”سیاسی و نظریاتی صلیبی جنگ“

مرزا اسلم بیگ….خاص مضمون
ہم بظاہر اپنے ہی آپ سے حالت جنگ میں ہیں کیونکہ یہ ہماری”پراگندہ سوچ ہے“ جو ہمارے معاشرتی نظام میں گہری تفریق کا باعث ہے۔1958 میں جب خان آف قلات نے اپنے سیاسی حقوق کے مطالبات کئے تو ان کے اس احتجاج کو بغاوت کا نام دے کر ان کے خلاف لشکرکشی کی گئی۔اسی طرح بلوچستان کے دیگرقبائل کے خلاف فوج کشی کایہ عمل پانچ مرتبہ دہرایا جا چکا ہے اور2005 سے اب تک سوات، دیر، باجوڑ، وزیرستان اور فاٹا کے علاقوں میں عسکری قوت کے ذریعے سیاسی مسائل کو سلجھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں کیونکہ ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہی احتجاج اگر پنجاب اور سندھ کے عوام سڑکیں بلاک کر کے،دھرنے دے کر یا شہر و بازار بند کرکے کرتے ہیں تو ان کے خلاف فوج استعمال نہیں کی جاتی جبکہ قبائل کے احتجاج کا طریقہ مختلف ہے کہ وہ ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں تو اسے بغاوت کے معنی پہنا دئیے جاتے ہیں اور پھر ان سے نپٹنے کیلئے بات چیت اور افہام و تفہیم کے تمام راستے بند کرکے فوجی طاقت استعمال کی جاتی ہے۔یہی وہ الجھاﺅ ہے جسے ہم سلجھا نہیں پا رہے ہیں۔ اتنا ہی کیا کم نہ تھا کہ حکومت نے مخالف طبقات کے خلاف پابندیاں لگانا شروع کر دیں جن کی تعداد اب درجن سے زائد ہو چکی ہے،انہیں کالعدم قرار دیتے ہوئے ان سے مذاکرات اور بات چیت کے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ ایسے عناصر اب ملک بھر میں پھیل کر خون خرابا کر رہے ہیں۔یہ ابتر صورت حال نہ صرف ہمارے اعصاب پر سوار ہے بلکہ ہمارے دشمنوں کو ہماری قومی سلامتی کے خلاف سازشوں کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
ترکی کے صدر نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر خبردارکیا تھا کہ” پاکستان کی سلامتی کو فتح اللہ گولن طرز کے خطرات کا سامنا ہے“ جس سے نمٹنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔واشنگٹن کے مشرق قریب کے بارے پالیسی ساز ادارے کے بقول” ترکی بذات خود بھی دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا شکارہے اور پورا ملک اپنے آپ سے حالت جنگ میں ہے جس سے مذہبی اور نسلی طبقات کی تفریق گہری ہوتی جا رہی ہے۔صدر اردگان کے حامی اور ان کے مخالفین اس تفریق کے اہم اسباب ہیں“۔ اسی طرح پاکستان کی سیاسی و نظریاتی تفریق الجھتی اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے جو فوری تدارک کی متقاضی ہے۔ہماری نظریاتی تفریق اور نظریات سے عاری موجودہ نظام حکمرانی ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جو ایک خطرناک صورت حال ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں نظام حکومت منتخب کرنے کااختیاردیا ہے اور جہاں تک اس کی بنیاد کا تعلق ہے تو وہ قرآن و سنہ کے اصول ہیں۔ارشاد ربانی کے تحت 1973 کے آئین میں ہمارے نظریہ حیات کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے:
”پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہوگا جس کی بنیادقرآن و سنہ کے اصولوں پر ہوں گی۔“
لیکن بدقسمتی سے ہم نے قرآن و سنہ کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف جمہوریت کو ہی ترجیح دی ہے۔نہ ماضی کی کسی حکومت کو، نہ موجودہ حکومت کو اور نہ ہی متعدد مذہبی جماعتوں میں سے کسی کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ قوم کی نظریاتی شناخت کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ دے۔ہم اپنے بچوں کو مسلم شناخت دینے میں ناکام ہوئے ہیں کیونکہ ہمارا نظام تعلیم قرآن و سنہ کے اصولوں سے یکسر عاری ہے۔قومی ایکشن پلان یہ تاثر دیتا ہے کہ مذہبی جماعتیں ہی پاکستان میں دہشت گردی کی بنیاد ہیں جبکہ ہماری سیاسی و نظریاتی تفریق کے سبب ہمارا برسر اقتدار طبقہ ہے، جس نے ہمارے معاشرے کولبرل ، سیکولر، روشن خیال اور قوم پرست گروپوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ مذہبی طبقات نظراندازا ہونے کے سبب نمایاں سیاسی مقام نہیں رکھتے اور نہ ہی حکمرانی سے متعلق معاملات یا پالیسی سازی کے عمل میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔وہ تو بذات خود زیادتی کا شکار ہیں۔ ہمارے عوام انہیں ووٹ نہیں دیتے لیکن اس کے باوجود اس طبقے کو ملک میں دہشت گردی کے فروغ کا سبب سمجھنے سے اپنے گناہوں کو چھپانامقصود ہے۔
لبرل اور سیکولر عناصر ملکی معاملات سے مذہب کو الگ کر دینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی دانست میں ”انسانی بقا کا محور اللہ تعالی کی ذات کی بجائے ترقی پسندانہ نظام ہے اور شخصی خودمختاری کا قائل ہے۔اولیت اللہ تعالی کی ذات کونہیں بلکہ انسان کو حاصل ہے“۔ بنگلہ دیش اس امر کی واضح مثال ہے لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔خدانخواستہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو پاکستان ایک طوفان میں گھر جائے گا۔ کچھ ایسی ہی صورت حال 66۔1965 میں انڈونیشیا کو درپیش تھی جب وہاںسوشلزم اور کیمونزم کی تبلیغ کی جارہی تھی جس کےخلاف وسیع پیمانے پراحتجاجی تحریک چلی اورخانہ جنگی شروع ہوئی جو ڈیڑھ ملین عوام کی موت کا سبب بنی اور پھر صدر سہارتو نے اقتدار سنبھال لیا۔خدانخواستہ اگر ہم گرتی ہوئی صورت حال کا تدارک کرنے میں ناکام رہے توہمیں تباہ کن خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان کوئی جزیرہ نہیں ہے۔ہمارے پڑوس میں ایران اور افغانستان جیسے انقلابی ممالک ہیں جو خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہماری دینی جماعتوں کوصور تحال سے فائدہ اٹھاکرقیامت برپا کرنے کا موقع مل جائے گا۔
افسوس کہ ہم بذات خودواشنگٹن کی 2010ءمیں اعلان کردہ سازشی پالیسی میں فریق ہیں جس کے تحت ”پاکستانی قوم کی نظریاتی تبدیلی کی خاطر1.4 بلین امریکی ڈالر مختص کئے گئے تھے“۔ اسی سازش کے سبب پاکستانی قوم میں لبرل، سیکولر اور روشن خیال طبقات کی تفریق پیدا کرائی گئی جبکہ پاکستانی قوم گزشتہ سات دہائیوں سے ایسے عناصرکے ساتھ خوش اسلوبی سے رہتی چلی آرہی ہے جو ایک اعتدال پسندمسلم معاشرے کی عمدہ ترین مثال ہے جہاں تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگ پرامن طریقے سے رہتے رہے ہیں جن میں سب ہی شامل ہیں مثلاً خارجی، تکفیری، سلفی، وہابی،قادری، نقشبندی، دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور سنی فرقے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ”سیاسی و نظریاتی صلیبی جنگ“ نے پاکستان کے اعتدال پسند مسلم معاشرے کے چہرے کو داغدار کر دیا ہے۔ اس ابتر صورت حال کا تدارک کرنے کیلئے ہمیں آئین پاکستان میں دئیے گئے قومی نظریہ حیات کو محفوظ بنانے کیلئے ایک آسان سا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہماری پارلیمنٹ کو ایک قانون پاس کرنا ہوگا کہ ”تمام انگلش ا ور اردو میڈیم سکولوں میں تیسری جماعت سے آٹھویں جماعت تک تمام مسلمان طلباءکیلئے قرآن و سنہ کی تعلیمات لازمی ہوں گی“۔ ہمارے قومی نظریہ حیات کے دونوں عناصر کے مابین توازن پیدا کرنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے جس میں جمہوریت ہمارا نظام حکمرانی ہوگا اور قرآن و سنہ اس نظام کو نظریاتی تحفظ فراہم کرے گا لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار یعنی ہمارے صدر، وزرائے اعظم، چیف جسٹس ، گورنرز اور وزراءجنہوں نے”اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحفظ اوردفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے“ وہ سب قومی نظریہ حیات کے تقدس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔موجودہ ابتر صورت حال کے تدارک کی ذمہ داری جہاں ارباب اختیار پر عائد ہوتی ہے وہیں عوام کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک ایران میں ولایت فقیہہ کا نظام حکمرانی نافذ ہے جس کی بنیادیں قرآن و سنہ کے اصولوں پر ہیں جس کی وجہ سے ایرانی عوام غیر ملکی پابندیوں، شرائط اورعراقی جارحیت جیسے ہتھکنڈوں سے لڑنے کی نہ صرف طاقت رکھتے ہیں بلکہ انقلاب اسلامی میں کامیابی و کامرانی سے بھی سرفراز ہوئے ہیں۔اسی طرح افغانی عوام بھی افغانستان میں اسلامی ریاست قائم کرنے کیلئے پرعزم ہیں اورگزشتہ تین دہائیوں میں انہوں نے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔وہ اپنے عزم پر سختی سے قائم ہیں۔ ان کا اعلان ہے کہ قابض فوجوں کا ۱یجنڈا ان کیلئے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا ان کی قومی اقدار ،روایات اور نظریات کے خلاف ہے۔نظریاتی قوت ہی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے اورانشاءاللہ یہی قوت پاکستان کے روشن مستقبل کا تاریخی فیصلہ د ے گی۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved