تازہ تر ین

خوابوں کا قبرستان

غلام اکبر …. آج کی بات
پاکستان پیپلزپارٹی کی نشاة ثانیہ کا جو خواب چودھری اعتزاز احسن، قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن جیسے ”اصلی تے سچے“ جیالے دیکھ رہے تھے اسے جناب آصف علی زرداری نے فوری طور پر قبرستان کا راستہ دکھا دیاہے۔ پاکستان کا ایک قبرستان ایسا بھی ہے جس میں ایسے خواب دفن ہیں جو شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔ ایسے خوابوں کو نا آسودہ خواہشات کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے متذکرہ رہنماﺅں اور ان کے دیگر ہم نواﺅں نے گزشتہ برس بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں ایسی ” قیادت کا چہرہ “ دیکھا ہوگا جو لوگوں کے ذہنوں میں محترمہ بےنظیر بھٹو کی یادوں کو تازہ اور زندہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے ”احیائے ثانی “ کے خواب نے بہت سارے دلوں کو گرمانا شروع کردیا، کام یہ آسان نہیں تھا۔ جناب آصف علی زرداری پنجاب میں ہی نہیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی پیپلز پارٹی کو بڑی کامیابی کے ساتھ ایک ”یاد رفتہ “ بنا چکے تھے۔مگر خواب تو بہرحال دیکھے جاسکتے ہیں سو دیکھے گئے۔
پھر ہوا یہ کہ جناب آصف علی زرداری پاکستان تشریف لائے اور انہوں نے یہ دھماکہ خیز اعلان کیا کہ وہ اور بلاول دونوں قومی اسمبلی کو ایک موثر ادارہ بنانے کےلئے ضمنی انتخاب لڑیں گے۔چودھری اعتزاز احسن جیسے لوگوں کےلئے یہ اعلان ناقابل یقین تھااور اب آصف علی زرداری صاحب نے اس پیپلز پارٹی کی کمان خود اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے جو پارلیمنٹ میں دوسری بڑی سیاسی قوت ہے۔ یہ پارٹی ”پارلیمنٹرینز“ کے نام سے مشہور ہے اور اسے سیاسی مصلحتوں اور تقاضوں کی وجہ سے 2002ءکے عام انتخابات میں حصہ لینے کےلئے قائم کیا گیا تھا۔ ایک عرصے تک لوگ پی پی پی اور پی پی پی پی کو ایک ہی جماعت سمجھتے رہے ہیں مگر اب دونوں پارٹیوں کے الگ الگ انتخابات ہوئے ہیں تو یہ بات سامنے آئی کہ دونوں درحقیقت الگ الگ جماعتیں ہیں جس پی پی پی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری منتخب ہوئے ہیں اس کا فکری وجود تو ہے مگر سیاسی وجود کوئی نہیں اور جس پی پی پی پی کی کمان جناب آصف علی زرداری نے سنبھالی ہے اس کا فکری وجود تو کوئی نہیں مگر سیاسی وجود اب بھی خاصا بھاری بھر کم ہے اس پارٹی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت کا منصب حاصل ہے اور سینٹ میں یہ اکثریتی جماعت ہے۔ اب ہوگا یہ کہ زرداری صاحب بند کمروں میںمیاں صاحب کے ساتھ بغلگیر ہوں گے اور بلاول بھٹو اپنے جیالوں کے ساتھ سڑکیں اورجلسہ گاہیں سنبھالیں گے۔
………………..
میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے ثنا خواں جس جوشیلے انداز میں اور جس تواتر کے ساتھ مہذب اور غیر مہذب دونوں قسم کی گالیوں کی بوچھاڑ کے ذریعے عمران خان پر اپنا اور اپنے آقاﺅں کا غصہ نکالتے رہتے ہیں اس سے ایک تاثر یہ بھی ابھرتا ہے کہ ”پانامہ پیپرز“ کا سارا ڈرامہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی منصوبہ بندی اورکاوشوں کا نتیجہ ہے۔
یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے ” آئی سی آئی جے“ نامی ادارہ قائم کیا اور کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری سے وہ ”بم “ تیار کیا جو 3اپریل2016ءکو پانامہ پیپرز اور پانامہ لیکس کے دوہرے نام سے دنیا کے کونے کونے میں پھٹا اور جس کی زد میں یوں تو بڑے بڑے وزیراعظم اور بڑے بڑے نامور لوگ آئے لیکن عمران خان کا مقصد صرف میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کو زک پہنچانا تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ صرف میاں صاحب اور ان کے خاندان کو زک پہنچانے کےلئے عمران خان نے دیگر ہزاروں لاکھوں ”متاثرین“ کی بددعائیں مول کیوں لیں، تو اس سوال کا جواب خود عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔
لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ” پانامہ لیکس ‘ ‘ کے ماسٹر مائنڈ کی حیثیت سے عمران خان نے میاں صاحب اور ان کے ثنا خوانوں سے اپنی غیر معمولی صلاحیتوںکا لوہا منوا لیا ہے۔ عمران خان کی شان میں ”قصیدے“ پڑھتے وقت طلال چودھری اور دانیال عزیز وغیرہ پر جس قسم کی وحشت اور دیوانگی طاری ہوتی ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ بات البتہ سوچنے کی ہے کہ عمران خان کے پاس اتنی ساری دولت کہاں سے آگئی کہ انہوں نے اتنے بڑے پیمانے پر ”پانامہ ہنگامہ “ کھڑا کردیا۔کچھ اسی قسم کا سوال میاں نوازشریف اور ان کے خاندان سے پوچھا جارہا ہے۔
” آپ لوگوں کے پاس سمندر پار اتنی دولت کہاں سے آئی کہ آپ نے دبئی میں سٹیل مل لگا ڈالی۔ پھر جدہ میں بھی سٹیل مل لگائی، قطر میں بھی کاروبار کیا اور لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں اربوں کی مالیت کے اپارٹمنٹس بھی خرید لئے۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved