اسرائیل سے ہی سیکھ لیں!

اسرار ایوب….(قوسِ قزح)
چند روز قبل ایک خبر توجہ کا مرکز بنی کہ اسرائیل کے اٹارنی جنرل کی اجازت سے اسرائیلی پولیس نے اپنے ہی وزیر اعظم کو تین گھنٹے تک زیر تفتیش رکھا ، وزیر اعظم پر اس قسم کاکوئی الزام نہیں تھا کہ انہوں نے بچوں کے نام پرآف شور کمپنیاں بنا کراربوں روپے کی ”منی لانڈرنگ“ کی اور پھر اس رقم سے مے فیئرجیسی مہنگی ترین جگہ میں فلیٹس خریدے، شبہ ”صرف“اتنا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی شخصیات سے بیش قیمت تحائف وصول کئے ۔ ملزم وزیر اعظم کی حمایت میں ذاتی یا کرائے کا کوئی وزیر یا مشیرسامنے لایا گیا نہ پریس اینڈ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو آلہءکار بنایا گیا،بلکہ انہوں نے اپنی صفائی خود پیش کی۔ اسے کہتے ہیں قانون کی حکمرانی اور احتساب جس کے طفیل یہودی آج کے مسلما نوں سے کہیں زیادہ طاقتورہیں اور کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ یہودیوں کے برعکس مسلمانوں کے یہاں قانون کی حیثیت مکڑی کے جالے کی طرح ہوتی ہے جس میں وہی مکھی پھنستی ہے جس کا سائزذراچھوٹا ہوتا ہے ورنہ بڑی مکھی اسے توڑکرباآسانی آگے نکل جاتی ہے یعنی احتساب طاقتور کا نہیں بلکہ کمزور کا ہوتا ہے، ایک طرف ایک غریب کو مرغی چرانے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کرکے پولیس مار مار کر برا حال کردیتیہے لیکن دوسری طرف سچ مچ کے اربوں کھربوں خرد برد کرنے والے رئیسوں کی معافی کےلئے ”این آر او“ جیسا شرمناک قانون بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ایک طرف لوگ کوئی جرم کئے بغیرعمر قید کاٹ لیتے ہیں اوردوسری طرف درجنوں لوگوں کو سر عام قتل کرنے والوں کےخلاف ایف آئی آر تک نہیں کٹتی ۔
جس ملک میں قانون کی حکمرانی اور احتساب ہووہاں میرٹ کی بالادستی بھی ضرور ہوتی ہے جس کے ہوتے ہوئے رشوت اور سفارش کا بول بالا نہیں ہو سکتا، اسرائیل میں ”رائٹ مین فار دی رائٹ جاب“کا اصول ہر محکمے پر حاوی ہے یعنی وہاںڈاکٹروں کا انتخاب کرتے ہوئے اُن سے دیوارِ چین کی لمبائی چوڑائی نہیں پوچھی جاتی نہ ہی قومی جھنڈے کے رنگوں کا پس منظر دریافت کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کے برعکس یہودیوں کانظامِ تعلیم بھی ضروریات کے عین مطابق ہے یعنی نصاب موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور پڑھانے کا طریقہ بھی جدید ترین ہے۔
یہودیوں اورآج کے مسلمانوں کا فرق اس ایک حقیقت سے بھی بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ یہودیوں کی آبادی تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد ایک ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے یعنی اگر زمین پر آباد انسانوں کی کل آبادی کو 100سے تعبیر کیا جائے تواس میں 23لوگ مسلمان ہوں گے جبکہ یہودیوں کی تعداد ایک انسان کے چوتھے حصے کے برابرہو گی ، لیکن یہ ایک بٹا چار انسان23سالم انسانوں کے قابو میں نہیں آرہا بلکہ انہیں ناکوں چنے چبوا رہا ہے۔ اس لئے کہ یہودی کام کر رہے ہیں اور مسلمان باتیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیا یہودیوں نے مسلمانوں کے 12کے مقابلے میں 193نوبل انعام جیتے ہوتے جبکہ ان کی تعداد ہماری تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی۔ وہ بھی اس صورت میں کہ اگر امن کے نوبل انعامات نکال دیئے جائیں(کیونکہ وہ زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر دیئے جاتے ہیں )توان مسلم اعزازات کی تعدادسکڑ کر 3رہ جاتی ہے جن میں ایک ادب ایک طب اور ایک کیمسٹری میں جیتا گیا (ایک فزکس میں بھی بتایا جاتا ہے لیکن اسے حاصل کرنے والے ڈاکٹر عبداسلام ہیں جنہیں ہم مسلمان مانتے ہی نہیں)جبکہ یہودیوں نے ادب میں13 طب میں55کیمسٹری میں36، معیشت میں51 اور امن میں 9 انعام جیتے۔
ذرا غور کیجئے کہ مسلمانوں نے آج تک تقسیم کئے گئے نوبل انعامات میں سے صرف 0.005فیصد حاصل کئے جبکہ ان کی آبادی دنیا کی آبادی کا 23فیصد ہے اور یہودیوں نے کل انعامات کا 20فیصد جیتا جبکہ ان کی آبادی کل آبادی کا فقط 0.2فیصد ہے اور یہ بھی جان لیجئے کہ آج کی دنیا کے ان پڑھ ترین ممالک کی فہرست میں پہلے دس کے دس ملک مسلمانوں کے ہیں جبکہ پڑھے لکھے ترین پہلے دس ممالک میں ایک بھی مسلمانوں کا نہیں، اس فہرست میںاسرائیل دوسرے نمبر پر ہے(پہلا نمبر کینڈا کا ہے)،معاشی اعتبار سے مضبوط ترین دس ممالک میں بھی کوئی مسلمان ملک شامل نہیں۔
اگر ہم ذلت و رسوائی کے دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیںدو باتیں خاص طور پر سمجھنی ہوں گی جو تاریخ سے ثابت شدہ ہیں۔ پہلی یہ کہ یہودیوں کی ترقی اس وقت ممکن ہوئی جب انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ وہ غلط راستے پر چل رہے ہیں بصورت دیگر صحیح سمت میں چلنا ممکن ہی نہیں تھا اوردوسری بات یہ کہ انہوں نے اپنے دل میں پائے جانے والے منفی جذبات کے دھارے کو مثبت سمت میں موڑدیا یعنی ہڑتالیں کر کے یاپتلے جلا کے غصے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اس سے فکر و تحقیق کی شمعیں روشن کیں اور خود کو معاشی و معاشرتی طور پر اتنا مضبوط کر دیا کہ امریکہ جیسا طاقتور ملک بھی ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا ۔
کون نہیں جانتا کہ متذکرہ دونوں باتوںکی تلقین قرآن کریم میں کی گئی کہ غلطی تسلیم کرنا سیکھو اور غصے کی کظامت کرو(کاظمین الغیظ)۔شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ عرب لوگ پانی کے کنوﺅں کو زمین دوز نالیوں کے ذریعے ایک خاص سطح سے ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے تاکہ جس کنوئیں میں پانی زیادہ ہو وہاں سے خود بخود اس کنوئیں میں چلا جائے جہاں کم ہو،اس عمل کو کظامت کہا جا تا تھا۔غصے کی کظامت کا مطلب عربی لغت (تاج العروس،محیط المحیط وغیرہ)کی رو سے یہی ہے کہ جذبات کے منفی دھارے کو مثبت سمت میں موڑ دیا جائے۔
کاش ہم قرآن ِ کریم کے راستے پر چل کر اپنی کھوئی ہوئی جنت واپس حاصل کر سکیں بصورتِ دیگر اپنی ذلت و رسوائی کو یہود و ہنود کی سازش قراردے کر حقیقت سے پہلو تہی کرتے رہے تو حالات بہتر نہیں ہو ںگے بلکہ اوربھی خراب ہو جائیںگے۔٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved