کچھ سید علی گیلانی کے بارے میں….1

ضیا شاہد
چھ جنوری کو روزنامہ خبریں کے تیسرے صفحے پر سید علی گیلانی کا میرے نام خط شائع ہوا جو قارئین کی نظروں سے گزرا ہوگا۔ خبریں کے بعض پڑھنے والوں نے فون پر مجھ سے ان کے بارے میں استفسار کیا تو میں نے سوچا اپنی دو براہ راست ملاقاتوں‘ ٹیلی فون پر سینکڑوں بار رابطوں اور عزیزی شفقت حسین انچارج ”خبریں فورم“ کے ذریعے ٹیلی فون پر ”خبریں“ میں ان کے سلسلہ ہائے مضامین کے حوالے سے کچھ یادیں قلمبند کردوں۔
سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو مقبوضہ کشمیر کے شہر بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے۔ یہ قیام پاکستان سے پہلے کا ذکر ہے۔ وہ بانڈی پورہ کے بعد پنجاب یونیورسٹی بالخصوص یونیورسٹی اورینٹئل کالج میں بھی پڑھتے رہے اور یہ محض اتفاق ہے کہ میں نے بھی یونیورسٹی اورینٹئل کالج ہی سے تعلیم حاصل کی اور یہیں سے ایم اے کیا اور اسی کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر رہا۔ اس اعتبار سے سید علی گیلانی سے میرا ایک رشتہ یہ بھی ہے کہ میں انہی کے کالج میں پڑھا۔ قیام پاکستان کے بعد سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر کی سیاست میں بہت سرگرم رہے۔ ان کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور وہ سید مودودی کو اپنا فکری راہنما قرار دیتے تھے تاہم بعدازاں شاید مقامی ضرورتوں کے باعث انہوں نے جماعت اسلامی چھوڑ کر اپنی تنظیم تحریک حریت قائم کی۔ پھر آل پارٹیز کانفرنس کے سربراہ رہے۔ مقبوضہ کشمیر کے انتخابی حلقے سو پور سے وہ تین بار ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ پہلی بار 1972ءمیں پھر 1977ءمیں بعدازاں 1984ءمیں۔ وہ ان معنوں میں جہادی نہیں تھے کہ بندوق کے زور پر ہنگامہ کریں یا کروائیں بلکہ شروع ہی سے وہ پُر امن سیاسی جدوجہد کے ذریعے آزادی کشمیر کے حامی تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے پوتے اور مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے میرے بزرگ اور سینئر رہنما سید علی گیلانی کو علیحدگی پسند جارح اور جنگجو قرار دیا ہے جبکہ ان کے والد اور شیخ عبداللہ کے بیٹے جو خود بھی مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور کچھ عرصہ حکومت ہند میں وفاقی وزیر بھی رہے‘ سیاسی اختلافات کے باوجود سید علی گیلانی کو کشمیریوں کے حقوق کی خاطر جدوجہد کرنے والے ایک راست باز اور سچے انسان قرار دیتے ہیں۔ وہ کئی برس تک حریت کانفرنس کے سربراہ رہے بعدازاں کچھ اختلافات بھی پیدا ہوئے مگر مجموعی طور پر ان کا تعلق حریت کانفرنس سے کبھی ختم نہیں ہوا‘ میرے ان سے دو وجوہ کی بنا پر تعلقات میں مزید گہرائی پیدا ہوئی۔ اول یہ کہ میں نے پہلے برسوں انکی خبریں روزنامہ خبریں ہی میں نہیں بلکہ اس سے بھی پہلے ہر اس اخبار میں شائع کیں جس سے میرا تعلق رہا اور یہ عرصہ کم و بیش 25/30 برس پر محیط ہے۔
بعدازاں گزشتہ برس میں نے انہیں دعوت دی کہ وہ براہ راست خبریں میں ہفتہ وار کالم لکھنا شروع کریں۔ انہوںنے کہا کہ اگر ٹیلی فون پر کوئی صاحب مجھ سے طویل گفتگو کرکے میرے ظاہر کردہ خیالات کو کالم کی شکل دے سکیں تو مجھے خوشی ہو گی۔
میں نے انچارج خبریں فورم اور معروف صحافی شفقت حسین کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگائی جو میرے بہت سینئر اور محترم دوست ارشاد احمد حقانی کے برسوں نائب اور معتمد رہے ہیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے سید علی گیلانی سے فون پر گفتگو کرکے یہ کالم ان سے لکھوانا شروع کیا۔ گزشتہ آٹھ دس برس سے میں روزنامہ خبریں کی برادر آرگنائزیشن ٹی وی چینل فائیو پر اپنے پروگراموں میں بھی سید علی گیلانی کو لائن پر لیتا رہا اور میرے دیکھنے اور سننے والے ان کی باتوں سے آگاہ ہوتے رہے۔ بعدازاں ان کی شدید بیماری کے باعث یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا تاہم کسی نہ کسی شکل میں ان سے رابطہ برقرار ہے اور انشاءاللہ زندگی بھر رہے گا۔
میرا سید علی گیلانی سے ایک رشتہ اور رابطہ دہلی میں مقیم اخبا رنویس افتخار گیلانی کے ذریعے ہوا جو برسوں پہلے ڈیلی ٹائمز لاہور کے ساتھ ساتھ روزنامہ خبریں کے دہلی میں نمائندے بھی تھے۔ ان دنوں ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر میرے دوست نجم سیٹھی ہوا کرتے تھے اور ٹیلی فون پر تو آئے روز افتخار صاحب سے بات ہوتی تھی اور ان کے حوالے سے سید علی گیلانی کی خیریت بھی معلوم ہو جاتی تھی تاہم جب قبل ازیں دہلی اور بعد ازاں آگرہ میں جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان ملاقات ہوئی تو جنرل پرویز مشرف کے ساتھ جانے والے اخبار نویسوں اور صحافیوں میں‘ میں بھی شامل تھا۔ دہلی پہنچتے ہی سابق صدر پرویز مشرف جنہوں نے دورہ ہندوستان کے لیے میاں محمد نوازشریف کی حکومت کو معزول کرنے کے بعد محمد رفیق تارڑ کو صدر پاکستان کے عہدے پر برقرار رکھا تھا انہیں بھی گھر بھیج دیا اور خود چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ ساتھ چیف ایگزیکٹو کے عہدے کی بجائے براہ راست صدر بننے کو ترجیح دی کیونکہ انہیں ایک پڑوسی ملک کے سربراہ سے بطور صدر مذاکرات کرنے تھے۔ دہلی کے ہوٹل ہی میں میری پہلی مرتبہ ون ٹو ون سید علی گیلانی سے ملاقات ہوئی۔ حریت کانفرنس کا ایک وفد آگرہ مذاکرات کے سلسلے میں دہلی پہنچا ہوا تھا۔ میں اور مرحوم زاہد ملک آدھ پون گھنٹہ سید علی گیلانی سے بات چیت کرتے رہے جہاں وہ اپنے دیگر ساتھیوں بالخصوص عبدالغنی بھٹ کا انتظار کررہے تھے کیونکہ تھوڑی دیر بعد اسی ہوٹل کے ایک چھوٹے ہال میں کشمیری حریت پسندوں نے ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ سید علی گیلانی سے گپ شپ سے پہلے ہی ان کے داماد اور ہمارے نمائندے افتخار گیلانی سے میری بات چیت ہو چکی تھی۔ سیاسی مسائل کے بجائے ہم سابقہ رابطوں فون کالوں اور ذاتی حوالوں سے گفتگو کرتے رہے۔ روزنامہ ”پاکستان آبزرو“ اسلام آباد کے ایڈیٹر بننے سے پہلے مرحوم زاہد ملک ہفت روزہ ”حریت“ کے حوالے سے بہت مشہور تھے اور اس سے بھی قبل وہ نوائے وقت راولپنڈی کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی رہے تھے لہٰذا غائبانہ ہی سہی لیکن سید علی گیلانی سے وہ بھی بخوبی واقف تھے۔ تھوڑی دیر بعد حریت لیڈر جمع ہوگئے اور پریس کانفرنس شروع ہو گئی جس میں پاکستانی اخبار نویسوں کے علاوہ بھارتی اخبار نویس بھی شامل تھے۔ سب سے جوشیلی اور ادبی تقریر حریت رہنما عبدالغنی بھٹ نے کی تاہم سیاسی نکات کے حوالے سے جامع‘ پروقار اور قومی احساسات سے بھرپور گفتگو سید علی گیلانی کی تھی وہ چاہتے تھے کہ مجھ سے اور زاہد ملک سے مزید ملاقات ہونی چاہیے لیکن اتفاق سے اسی رات پاکستانی ہائی کمشنر نے سابق صدر پرویز مشرف کو پاکستانی وفد اور صحافیوں سمیت اپنے ہاں عشایئے پر مدعو کررکھا تھا جہاں علی گیلانی اور حریت وفد کو بھی دعوت دی گئی تھی لہٰذا فیصلہ ہوا کہ اس دعوت کے بعد مزید گپ شپ ہوگی۔
(جاری ہے)

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved