سرائیکی رہنماﺅں کی منافقت

راﺅ محمد اسلام …. بحث و نظر
گذشتہ برس 9 ستمبر کو اسلم اکرام زئی کے مضمون سے شروع ہونیوالی سرائیکی و نان سرائیکی بحث اپنے عروج پر ہے،اور جب بھی صوبے کا قیام عمل میں آیاتو اس کے قیام میں روزنامہ خبریں کا کردار سب سے نمایاں ہوگا۔اس بحث سے قبل سرائیکی رہنما ہر جگہ اور ہر فورم پر یہ ثابت کرتے تھے کہ روزنامہ خبریں ”سرائیکی صوبہ“ کیلئے ”کام“ کررہا ہے مگر اس بحث نے ”خبریں“ کی پیشانی سے اس ”داغ“ کو دھودیا ہے۔بحث کے مثبت اور منفی پہلو بہرحال موجود ہیں مگر اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔گذشتہ چوتھائی برس سے جاری اس بحث سے تین باتیں روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہیں جن کا انکار کرنا کسی بڑے سے بڑے متعصب دانشور کے بس میں بھی نہیں ہے۔اس بحث کے نتیجہ میں پہلی بات جو پائیہ ثبوت تک پہنچی وہ یہ کہ اس خطے میں بسنے والا ہر فرد صوبے کے قیام کا حامی ہے،اور کوئی ایک فرد بھی ایسا سامنے نہیں آیا جس نے صوبے کے قیام کی مخالفت کی ہو،لہٰذا یہ بحث ختم ہوجانی چاہیے کہ صوبہ بنایا جائے یا نہیں بلکہ اپنی ساری توجہ اس بات پر مرکوز کی جائے کہ صوبے کا حصول کیونکر ممکن ہے؟دوسری بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ اس خطے میں بسنے والے صرف سرائیکی ہی نہیں ہیں بلکہ نان سرائیکی بھی اسی خطے کا حصہ ہیں۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 20 ستمبر2016 ءکو شائع ہونیوالا ظہور دھریجہ کالم بھی ”سرائیکستان۔۔نان سرائیکی نقطہ نظر“کے نام سے ہے۔وگرنہ اس سے قبل تو اس حقیقت کا مطلقاًانکار کیا جاتا رہا کہ اس خطے میں سرائیکی کے علاوہ بھی کوئی اور موجود ہے،یا پھر یہ کہ اس خطے میں بسنے والا ہر فرد سرائیکی ہے مگر اس بحث نے اپنا اثر چھوڑا اور ”انکارکے پیکر“ بھی ”پیکرِاقرار“نظرآئے۔تیسری بات اس بحث کے نتیجے میں یہ سامنے آئی کہ سرائیکی بطور زبان کسی اختلاف کا حصہ نہیں ہے،اس بحث میں شامل تمام کالم نگاروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ سرائیکی ایک خوبصورت اور میٹھی زبان ہے،جبکہ اس کے فروغ اورترویج واشاعت پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اس اتفاق رائے کے بعد محض ایک پہلو اختلاف کا باقی ہے اور وہ بھی خوب نکھر کر سامنے آیا ہے،اس پہلو پر بھی طرفین نے دلائل کا انبار جمع کردیا ہے جس کے نتیجے میں قارئین خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس کے دلائل وزنی اور قرین عقل ہیں۔اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے بحث میں مزید خوبصورتی پیدا کی جاسکتی ہے۔مگر ایک افسوسناک پہلو جو اس بحث میں سامنے آیا وہ یہ کہ جب تک روزنامہ خبریں نے صرف سرائیکی صوبے کے ایشو کو اپنے صفحات پر جگہ دی اور بقول شخصے”یکطرفہ ٹریفک“چلتی رہی اس وقت تک تو ”خبریں“اور چیف ایڈیٹر خبریں کیلئے داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے رہے مگر جیسے ہی اس موقف سے اختلاف رکھنے والوں کو انہی صفحات پر جگہ دی گئی وہ داد و تحسین شدید تنقید اور تحفظات میں تبدیل ہوگئی،پھر کچھ نام نہاد تعصب پسند عناصر نے خبریں کو بھی ”وسیب دشمن “ کا خطاب دے دیا،سوشل میڈیا پر وہ ساری تنقید موجود ہے جسے کوئی بھی شخص دیکھ سکتا ہے،بات یہیں تک ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک طرف خبریں کے صفحات پر اس بحث کی افادیت کا ڈھول پیٹنے والے دوسری طرف عدالتوں میں کیس دائر کرتے بھی نظرآئے۔