کچھ سید علی گیلانی کے بارے میں ….2

ضیا شاہد
دہلی سے آگرہ روانگی سے قبل ایک بار پھر ہماری ہوٹل ہی میں تفصیلی ملاقات ہوئی کیونکہ اگلے ہی روز ہمیں آگرہ جانا تھا جہاں مذاکرات شروع ہوئے اور پھر ناکامی کے بعد پرویز مشرف اور سرکاری وفد ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان واپس آ گئے اور ہم لوگ دوبارہ دلی آئے۔
افتخار گیلانی سے البتہ طویل نشست رہی۔ ہمارے پاکستان واپس آنے کے کچھ عرصہ بعد افتخار گیلانی نے کسی ایسے ادارے میں شمولیت اختیار کرلی جہاں پابندی کے باعث وہ کسی اور اخبار میں نہیں لکھ سکتے تھے چنانچہ ڈیلی ٹائمز کے ساتھ ساتھ روزنامہ ”خبریں“ یعنی دونوں پاکستانی اخباروں میں ان کے مکتوب شائع ہونا بند ہوگئے۔ جدوجہد آزادی کے لئے سید علی گیلانی کا شروع کردہ سفر جاری رہا۔ 27 دسمبر 2015ءکو انہیں اسلامی کانفرنس کی طرف سے دعوت نامہ ملا لیکن بھارتی حکومت نے جانے کی اجازت نہ دی۔ سید علی گیلانی نے 2014ءمیں ہونے والے مقبوضہ کشمیر کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی لیکن 65 فیصد ووٹروں نے ووٹ دے کر نئے وزیراعلیٰ کو منتخب کرلیا۔ سید علی گیلانی کا پاسپورٹ بھارتی حکومت نے ضبط کرلیا اور شدید بیماری کے باوجود انہیں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت نہ دی۔ گیلانی صاحب کا ایک گردہ کینسر کے باعث نکال دیا گیا ہے دوسرے پر بھی کینسر کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔ 2007ءسے اب تک وہ شدید علیل ہیں اس کے باوجود گھر میں نظر بند ہیں۔ مارچ 2014ءمیں انہیں سینے کی تکلیف ہوئی اور ایک بار انہوں نے علاج کے لئے باہر جانے کی کوشش کی۔ ان کی ایک بیٹی افتخار گیلانی صحافی کی بیوی اور دلی میں مقیم ہے جبکہ بیٹا ظہور بھی دہلی میں رہتا ہے۔ دوسری بیٹی فرحت جدہ (سعودی عرب میں مقیم ہے) ایک پوتا اظہار بھارت کی ایک نجی پرائیویٹ ایئر لائن میں ملازمت کرتا ہے۔ ان کا ایک بیٹا اور بہو ایک زمانے میں پنڈی (پاکستان میں) رہتے تھے لیکن بعدازاں مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ منموہن سنگھ نے 2007ءمیں انہیں شدید علالت کی بنیاد پر عارضی طور پر پاسپورٹ واپس کیا تھا تاکہ وہ علاج کے لیے باہر جا سکیں لیکن امریکی ہسپتال جس میں ان کا داخلہ بھی ہو چکا تھا مگر امریکہ کی ظالم انتظامیہ نے اس نیک نفس بیمار شخص کو بھی عراق جنگ کے دوران امریکہ کی مخالفت اور عراق کی حمایت کرنے کی وجہ سے علاج کے لیے امریکہ کا ویزہ دینے سے انکار کردیا۔ ان کا پاسپورٹ واپس لے لیا گیا تھا اور دوسری بار انہوں نے اپنی جدہ میں مقیم بیٹی سے ملنے کے لئے سعودی عرب جانے کے لئے پاسپورٹ مانگا مگر بھارت کی حکومت نے پھر انکار کردیا۔ سید علی گیلانی کے لئے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی ختم کردی گئی ہے۔
وہ کچھ عرصہ بھارت کی تہاڑ جیل میں بھی رہے ہیں اور یہ منحوس نام میرے ذہن سے کبھی اس لیے نہیں اترے گا کہ میرے ذاتی دوست اور محاذ رائے شماری کے سرگرم رہنما مقبول احمد بٹ جو بھارتی طیارے گنگا کے علامتی اغوا کے باعث پاکستان میں گرفتار ہوئے۔ برسوں جیل میں رہے کہ ان پر بھارتی جاسوس ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا لیکن دلچسپ بات ہے کہ پاکستان سے رہا ہو کر مقبوضہ کشمیر پہنچے تو بھارتی حکومت نے ان پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا اور پھر گرفتار کرلیا۔ مقبول بٹ کو اسی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔
سید علی گیلانی نے ایبٹ آباد سے اسامہ بن لادن کے خفیہ ٹھکانے پر امریکی حملے اور ان کے مبینہ قتل کی بھی شدت سے مخالفت کی تھی۔ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید پر بھارت میں دہشت گردی کا الزام لگا تو بھی سید علی گیلانی نے بھارتی حکومت پر شدید نقطہ چینی کی۔ حالانکہ وہ سیاسی جدوجہد کے قائل ہیں مسلح جدوجہد کے نہیں۔ ان کا مو¿قف یہ ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان جھگڑا نہیں ہے کہ اس پر دونوں ملک براہ راست مذاکرات کریں۔ گیلانی صاحب پاکستان سے الحاق کے بھی حامی ہیں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے چاہتے ہیں۔ تاہم شیخ عببداللہ کے بیٹے شیخ مصطفی کمال نے بار بار ان پر پاکستان کے ایک حساس ادارے آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ آخری بار پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے دہلی میں انہیں حریت لیڈروں کے ساتھ پاکستان ڈے کے موقع پر کھانے پر بھی بلایا تھا۔ یہ واقعہ مارچ 2015ءکا ہے اس کے بعد گیلانی صاحب کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔ یوں تو سید علی گیلانی نے بہت کچھ لکھا ہے۔ تاہم ان کی دو کتابیں ”قصئہ درد“ اور ”رودادِ قفس“ بہت مشہور ہوئیں۔ میں نے کشمیر امور پر مسلسل کالم لکھنے والے ”خبریں“ کے قلم کار صغیر قمر سے جو راولپنڈی کے ایک تعلیمی ادارے سے منسلک ہیں یہ کتابیں منگوائی ہیں اور میری خواہش ہو گی کہ ان کے چیدہ چیدہ حصے ”خبریں“ کے قارئین کے مطالعے کی نذر کروں۔ میں نے عزیزم صغیر قمر سے معلوم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ ٹیلی فون پر بھی ان کی نحیف آواز مشکل ہی سے سنائی دیتی ہے اور زیادہ تر رابطہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اسلم لون کے ذریعے ہوتا ہے۔ قارئین کی اطلاع کیلئے سید علی گیلانی کی صحت اگرچہ انتہائی ناساز ہے تاہم ان کی ہمت اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی اور زندگی کے آخری سانس تک وہ کشمیر کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے پر مُصر ہیں۔ جن دو کتابوں کا تذکرہ میں نے اوپر کیا ان کے علاوہ سید علی گیلانی کی دس کتابیں اور بھی چھپ چکی ہیں اور میں کسی دن ان سے براہ راست فون کر کے سلام دعا کے بعد سیکرٹری کے ذریعے بالواسطہ گفتگو کروں گا اور ٹیلی ویژن اور اخبار دونوں ذریعوں سے ان کے تازہ ترین ارشادات اپنا پروگرام دیکھنے والوں اور پڑھنے والوں کیلئے پیش کروں گا۔
(جاری ہے)

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved