Home کالم پانی ہی نہیں‘ دودھ بھی زہریلا
پانی ہی نہیں‘ دودھ بھی زہریلا

پانی ہی نہیں‘ دودھ بھی زہریلا

سی ایم رضوان….(جگائے گا کون)
بیرسٹر ظفر اللہ نے جون 2016ءمیں سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں دودھ سے متعلق پٹیشن دائر کی۔بیرسٹر صاحب نے اس پیٹشن میں انکشاف کیا تھا کہ ”پاکستان میں جعلی دودھ فروخت ہو رہا ہے اور لاکھوں لوگ اس دودھ کی وجہ سے مہلک امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں،تب چیف جسٹس سپریم کورٹ انور ظہیر جمالی نے 28جولائی 2016ءکو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دورکنی بنچ بنا دیا۔ بنچ نے سماعت شروع کی اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے جواب طلب کر لیا اتھارٹی نے دودھ کے نمونے جمع کرنا شروع کردیئے ان نمونوں کی جانچ پڑتال ہوئی تو نتائج نے ملک کی سابقہ تمام تاریخ میں پاکستان کی تمام عدالتوں،چاروں صوبوں، فوڈ اتھارٹیوں، محکمہ صحت اور حفظان صحت کےلئے قائم دیگر سرکاری اداروں کی تمام سابقہ کارکردگیوں کو سوالیہ نشان بنا دیاکہ یہ ادارے 67سال تک کیا کرتے رہے ہیں؟غفلت،لاپرواہی اور رشوت ستانی کی اس طویل ترین تاریخ میں ملک کے بچوں،خواتین اور مریضوں کے ساتھ اس طرح گھناﺅنا مذاق کیا جاتا رہا ہے۔دودھ کے نام پر ان کو صرف پانی ہی نہیں بلکہ زہریلے کیمیکل پلائے جاتے رہے اور آج نئی نسل بیماریوں اور صحت سے متعلق مہلک پیچیدگیوں کا شکار ہوچکی ہے اگر ماضی کو فراموش کرکے صرف حال میں کی گئی عدالت موصوف کی کارروائی کو ملک کے عوام پر احسان قرار دینے کی روش پر قائم رہا جائے تو پھر پانامہ کیس اور وزیر اعظم کے خاندان کی ماضی کی مبینہ اور ممکنہ بے ضابطگی کو بھی فراموش کردینا چاہیے اور اگر اس بے ضابطگی کو آج بھی قابل دست اندازی قانون تصور کیا جاتا ہے تو پھر ہر پاکستانی شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ دودھ کی اس قدر طویل جعل سازی اور لوگوں پر اس قدر طویل مظالم کی ذمہ دار پاکستان کی عدالتیں ہیں،فوڈ اتھارٹیاں ہیں یا پھر سابقہ تمام صوبائی اور مرکزی حکومتیں کہ جنہوں نے آج تک اس معاملہ کا نوٹس نہ لیا؟قوم کو محض لفاظی اور خالی دعوﺅں سے بہلانے اور حقائق سے دور رکھنے کے مجر م وہ اہل قلم بھی ہیں جو وقتی کارروائی پر فوری طور پر انہی ذمہ داروں کو قوم کا محسن قرار دے دیتے ہیں جو قبل ازیں غفلت اور لاپرواہی کا ارتکاب کرتے ہوئے خاموش رہتے ہیں اور جب کوئی مسئلہ ملک کا سنگین ترین مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے تو یہی سرسری کارروائی کا آغا زکر کے قوم کے ہیرو بن جاتے ہیں۔ جہاں تک بیرسٹر ظفر اللہ کا تعلق ہے تو ایسے معزز وکلا اور قانون دان واقعی قوم کے محسن ہیں جو روزانہ کوئی نہ کوئی ملکی مسئلہ لے کر پٹیشن اور رٹ دائر کرتے ہیں۔ ایسی سینکڑوں پٹیشنزاور رٹیں آج بھی عدالتوں کی توجہ کی منتظر ہیں جن کی سماعت سے ملک کے سینکڑوں سنگین ترین مسائل منکشف ہوسکتے ہیں اور قوم کی طویل اور شدید ترین مشکلات میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی آج اگر یہ رپورٹ دے رہی ہے کہ پچھلے تمام عرصہ میں گوالوں کے دودھ کے ذریعے لوگوں کے معدوں میں پانی،گندا پانی،بھینسوں کو آکسی ٹوسن نامی لگائے جانے والے انجکشن کے دودھ میں آمیزش جاتی رہی ہے اور اکثر گوالوںکا دودھ کریم سے خالی ہوتاہے اور پھر یہ بھی خشک دودھ،ٹیڑا پیک دودھ دراصل دودھ ہی نہیں ہوتا،ٹی وائٹنر بھی مہلک اور فضول ہے کیونکہ اس کو جس درجہ حرارت پر ابال کر بعدازاں پیک کیا جا تا ہے اس میں دودھ نام کی کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔اسی طرح دودھ سے تیارکی گئی مصنوعات جیسے چاکلیٹس،ٹافیاں،مکھن،گھی،دہی وغیرہ بھی محض کثافتیں ہیں تو اس رپورٹ کو ترتیب دینے اور پیش کرنے سے پہلے یہ فوڈ اتھارٹی دودھ نما پانی میں ناک ڈبوکر مر کیوں نہیں گئی کہ پچھلے تمام ادوار میں اس کی کارکردگی خاموش تماشائی ہونے سے ذرا برابر بھی زائد نہیں رہی۔اس اتھارٹی کے افسران اور ملازمین کیا کرتے رہے ہیں اور کس بات کی تنخواہیں اور مراعات لیتے رہے ہیں۔
جس دودھ میں بھینس کے جسم میں ہی کیمیکل کی ملاوٹ ہو جاتی ہے اس دودھ کے ساتھ گوالا بھی جی بھر کے ظلم کرتا ہے دودھ فروش بھی زہریلے کیمیکل ملاکر اپنی تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔ اس دودھ کو بھینس کے جسم سے لے کر انسانوں کے جسم تک محفوظ،خالص اور غذائیت سے بھرپور حالت میں لے جانے کےلئے کوئی آسمانی مخلوق نہیں آئے گی۔ یہ بندوبست عدالت عظمیٰ کے واضح احکامات پر مقامی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ فوڈاتھارٹیوں کے سخت ترین اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے موجودہ حالات میں جبکہ عام پاکستانی کا پاکستان کے اکثر اداروں کی شفاف کارکردگی سے ایمان اٹھ چکا ہے اور دودھ سے متعلق انکشافات پر دودھ پرسے بھی ایمان اٹھ گیا ہے ان دونوں چیزوں پر ایمان قائم کروانے کےلئے ہمارے ادارے اور عدلیہ کیا کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن جانے والا وقت یہ گواہی دے کر جارہاہے کہ روپے پیسے کے لالچ میں ہمارے لوگ اپنے ہی لوگوں کی جانوں سے کھیلنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور کھانے پینے کی چیزوں میں ایسی چیزیں،زہراور کیمیکل ملا دیتے ہیں کہ انسان تو کجا شیطان بھی دیکھ اور سن کر کانوں کا ہاتھ لگاتا ہے۔دودھ ایک ضروری غذا ہے ہر انسان کو اس کی ضرورت ہے اس ضرورت کو پورا کرنے کےلئے پاکستانی شہریوں کو اب خود ہی کوئی ایسا نظام وضع کرنا چاہیے کہ ان تک خالص دودھ پہنچے اس کےلئے محلوں،دیہاتوں اور ہاو¾سنگ کالونیوں کی سطح پر بھینسیں پال کر ایک جگہ پر محض چند گھنٹوں کےلئے دودھ ذخیرہ کرکے خود ہی سپلائی دینے کا بندوبست کرنا چاہیے۔دودھ کی پیکنگ کا نظام بھی فول پروف بنانا چاہیے۔حکومتیں خاص طور پر مقامی حکومتیں اس ضمن میں موثر اور قابل عمل منصوبہ بندی کرسکتی ہیں۔تاہم حالیہ انکشافات نے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے۔اب جہالت،غفلت اور رشوت کا خاتمہ کم از کم خالص دودھ کی دستیابی کےلئے بھی ضروری ہوگیا ہے۔٭٭

asif azam

LEAVE YOUR COMMENT

Your email address will not be published. Required fields are marked *