الزام تراشی ، کرپشن کا انوکھا انداز!

صوفیہ بیدار……..امروز
۲۰۱۷کا آغاز بھی الزام تراشیوں‘ بہتان بازیوں اور جواباً دلیلوں اور وکالتوں سے ہوا ہے…. وہ دولت جو مصرف میں نہیں…. وہ محبت جو قسمت میں نہیں اور وہ دھن جو معطون ہے کس کو راحت دے سکتا ہے؟
سب کہتے ہیں صوفی دل ہونا چاہئے مگر صوفیوں کی اس سرزمین پر ایک بھی صوفی منش نہیں جو کہے وہ بہت بڑا جھوٹا ہے‘ سب کو سب کچھ نئے برانڈ کا چاہئے۔ ”برانڈز“ نے صوفیوں کو شکست دے رکھی ہے‘ دنیا بھر میں بنائے گئے گھروں اور بینکوں میں سڑتی دولت یقینا کشش کا باعث ہے وگرنہ دن رات اس دولت اور دولت گھروں کے خلاف لکھنے والے کالم نگار خود اس قدر شاہانہ طرز زندگی نہ گزار رہے ہوتے۔
لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ آدھے لوگوں کو اگر کرپشن سے کمانے پر ”دھن“ ملتا ہے تو باقی آدھوں کو اس کے خلاف بولنے پر…. لکھنے پر اور پھر منہ بند کر لینے پر کرپشن یک رخی اور یک ذریعہ نہیں ہوتی‘ ہشت پہلو ہوتی ہے۔ اس کی سراغرسانی اطراف کے طاقتور ادارے صحافی اور اینکر و چینلز اس لئے نہیں کرتے کہ انہیں کرپشن سے نفرت ہوتی ہے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں حصہ دیں وگرنہ سب کچھ طشت ازبام کردیں گے اگر حصہ نہ ملے تو پھر طشت ازبام کرنے کے معاوضے الگ بہت سارے معروف اینکر چینل سے لاکھوں کی تنخواہ چھوڑ کر حکومت سے معاملہ کرکے اچانک کسی ادارے کے ہیڈ بن جاتے ہیں‘ کوئی نہیں پوچھتا کہ موصوف کے ہاتھ کون سی ”گدڑسنگھی“ کون سا راز آیا کہ موصوف ضخیم تنخواہ پر ”نوکر“ ہوگئے مگر اب یہ بہت واضح ہے کہ دولت کمانا اور بدنام نہ ہونا ایسا آسان کام نہیں رہ گیا۔ دیکھ لیں ناں شاہ احمد نورانی جو پوری زندگی دو کمروں کے فلیٹ میں گزار گئے کوئی بھولے سے بھی الزام نہیں لگاتا۔ آج ماضی کے سیاست دانوں میں مولانا مفتی محمود‘ مولانا ابواعلیٰ مودودی‘ شیخ مجیب الرحمن‘ نوابزادہ نصراللہ خاں‘ پیر صاحب پگاڑا‘ قاضی حسین احمد و دیگر اس قبیل کے سیاست دانوں پر کوئی الزام نہیں…. فرشتہ تو ہم میں کوئی نہیں مگر لامحدود کرپشن سے صرف بے وقوفی‘ نالائقی اور آٹھویں نامعلوم نسل سے لالچی قسم کی محبت کے شواہد ملتے ہیں جو کسی کام کی نہیں وہ محبت جو خلق خداکا حق مار کر آٹھویں نسل کی بہوﺅں کی شاپنگ کے لئے کی جارہی ہے جس کام کی….؟
وہ جن کے پاس موقع ہے ”اشوکا“ اور ”بدھا“ کی طرف کتبوں‘ دیواروں اور پتھروں پر اپنے نام اپنے اشلوک اور اپنے اقوال زریں کندہ کروانے کا ان کے لئے عرض ہے
پانیوں کے تلے وہ بستی تھی
گنتیوں میں تراشا بھی گیا
اور ڈاکٹر جب تمام تر دولت کے باوجود باہر آکر کرپٹ ترین امیر رشتے دار کی رحلت کاکہتے ہیں ”سوری“ تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس بت میں جان نہیں ڈال سکتی۔ کلمے والی منجھی کو جلد از جلد قبرستان پہنچانے والے لبریز مسکراہٹوں والے اعزاءاس دولت کو خرچ کرتے ہیں جسے کمانے کے لئے کوئی نیب اینٹی کرپشن اور حقداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا۔ دوسروں کے لئے نار جہنم اکٹھا کرتا رہا اور اس پر ستم یہ کہ یہ اس کے لئے نار جہنم تھا‘ دوسروں کے لئے وراثت…. لہٰذا خود سے محبت ہو تو کرپشن کی کوئی نہ کوئی حد تو مقرر کی جاسکتی ہے مگر بیماری میں یہی ہے کہ
بے حد دوڑ بھاگ کرتے تھے
جس میں بیٹھے تھے امتحان بھی گیا
جب مقدمہ لگتا ہے تو یہ اثاثہ دار اس کرپشن کا شجرہ نہیں بتاتے بلکہ جوابی کرپشن کی کہانیاں پیش کرکے اپنی کرپشن کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں۔
”ایدھی“ کا ”جانا“ دیکھ کر بھی ہم نے کچھ نہیں دیکھا‘ اپنی قبر تیار رکھنے اور لباس و طعام‘ خوشبو و اہتمام سے پرہیز کرنے والے کی محبت کی خوشبو وطن کے بچے بچے کے دل میں رچ بس گئی ہے۔ رگوں میں ہے نسل در نسل منتقل ہوگی بلکہ ایسے ہی جیسے سیاستدانوں کی کرپشن کی کہانیوں کو لوگوں کی نسلیں روئیں گی اور ہر نسل بددعا بن کر ان کا پیچھا ان جہانوں میں بھی کرے گی جہاں یہ عمرے ‘حج ‘بکرے قربانیاں اور دکھاوے کرکے جنت میں عمدہ مقام پر متمکن ہونے کے خواب دیکھتے ہیں کہ سب کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔ من پسند فتوے بھی لئے جاسکتے ہیں مگر اللہ کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا….
دل گیا جاں گئی جہاں بھی گیا
آگ سلگی تو پھر دھواں بھی گیا
ملکیت کیا ہے ان زمینوں کی
سانس الجھے تو آسمان بھی گیا
تنکا تنکا سنبھل کے رکھا ہوا
نوک تلوار آشیاں بھی گیا
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved