائی جانے والے تحقیقات پر شکوک ہی پید اہوں گے۔امیر جماعت اسلامی نے بھی انکشاف نما بیان دیا ہے کہ جلد ہی متنازع خبر پر وعدہ معاف گواہ سامنے آنے کی توقع ہے۔لگتا تو یہ ہے کہ جب تک ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں آجاتی تب تک وزیراعظم کی جان نہیں چھٹنے والی اور جب تک متنازعہ خبر کا گیٹ وزیراعظم کے حق میں بند نہیں ہوجاتا یہ لوگ آئندہ انتخابات کےلئے بھی اہل نہیں رہ سکتے۔قارئین کرام میںنے گزشتہ دنوں سانحہ کے بعد حضرت بلاول شاہ نورانی کے مقامات کا دورہ کیا اور ان کے خلیفہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ میں اس المیے سے اس قدر ٹوٹ چکاتھا کہ رات کے اندھیرے میں ہی اس سفر کو گوارا کیا، بہت ہی گنجان آباد اور خطرناک راستوں سے ہوتا ہوا درگاہ تک پہنچا۔سارے سفر کے دوران ایک ہی بات میرے ذہن میں چلتی رہی کہ جب بلوچستان کی حکومت نے پہلے ہی آگاہ کردیاتھا تو اس قدر بڑے مزار کے پاس کوئی واک تھرو گیٹ کیوں نہ لگایا گیا؟خدا را اب سمجھ جائیں اور بندکردیں اس ملک کی سیاست سے ان لٹیروں کا باب، جن کے دور میں خواجہ سراہوں کو بھی ظلم کا ستم کا نشانہ بنا یا جاتا ہو،جن کے بنائے گئے ہسپتالوں میں غریبوں کا علاج کرنے کی بجائے ان کے گردے نکال لینے کا رواج ہو۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved