تازہ تر ین

جمہوریت کا ”خانہ خراب“

ناصر نقوی …. (جمع تفریق)
سابق مفاہمتی صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی18ماہ بعد وطن واپسی کو ہمارے بہت سے دوستوں نے وقتی قرار دیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب شہید بی بی کی برسی منانے کے بعد اپنے پارٹی رہنماﺅں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو الیکشن2018ءسے پہلے صف بندی کی ہدایات کے ساتھ چند داﺅ پیچ سکھا کر واپس ”جہاز“پر سوار ہو جائیںگے لیکن انہوں نے بھی تمام دوستوں کے اندازے غلط ثابت کر دئیے بلکہ انہوں نے بی بی شہیدکی برسی کے خطاب میں واضح پیغام دے دیا کہ وہ اَب ”جہاز“میں نہیں ،اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کے سر پر سوار رہیں گے کیونکہ میاں صاحب نے جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم کررکھی ہے جس سے جمہوریت اور جمہوری اقدام کا ”خانہ خراب“ہو گیا ہے چھوٹے بھائی اور بڑے بھائی (آصف زرداری اور نواز شریف)دونوں کی رائے تقریباً ایک جیسی ہے کیونکہ جب نواز شریف صاحب تیسری مرتبہ وزیر اعظم پاکستان بنے تھے اس وقت ان کا بھی یہی خیال تھا کہ چھوٹے بھائی نے ”جمہوریت“کے نام پر جو کچھ کیا وہ جمہوریت کا ”خانہ خراب“کرنے والی بات ہی ہے ،پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ن)نے فرینڈلی اپوزیشن میں وقت گزارا اور اسے زرداری صاحب کا ”مفاہمتی فارمولا“قرار دیا گیا کیونکہ وہ ابتداءمیں ہی خود چل کر ”جاتی امرائ“گئے اور انہوں نے خوش گپیوں سے بڑے بھائی نواز شریف کو ایسا ”رام“کردیا کہ مسلم لیگ (ن)وزارتیں لینے پر بھی رضا مند ہو گئی تھی دونوں جانب سے آئندہ نسلوں تک چلنے والی دوستی کے عہد و پیماں بھی ہوئے لیکن سب گواہ ہیں کہ یہ دوستی کی پینگیں ”ٹٹ گئی تڑک کر کے“مسلم لیگی متوالے زیادہ دیر پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ساتھ نہ چل سکے نتیجتاً وزارتیں واپس ہو گئیں اور مسلم لیگ کو آج کی پیپلز پارٹی کی طرح محض ”صوبائی حکومت“پر تکیہ کرنا پڑا پھر وفاقی حکومت نے ”تکیہ“بھی سر کانے کی خواہش میں ”گورنر راج“ کی تلوار استعمال کی جو بد قسمتی سے چل نہ سکی اور سیاسی آنکھ مچولی میں زرداری مفاہمتی فارمولے سے پیپلز پارٹی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری پانچ سال مکمل کر کے ریکارڈ بنا لیا ۔یہ الگ بات ہے کہ اسے ”سو مو ٹو ایکشن“کا سامنا رہا لیکن زرداری صاحب نے ”ری ایکشن“کی بجائے ہر مشکل ہنستے دانت دکھاتے گزاری بلکہ اپنا ایک وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی قر بان کر دیا ،ا ن کے قریبی ذرائع بھی اس بات کے دعویدار تھے کہ وہ قوم کو سر پرائز دیں گے پھر بھی ان کے دعوے سچ نہیں ثابت ہو سکے اس وقت سب سے بڑی حیرانی یہی ہے کہ آصف علی زرداری نے کوئی ایسی حیرانگی والی بات نہیں کی جس سے مستقبل کی سیاست میں کوئی ”انہونی“ہوتی دکھائی دیتی حالانکہ ماضی میں وہ اینٹ سے اینٹ بجانے کا دعویٰ کر کے ملک سے باہر گئے تھے اور ان کے اس دعوے سے سیاسی درجہ حرارت میں خاصا ہیجان پیدا ہوا تھا ایسی کوئی تبدیلی ان کی آمد سے نہیں ہوئی،اسے بھی زرداری صاحب کی مفاہمتی سیاست کہا جارہا ہے حالانکہ ان کے دست راس سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اَب پیپلز پارٹی مفاہمت کے نام پر نہیں جھکے گی ،سابق صدر آصف علی زرداری ڈنکے کی چوٹ پر آئے ہیں۔ شہید بی بی کے قتل کا فیصلہ جلد از جلد ہو نا چاہئے اور بلاول بھٹو زرداری کے چار مطالبات بھی حکومت کو تسلیم کرنا ہوں گے ،اب گیند حکومتی کورٹ میں ہے کہ وہ معاملات کو جلد از سدھارنا چاہتی ہے یا اس میں تاخیر ی حربہ استعمال کرتے ہےں پیپلز پارٹی سیاسی انداز میں سیاسی تحریک سے مسائل کا حل چاہتی ہے ۔بلاول بھٹو زرداری کے چار مطالبات پر دوسری جماعتوں کا اتفاق بھی موجود ہے اس لئے حکومت کو مثبت اقدام کرنے ہوں گے پیپلز پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کا ہر قدم عوامی مفاد میں ہو گا کیونکہ وہ عوامی امنگوں کے مطابق تمام مسائل کا حل چاہتی ہے۔دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کے مطالبات پر حکومت نے بالکل کان نہیں دھرے اور 27دسمبر کی ”ڈیڈ لائن“بھی گزر گئی ان کا دعویٰ تھا کہ مطالبات کی منظوری نہ ہوئی تو ملک بھر میں”دمادم مست قلندر “ہو گا اور انہیں مجبوراً ”لانگ مارچ“کا چیلنج قبول کرنا پڑے گا لیکن نواز حکومت اس مرحلے میں بھی خوش قسمت ثابت ہوئی اور 27دسمبر بھی گزر گئی ”لانگ مارچ“کا نام نامی بھی کسی نے نہیں سنا اور یہ افواہ گرم ہو گئی کہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں ایک مرتبہ پھر ”کچھ دو ،کچھ لو“کی بنیاد پر معاملات طے پا گئے۔
ملک کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ حکومت نے سابق صدر آصف زرداری کی وطن واپسی پر ان کے دوست رفیق انور مجید کےخلاف ایف آئی اے کے اقدامات سے پیپلز پارٹی اور قیادت کو حقیقی پیغام پہنچ گیا ہے اس لئے زرداری صاحب نے از خود یا ساتھیوں کی مشاورت سے ”لانگ مارچ“اور ”گو نواز گو“کا نعرہ بلند کرنے سے گریز کیا ورنہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تو بہت پہلے کہہ چکے تھے کہ 27دسمبر تک چار مطالبات منظور نہ کئے گئے تو ”گو نثار گو“کا نعرہ ”گو نواز گو“میں تبدیل ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا اور جیالے بھی اس صورتحال سے مایوس ہیں ان کا نعرہ ہے ”ایک زرداری سب پر بھاری“ لیکن ان حالات میں ایسا لگ رہا ہے کہ ایک زرداری پوری پیپلزپارٹی پر بھاری، جب ہی تو ان کے وطن میں قدم رکھتے ہی تمام ”ٹائیں ٹائیں فش“ہو گئی شہید بی بی کی برسی کے موقع پر قیادت نے نوا زشریف کیا، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی نہیں دوہرایا بلکہ زرداری صاحب نے اپنے دوست انورمجید کے دفاتر پر چھاپے کو بھی ہنس کر ٹال دیا کہ ابھی معلوم نہیں ،یہ کیوں ہوا ؟کیسے ہوا؟میدان سیاست کے چودھری سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے بھی متحدہ اپوزیشن کے حوالے سے سابق صدر سے ملاقات کی لیکن ایسا محسوس ہوا جیسے چودھری صاحب کی باتیں اَب زرداری صاحب کو بھی سمجھ نہیں آتیں کیونکہ اس ملاقات کا ردعمل دور دور تک نظر نہیں آیا ،البتہ خورشید شاہ کی اپوزیشن لیڈر شپ ختم کرنے کی خوشخبری زرداری صاحب نے واضح طور پر دے دی،اَب وہ اپنی بہن ڈاکٹر عذرا یا ایاز سومرو کی نشست سے الیکشن لڑ کر قومی اسمبلی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے جبکہ چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ سے ضمنی الیکشن لڑیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا قومی اسمبلی میں جانے کا فیصلہ ایک حد تک ضروری ہے لیکن پارلیمنٹ کا حقیقی دور یعنی زیادہ عرصہ تو بیت چکا ہے اس وقت تو ”پارٹی“کی ساکھ کی بحالی سے آئندہ انتخابات کیلئے صف بندی کی جانی چاہیے تھی،جیالوں کا ایک طبقہ قیادت کے اس فیصلے سے خوش ہے کہ اگر ان کی حقیقی قیادت اسمبلی میں موجود ہو گی تو وہ حکومت کو ”ٹف ٹائم“دے گی لیکن دوسرا طبقہ نالاں ہے کہ پارٹی معاملات کی درستگی کیلئے وقت کم ہے پنجاب میں چند رہنماﺅں کے سوا پارٹی جیالے مایوس ہو کر گھر بیٹھ چکے ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی ابتدائی کوشش میں بھی اندازے کے مطابق ناکام رہے ایسے میں ”الیکشن“سے پہلے ضمنی الیکشن لڑنے کے فیصلے سے پارٹی معاملات پس پشت چلے جائیں گے تاہم اس سیاسی فیصلے کو ”تجزیہ کار“اچانک نہیں سمجھتے بلکہ کسی ڈیل اور یقین دہانی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ یہ انداز ”فرینڈلی“اپوزیشن ہی ہے بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کا وقت پورا کرایا لہٰذا اَب چھوٹے بھائی بڑے بھائی کا لحاظ کریں گے لیکن پیپلز پارٹی ان دعوﺅں کی بھر پور تردید کرتی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے اس میں کسی قسم کی ڈیل بلکہ این آر او کی بھی مداخلت نہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں ماضی کی طرح ”اینٹ سے اینٹ “بجانے کا کوئی اشارہ نہیں دیا پھر بھی ہلکی پھلکی نشاندہی ضرور کی کہ اَب مفاہمت ختم ،حکومت کو سبق سکھائیں گے،ہم لڑنے نہیں سیاسی انداز سے کردار ادا کریں گے جس کیلئے میں اور بلاول پارلیمنٹ کا حصہ بنیں گے کسی کی کرسی نہیں کھینچیں گے بلکہ جمہوریت اور جمہوری انداز کو مستحکم کریں گے لیکن یہ دھمکی بھی دے دی کہ ”مغل بادشاہ“کو نہیں چھوڑیں گے ،اس تقریر دل پذیر سے میں تو صرف یہی سمجھا ہوں کہ دیکھو تم الیکشن نہیں جیتے پھر بھی ہم نے وعدے کے مطابق حکومت تمہارے حوالے کر دی تم نے من مرضی سے جو کچھ کرنا تھا کر لیا ملک تباہ ہو جائے گا اس لئے ہم چپ نہیں رہ سکتے ،اَب تمہاری باری ختم ہونے کو ہے اور ہماری باری ایک بار پھر آنے دو،ہم نے تو بغیر لڑے آمر کو دودھ میں مکھی کی طرح نکال پھینکا ،بھلا آمروں کی باقیات ہمارے سامنے کیا ہیں؟مطلب صاف ظاہر ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے ”بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی“اپنے اپنے مفادات میں ایک ہی ہیں ”ہم اور آپ“کچھ بھی نہیں اس لئے کہ ہماری عوام ”ووٹ کی طاقت“کو صیحح معنوں میں استعمال کرنے کی ضرورت سے آگاہ ہی نہیں ،جب ہی تو سیاسی نعروں میں بہک جاتی ہے۔٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved