تازہ تر ین

زہریلی شراب، ذمہ دار کون؟

وجاہت علی خان….(مکتوب لندن)
خبریہ تھی کہ27دسمبر کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک مسیحی آبادی کے 103 دوستوں نے کرسمس پر شراب نوشی کی، جس کے نتیجہ میں تحریر 50 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے۔لیکن افسوسناک صورتحال یہ رہی کہ پوری قوم انتہائی خاموشی سے آگے بڑھ گئی، کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ پاکستانی میڈیا نے بھی دو روز تک چھوٹی بڑی خبریں دیں اور یہ سنجیدہ ترین سانحہ دم توڑ گیا۔ بڑا سوال یہ ہے کہ پوری دنیا کے 196ملکوں میں شراب نوشی کی جاتی ہے چند انتہائی ضروری حدود و قیود کے ساتھ شراب بنانے، بیچنے اور اسے پینے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے حکومتوں کو اس مد میں اربوں ڈالر ٹیکس حاصل ہوتا ہے لیکن یورپ میں دہائیوں سے رہتے ہوئے ہم نے کبھی نہیں سنا اور نہ دیکھا کہ کسی ایک شخص کی بھی موت شراب نوشی سے ہوئی ہو، لیکن پاکستان میں آئے روز تواترکے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے یہ ایک چبھتا ہوا تلخ سوال ہے جس کا جواب سنجیدگی سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ افراد شراب پیتے ہیں اور ذرا ”حوصلے سے“ سنئے ان شراب نوشوں میں 97فیصد مسلمان ہیں! پاکستان میں شراب نوشی کے بارے میں ”بی بی سی“ کے ایک سروے میں بتایا گیا کہ پاکستان میں گزشتہ 35سال کے دوران شراب نوشوں کی تعداد بتدریج بڑھ کر دوگنا ہوچکی ہے۔ برطانیہ کی مارکیٹ میں ریسرچ کرنے والی ایک کمپنی ” یورومانٹیر“کے کئے گئے سروے کا ایک اور کڑوا سچ بھی سنئے! پاکستان 196ان ملکوں کی لسٹ میں 35ویں نمبر پر ہے جہاں شراب نوشی کی جاتی ہے جبکہ ”متحدہ عرب امارات “ کا نمبر پانچواں ہے، لسٹ کے مطابق حیرت انگیز طور پر چین جہاں نہ مذہب ہے نہ جمہوریت لیکن آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے بڑے ملک میں پاکستان سے کم شراب نوشی ہوتی ہے! دیگر معروضات سے پہلے عمر خیام کاشراب پینے کے بارے میں تجزیہ کلی توجہ کا طالب ہے، ممتاز شاعر عمر خیام کا شمار ان مسلمان حکماءمیںہوتا ہے جنہوں نے اپنے کام سے مشرق و مغرب دونوں کو متاثر کیا، عین عالم شباب میں انہوں نے حدیت، فقہ، حکمت، تفسیر، قرا¿ت اور دیگر کئی قسم کے سائنسی علوم میں بھی عبور حاصل کیا۔حتیٰ کہ تقویم کی ایجاد کا سہرا بھی انہی کے سر ہے، عمر خیام فلسفہ جبر کے انتہائی معتقد تھے ان کے نزدیک حال ہی سب کچھ ہوتا ہے ماضی و مستقبل سے کوئی غرض نہیں رکھنی چاہیے۔ چنانچہ کھاﺅ، پیو اور خوش رہو، شراب کے بارے میں عمر خیام کا کہنا ہے کہ چونکہ شراب کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے اس لئے شراب ”حق“ ہے یہ اسی طرح ہے جیسے عربی زبان کی ایک کہاوت ہے ”الحق مر“ یعنی حق بات تلخ ہوتی ہے، عمر خیام خود بھی شراب کے دلدادہ تھے لیکن ان کی شراب نوشی رندانہ نہیں حکیمانہ تھی ان کے نزدیک شراب چند شرائط کے ساتھ پینے میں حرج نہیں یعنی کس کو پینی چاہیے؟کتنی پینی چاہیے ؟کن کی صحبت میں پینی چاہیے؟ کب پینی چاہیے؟اور پھر صاف صاف بتاتے ہیں کہ کس طرح پینی چاہیے؟
پاکستان میں شراب پر پابندی کے بارے میں عام فہم معلومات یہی ہیں کہ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی بعض مذہبی جماعتوں کے دباﺅ میں آکر اپریل 1977ءمیں عیسائیوں، ہندوﺅں، سکھوں، پارسیوں او ر دیگر اقلیتوں کے سوا ملک کی بڑی اکثریت مسلمان آبادی پر شراب نوشی پر پابندی عائد کردی تھی لیکن شاید یہ حقیقت زیادہ لوگوں کے علم میں نہیں کہ شراب نوشی کی سزا کی بنیاد ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے ہی رکھی تھی۔ ضیا الحق نے اپنے ایجاد کردہ ایل ایف او (لیگل فریم ورک آرڈر) کے ذریعے اپنے ذاتی خیالات کے تحت اپنی طرز کے مذہبی قوانین پوری سوسائٹی پر لاگو کر دیئے اور انہیں ایسا کھچڑی زدہ کردیا کہ ”گناہ اور جرم“ کے درمیان واضح لکیر کو دھندلا کر دیا، ذوالفقار علی بھٹو نے تو شراب پر پابندی کا قانون بنایا لیکن ضیاءالحق نے اس کی سزا 80 کوڑے اور جرمانہ تجویز کرکے سرخرو ہوئے۔
بحث یہ ہے کہ کیا اپریل 1977ءسے پہلے پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست نہیں تھا۔ کیا یہاں اسلامی شعار کی مکمل پریکٹس نہیں ہوتی تھی، یہاں بیشمار مساجد و مدارس نہیں تھے کیا یہاں مسلمانوں کی اکثریت نہیں بستی تھی؟ تقسیم سے پہلے کی بات نہ کریں لیکن 1947ءسے 1977ءتک کے درمیان سال اس اسلامی ریاست میں شراب کی سرعام فروخت، شراب نوشی اور افیون کے ٹھیکے نہیں ہوا کرتے تھے، کلب بھی موجود تھے اور یہ سارا کاروبار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کے عین مطابق تھا، یہ بھی یاد رہے کہ 1973ءکا آئین بنے اس وقت تین سال گزر چکے تھے جب یہ پابندی لگائی گئی۔ پاکستان کے سرکاری خزانے کو اربوں روپے سالانہ آمدن سے محروم کر دیا گیا، لاکھوں پاکستانیوں کو بھاری مالی نقصان ان کے کاروبار بند ہونے کی صورت میں اٹھانا پڑا اور تب سے آج تک 39 سال کے دوران لاکھوں پاکستانی مضر صحت، ٹھرا اور کپی کی زہریلی شراب پینے سے مر رہے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے چنانچہ اس سارے جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کس کی ہے؟
مری بریوری، ووڈ کا، وہسکی، رم، جن، لاگر بنانے والی ایک پاکستانی کمپنی ہے جس کا قیام 1860ءمیں ہوا تھا۔ آج بھی یہ کمپنی راولپنڈی، خیبرپختونخوا اور کوئٹہ میں کام کر رہی ہے بلکہ یہ کمپنی انڈیا، آسٹریلیا، امریکہ اور دیگر یورپی ملکوں میں بھی کاروبار کر رہی ہے۔ 1977ءکے بعد آج تک اسے بند کیوں نہ کیا گیا اور اگر یہ قائم ہے تو کسی دوسرے کو اس کاروبار کی اجازت کیوں نہیں؟ مری بریوری کے ”سی ای او“ اسغنیاربنگارا کے مطابق ان کے گاہکوں میں 99% مسلمان ہیں! گزشتہ ماہ کی یہ خبریں بھی ایک سوالیہ نشان ہیں کہ کراچی میں شراب بیچنے والی 150 دکانیں بند کروائی گئیں لیکن چند ہفتے بعد ہی سپریم کورٹ کے حکم سے یہ دوبارہ کھل گئیں۔ چنانچہ اگر کراچی میں یہ کاروبار قانونی ہے تو ملک کے دیگر شہروں میں بھی پاکستان میں ہی ہیں، حیرت تو یہ بھی ہے کہ پابندی کے باوجود جس ملک کے صدور، وزراءاعظم، جرنیل، بیورو کریٹس، فلم انڈسٹری کے اداکار، اس سے وابستہ دیگر لوگ، وکلائ، جج، تاجر، صحافی، دانشور، شاعر کی ایک بڑی تعداد شراب نوشی سے لطف اندوز ہوتی ہے میرے ملک کے کھلے ذہن رکھنے والے تاریخ دان اور سچ کے داعی بزرگ بھٹکے ہوئے لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو خود تو ریگولر ڈرنکر تھے لیکن انہوں نے فقط چند علماءکی خوشنودی اور اپنی کرسی کی مضبوطی کیلئے شراب کو ساری قوم کیلئے بین کر دیا۔
لندن میں ایک وزٹ کے دوران میرے ایک بزرگ دوست منور حیات کے مہمان پاکستان کے سابق وزیر اعظم مرحوم غلام مصطفی جتوئی جو انتہائی نفیس انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ساغرومینا سے شغف رکھنے والے ایک سلیقہ مند آدمی تھے، نے میری موجودگی میں بتایا کہ مولانا کوثر نیاز جو بھٹو کے قریب مصاحبین میں شمار ہوتی تھی وہ اکثر اوقات جناب بھٹو کو اپنے ہاتھ سے جام بنا بنا کر دیا کرتے تھے، مولانا خود بھی پیتے اور ساتھ ساتھ بھٹو کوشعر بھی سنایا کرتے تھے۔ اسی لئے مولانا کوثر نیازی کو مولاناوہسکی بھی کہا جاتا تھا۔ جتوئی صاحب نے بتایا ایک دوبارمیری موجودگی میں بھی مولانا نے بھٹو کو شعر سنائے جن میں دو ایک مجھے یاد ہیں: مثلاً
شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر غالب
یا پھر وہ جگہ دکھا دے جہاں خدا نہیں
……..
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کی
حلال چیز کو گویا حرام کرتے ہیں
مسلمان ملکوں میں صرف دبئی اور ترکی‘ کی مثال دی جا سکتی ہے جو اپنے قوانین میں نرمی کر کے ورلڈ اکنامک میں بڑا حصہ دار بن گیا اور اسی طرح ترکی نے بھی کیا۔ یہاں تقریباً ہر ریستوران میں بار موجود ہے ان ملکوں میں رمضان میں بھی افطاری کے بعد اور سحری سے پہلے شراب نوشی کی اجازت ہے لیکن یہاں منشیات کے بارے میںقوانین سخت ترین ہیںاور یہ سب کام پاکستان اور خصوصاً یورپی ملکوں کے مسلمان یہ کاروبار فخر سے کرتے ہیں‘ مسلمان بھی چپ ہیں اور مسجد کا مولوی بھی خاموش! پاکستان میں مری بریوری یا شراب کے دیگر کاروبار کرنے والوں سے حکومت جو ٹیکس لے کر خرچ کرتی ہے اس سلسلہ میں کیا فتویٰ ہے؟ اسلام کے ابتدائی دور کی مثالیں‘ احادیث و مقدس کتابوں کے حوالے نہ بھی دیئے جائیں لیکن یہ تو بتایا جائے کہ مسلمان سلاطین اور بادشاہوں کے شراب کے بارے میں کیا رویئے تھے؟ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان میں سے کون کون پیتا تھا بلکہ ذہن پر یہ زور دینے کی ضرورت ہے کہ وہ کون تھا جو نہیں پیتا تھا؟
یورپی ملکوں میں شراب کے معاملہ میں قانون انتہائی سخت ہیں۔ شراب پی کر گاڑی ڈرائیو نہیں کی جاسکتی، عوامی جگہوں پر شراب نوشی نہیں ہوسکتی‘ کام کی جگہوں پر پابندی ہے لیکن گھروں کی چاردیواری یا پبوں (شراب خانوں) میں اجازت ہے اور حکومت شراب کے معیار کو سختی سے چیک کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی ایسا ہونا چاہیے تاکہ ناقص شراب سے ہلاکتیں نہ ہوں اور ایک قرآنی آیت بھی تو ایسی ہی ایک حد کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ”مت جاﺅ نماز کے قریب جب تم حالت نشہ میں ہو۔“
بات سیدھی اور صاف ہے کہ جب تک ملک کے طبقہ اشرافیہ سے لے کر ریڑھی بان تک بحیثیت قوم ہم سب اپنے (CORRUPT INTELLECT) سے مبرا ہوکر غوروفکر نہیں کریں گے ہر معاملہ سلجھنے کی بجائے گنجلک ہوتا چلا جائے گا۔گزارش یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ”پی ایل ڈی“ پاکستان لیگل ڈلیجن میں لکھا گیا یہ آرڈر بھی سامنے رکھا جائے جس کے مطابق ”شراب حرام ہے“ یہ جملہ قرآن مجید میں کہیں موجود نہیں! باقی آپ کی مرضی۔
[نوٹ: اس مضمون کے مندرجات سے اگر قارئین میں سے کسی کو اختلاف ہو تو وہ بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی تحریر ہمیں ارسال کرسکتا ہے۔ بہرحال ادارے کا مضمون نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(ادارہ)]
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved