Home کالم ہم ’را‘ نہیں دھرتی ماں کے ایجنٹ ہیں
ہم ’را‘ نہیں دھرتی ماں کے ایجنٹ ہیں

ہم ’را‘ نہیں دھرتی ماں کے ایجنٹ ہیں

سید ساجد راہی ….(بحث و نظر)
6جنوری کو”خبریں“میں ایک چودھری کا مضمون شائع ہوا جس نے ہمیں ”را “کا ایجنٹ کہا لیکن جب ماضی کو دیکھا جائے اور تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو بیرونی ایجنسیوں کے جتنے بھی آلہ کار نظر آتے ہیں ان کی اکثریت چودھریوں کی ہے یہ چودھری دنیا بھر سے پیسے لے کر ان کےلئے کام کرتے ہیں مگر الزام سندھیوں، بلوچوں اور پشتونوں پر لگاتے ہیں اب وہ یہ الزام ہم غریب سرائیکیوں پر بھی لگا رہے ہیں وہ بھی اس بنیاد پر کہ سرائیکی بھارت کیوں گئے تھے۔ ہمارے بزرگ اگر گئے بھی ہیں تو یکتارے،جھمر اور چپڑیاں ساتھ لے کر گئے تھے، وہاں بھی امن کے گیت گائے وہاں سے جب واپس آئے تو کوئی گنیں یاپیسے ساتھ لے کر نہیں آئے۔ آپ بھلے تحقیقات کر لیں لیکن افسوس پنجابی جہاں بھی گئے ایک دہشت سے بھرا نظریہ لے کر آئے اور جسے پورے ملک میں پھیلایا۔ ہم غریبوں کا کوئی میڈیا نہیں اس لئے ہماری سچائیاں یا تو دیر سے شائع ہوتی ہیںیا شائع ہی نہیں کی جاتی۔یہ تو بھلا ہو ضیا شاہد صاحب کا جو ہمارے نظریات کو شائع کررہے ہیں۔آج بھارت سے دوستی کا بخار بھی لاہور کے پنجابیوں کو چڑھا ہوا ہے۔بلوچ،سندھی اور سرائیکی اس دھرتی سے عشق اور پیار کرتے ہیں جوپاکستان کے اندر ہیں لیکن ہمیں غدار کہا جاتا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اصل پاکستانیت ہی یہی ہے کہ بارڈر کے اندر موجود دھرتی سے عشق کرواور بیرونی دنیا کے ایجنڈے سے دور رہو جو مذہب کے نام پر تھونپا جاتا ہے یہی پاکستان ہے۔
میرا تعلق رحیم یار خان کے علاقے بابا غریب شاہ سے ہے اور ہم کئی سال تک یہاں سنجوک سرائیکی میلہ کراتے رہے جو اب غربت کی وجہ سے سالانہ نہیں رہاکیونکہ میں سرائیکی شاعر ہوں اس لئے ”خبریں“ شوق سے پڑھتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ادارہ ہماری یعنی غریبوں کی بات کرتا ہے۔”خبریں“ میں صوبے کے حوالے سے چھپنے والی بحث بھی مجھے اچھی لگی کہ اس سے پاکستانیوں کا بھلا ہورہا ہے کہ تمام لوگوں کا نقطہ نظر چھپ رہا ہے اور وہ باتیں جو شجرممنوعہ سمجھی جاتی تھیں، بھی آسانی سے چھپ رہی ہیں جسے پالیسی ساز ادارے بھی پڑھ اور دیکھ رہے ہوں گے۔ان مضامین میں جو بات سب سے زیادہ سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ سرائیکی ”را“ کے ایجنٹ ہیں اس الزام سے ہمیں دلی تکلیف پہنچی ہے جس سے میں یہ مضمون لکھنے پر مجبور ہوا کیونکہ میں ایک محب وطن ہوں اور یہ الزام مجھ پر بھی آرہا ہے تو اس کا جواب میں کچھ یوں دوں گا۔ہم عرصہ بیس سال تک سنجوک سرائیکی میلہ کراتے رہے یہ میلہ ہم باہمی چندے سے کراتے تھے دوران پروگرام نہ ایران کے حق میں نعرے لگتے تھے اور نہ ہی سعودی عرب کے حق میں شعلہ بیانی کی جاتی تھی نہ امریکہ کے گن گائے جاتے اور نہ ہی چین اور جاپان کی تسبیح کی جاتی تھی ہاں اگر تسبیح ہوتی تھی تو سندھ دریا کی، روہی کی، رحیم یار خان کی،اپنے وسیب کی بات کی جاتی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ ضلعی انتظامیہ بھی کبھی روڑے اٹکاتی تھی اور کبھی پولیس بھی تنگ کرتی تھی نہ ہمیں کبھی چندہ ایران سے ملا نہ سعودی سے، نہ امریکن ڈالر آئے نہ چین سے کوئی بڑی کھیپ آئی جس کی وجہ سے ہمارا سالانہ میلہ بند ہو گیا لیکن کیونکہ ہم دھرتی سے عشق کرنے والے لوگ ہیں تو سرائیکی ٹیلی فلموں کی طرف مائل ہوگئے اور رحیم یار خان میں دھڑا دھڑ فلمیں بننا شروع ہوگئیں اس سے ہمارا بھی روز گار چل نکلا۔ یوں ہم نے ان فلموں میں بھی اپنے پاکستان،اپنے وسیب اور اپنی مٹی کی بات کی، امن کی بات کی، نفرت کے توڑ کی بات کی۔ہم نے نہ ہی بھارت جاکر فلموں میں کام کیا اور نہ کسی اور ملک سے مدد مانگی بلکہ آج بھی گیت ’مائی دی جھولی وطن مائی دی جھولی وطن‘ گنگناتے اور رب کا شکر ادا کرکے گنے کے کھیتوں اور کپاس کی فصلوں میں کام کر کے اپنے بچوں کا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے تو راحت فتح علی خان جیسے پنجابی فنکار کی طرح بھارت جاسکتے تھے، عدنان سمیع خان جیسے اردوفنکار کی طرح بھارت جاسکتے تھے لیکن نہیں گئے کیونکہ ہمیں اپنے وطن سے پیا رہے۔ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے وطن سے پیار ہے اسے حق دو جو حقدار ہے تو حق دینے کے بجائے ہم پر ’را ‘کے ایجنٹ کا الزام دھر دیتے ہیں کیونکہیہ خود ’را‘ کے ایجنٹ ہیں اور اپنے بچاﺅ کےلئے ہمیں رگید دیتے ہو۔
صوفی نجیب اللہ نازش میرے دوست ہیں 15 سال سے جندوپیر میں سرائیکی میلہ کراتے رہے کئی کتابیں شائع کیں،جب کہیں سے کوئی سرکاری فنڈ نہ ملا تو مجبور ہوکر میلہ بند کر دیا ان کے پیارے شاگردوں میں پنجابی اور اردوبولنے والوں میں سے بھی ہیں وہ آج بھی امن اور امید کے دیئے جلائے ہوئے ہیں ان کے گیت آب بھی ملک بھر میں امن،پیار،مساوات اور انصاف کی بات کرتے ہیں،انہوں نے نہ کبھی پیسے لے کر جنگی ترانے لکھے اور نہ ہی پیسے لے کر افغان جہاد کےلئے نظمیں لکھیں، آج بھی پاکستان اور اپنی مٹی کادرس دے رہے ہیں اس کے باوجود ’را‘ کے ایجنٹ کے الزام کی زد میں ہیں۔صوفی نجیب اللہ نازش نے اپنی آنکھوں کا آپریشن کروانا تھا اور ان کے پاس علاج کے پیسے تک نہیں تھے اگر وہ ایجنٹ ہوتے تو ان کا اعلاج بھی امریکہ یا کسی اور ملک میں ہورہا ہوتا کیونکہ وہ پاکستان کی بات کرتے اپنی دھرتی کی بات کرتے ہیں اس وجہ سے ’را‘ کے ایجنٹ ہیں؟
دلنور نور پوری کو میں بچپن سے جانتا ہوں وہ اپنے سر پر اور کندھے پر لاد کر کتابیں بیچتے رہے،ہاں خدا کی قسم کتابیں بیچتے تھے کوئی گن،کوئی بندوق نہیں بیچتے تھے ان میں بھی اصلاحی نظمیں ہوتی تھیں جب وہ ہپاٹائیٹس کا شکار ہوئے توان کے پاس علاج کے پیسے تک نہیں تھے اور وہ اپنے نور پور میں آسودہ خاک ہیں وہ لندن میں دفن نہیں ہیں۔وہ بھی صوبے کے زبردست حامی تھے کیا وہ بھی ’را‘ کے ایجنٹ تھے؟میں تاج محمد لنگاہ کو بھی ذاتی طور پر جانتا ہوں جب سرائیکی پارٹی کا یوم تاسیس تھا لنگاہ کی جیب میں ایک ٹکا بھی نہیں تھا، رات بھرقوم پرست دوستوں سے صبح کے فنکشن کےلئے پیسے مانگتے رہے جب کہیںسے کچھ نہ ملا تو صبح ٹینشن کی وجہ سے دل کادورہ پڑاجس کے باعث انتقال کر گئے اور کہروڑ پکا آسودہ خاک ہوئے۔ ایسے محب وطن کےلئے نہ کوئی سلامی اور نہ کوئی گارڈ آف آنر جو چالیس سال تک پر امن سیاسی جدوجہد کرتا رہا اس کے باوجود ’را‘ کا ایجنٹ ؟خدارا اب تو فتوے لگانا بند کر دو محب وطن لوگوں کو بھی جینے کا حق دو کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی حب الوطنی کی آڑ میں دھرتی پرستوں کا شکار بند کر دو۔٭٭

asif azam

LEAVE YOUR COMMENT

Your email address will not be published. Required fields are marked *