میری نظر میں ”دورنگی“اور ”منافقت “ کی اس سے بڑی مثال پیش نہیں کی جاسکتی،یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ،کڑواکڑوا تھو تھو۔پھر اسی بحث کے نتیجے میں بزعم خود سرائیکی دانشوروں کا تعصب بھی مزید نکھر کر سامنے آیا۔خودساختہ سرائیکی وسیب کے سات کروڑ افراد کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والوں سے جب اختلافی مضامین برداشت نہ ہوئے تو خطوط اور مضامین کے زریعے چیف ایڈیٹر ضیاءشاہد صاحب کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ سرائیکی صوبے سے اختلاف کرنے والے لکھاری نہیں ہیں بلکہ گلی محلے سے اٹھ کر مشہور ہونے کیلئے کالم لکھ رہے ہیں،لہٰذا ایسے کالم نگاروں سے بچا جائے۔انہی مضامین میں نئے لکھنے والوں کو مبنی بر تعصب القابات سے نوازا گیا جیسا کہ عینک والا جن، درشتی جن، نامعلوم درشتی لکھاری،فصلی بٹیرے،وغیر وغیرہ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ نئے لکھنے والوں کیلئے ایسے الفاظ کا استعمال بوکھلاہٹ اور تنگ نظری کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔
میرے جتنے مضامین اس موضوع پر شائع ہوئے ان میں کوئی بات بھی بغیر حوالے کے نہیں کی گئی تھی اسی لئے سرائیکی دانشورمیرے کسی بھی کالم کا جواب دینے سے قاصر رہے۔ایک کالم کے جواب میں پروفیسر شوکت مغل نے طبع آزمائی کی کوشش کی مگر کسی بات کا مستند جواب نہیں دے پائے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرائیکی تحریک محض ”ڈھگوسلوں“پر قائم کی گئی ہے۔
اس تمہیدی گفتگو کے بعد میں آج کے مضمون میں جو بات کرنا چاہتا ہوں وہ تمام سرائیکی دانشوروں کیلئے ایک بہت بڑا سوال بھی ہے،اور میں چاہوں گا کہ اگر اس سوال کا کوئی مدلل جواب موجود ہے تو انہی صفحات میں سامنے لایا جائے ۔سوال یہ ہے کہ سرائیکی دانشور اپنے لئے تو ”زمین زادے“اور ”وسیب زادے“کا لفظ استعمال کرتے ہیں چاہے وہ سندھ سے آکر یہاں آباد ہوئے یا پھر افغانستان یا عرب ممالک سے ہجرت کرکے آئے مگر جو لوگ لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر1947 ءمیں قیام پاکستان کے وقت اس خطے میں آباد ہوئے ان کیلئے ”مہاجر“،”پناہی“اور”آباد کار“ کے الفاظ کیوں استعمال کئے جاتے ہیں؟اگر میری اس بات کی حقانیت سے کوئی صاحب انکار کرے تو اپنے موقف کے حق میں سینکڑوں حوالے میرے پاس موجود ہیں جو پیش کئے جاسکتے ہیں۔کیا ان سرائیکی دانشوروں نے ایسا کوئی پیمانہ ایجاد کیا ہوا ہے جس کے ذریعے یہ لوگ ”زمین زادے“اور ”مہاجر“ میں فرق کو جان سکتے ہیں۔یاپھر ایسا کوئی ادارہ موجود ہے جہاں سے سرٹیفکیٹ حاصل کرکے یہ خود تو ہجرت کے عمل سے گزرنے کے باوجودزمین زادے ٹھہرے اور 1947 ءمیں ہجرت کرکے آنے والوں کو آج تک اس ”تمغے“سے محروم رکھا ہوا ہے۔اگر اس بات کا جواب یہ دیا جائے کہ ہاں ایسا پیمانہ موجود ہے جو زمین زادے اور مہاجر میں تفریق کرتا ہے ،اور وہ ہے دھرتی سے محبت اور چونکہ دھرتی کا نام ”سرائیکی وسیب“ ہے لہٰذا جو اس دھرتی کی شناخت میں گم ہوگا وہ زمین زادہ کہلائے گا اور اس کے علاوہ سب مہاجر۔ تو میرا سوال یہ ہوگا کہ جناب عالی،اس بات کا فیصلہ کس ”ادارے“ نے کرنا ہے کہ اس خطے کا نام”سرائیکی وسیب“ ہے۔یا یہ بھی آپ نے خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے کہ ہمارے اس خطے کا نام سرائیکی وسیب ہے۔اگر آپ یہ کہیں کہ اس دھرتی پر بسنے والا کوئی بھی شخص مہاجر نہیں ہے تمام لوگ زمین زادے ہیں تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم بھی زمین زادے ہیں تو کیا ہمیں وہ حق حاصل نہیں ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے آپ نے بزعم خود اس خطے کا نام متعین فرما دیا۔اگر آپ زمین زادے ہونے کی حیثیت سے اس خطے کا نام رکھنے کا اختیار رکھتے ہیں تو پھر مجھے بھی زمین زادہ ہونے کے ناطے یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ میں بھی اپنی اس پیاری ماں دھرتی کو اس کے اصلی اور قدیمی نام سے پکار سکوں،اور ماں دھرتی کی شناخت کو تبدیل کرنے والوں کو بے نقاب کرسکوں۔میں یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ جب ہم لوگ 1947 ءمیں اس خطہ ملتان میں آباد ہوچکے تھے اور اس خطے کی تعمیر وترقی میں ہمہ وقت حصہ لے رہے تھے تو پھر آپ کو کیا ضرورت محسوس ہوئی کہ 1962ءمیں اس ماں دھرتی کا نام ملتان سے بدل کر سرائیکی رکھ دیا اور جن سے آپ نے مشورہ کرنا بھی گوارہ نہیں کیا ان کو محض اتنی سی بات پر غدار کہا جارہاہے کہ وہ 1947 ءمیں ہجرت کرکے آئے تھے اور آپ شائد چند سال یا چند دہائیاں قبل۔اور پھر ضد بھی شروع کردی کہ چونکہ ہم اس خطے کا نام رکھ چکے ہیں لہٰذا اب یہاں بسنے والا ہرشخص یہی شناخت اپنائے ورنہ پھر غدار اور دشمن کے القابات….ارے بابا خدا کا خوف کریں سارے اختیار آپ نے خود ہی اپنے پاس رکھ لئے ہیں،کسی اور کیلئے بھی کوئی حق محفوظ رکھیں۔یا اس خطے میں بسنے والے دیگر لوگ محض اس بات کے پابند ہیں کہ جو کچھ آپ فرمادیں وہی برحق ہے اور سب پر اسی کی پیروی لازم….؟ ؟ ؟ ۔ یہیں پر بس نہیں ہوتی بلکہ یہاں تو یہ متعصب دانشور اس سے بھی کئی ہاتھ آگے بڑھ چکے ہیں اور اپنی خود ساختہ شناخت کے نام پر صوبے کا مطالبہ شروع کردیا ہے جس کا نام اور جغرافیہ بھی خود ہی متعین کئے پھرتے ہیں ،ان کو اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں کہ ان کے مجوزہ نقشے میں جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ خیبرپختوانخوا کے اضلاع بھی شامل کردیئے گئے ہیں ،جن کا قصور محض اتنا ہے کہ وہاں کچھ لوگ سرائیکی بولتے ہیں اور وہ لوگ ان سے راہ ورسم رکھتے ہیں۔جبکہ خیبر پختونخواہ سے زیادہ آبادی صوبہ سندھ میں سرائیکی بولتی ہے مگر اس صوبے کے کسی علاقے کو انہوں نے اپنے نقشے کا حصہ نہیں بنایا،یہ سازش بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔یہ نام اور جغرافیہ رکھتے وقت بھی انہوں نے کسی غیر سرائیکی سے مشورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔یہی وجہ ہے کہ آج صوبے کے قیام سے پہلے ہی ہر طرف سے سرائیکستان کی مخالفت میں آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔اگر یہ بات سچ نہ ہوتی تو روزنامہ خبریں میں جاری یہ بحث اتنے عرصے پر محیط نہ ہوتی،چند مضامین کے بعد بند ہوچکی ہوتی۔
میری دانست میں اس خطے کے صوبہ نہ بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہاں کے وہ لسانیت پرست ہیں جو اپنے علاوہ کسی اور کے موقف کو برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں،جو لسانی تعصب کی بنیاد پر اپنی مرضی کے نام،جغرافیے اور شناخت پر بضد ہیں ۔جبکہ انکی عوامی پذیرائی سے میں اپنے گذشتہ مضمون میں پردہ اٹھا چکا ہوں ۔جب یہ لوگ اپنے گھرمیں اتحاد و اتفاق پیدا نہیں کرسکتے تو پھر یہ کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ اس کثیرالاقوام اور کثیر اللسان خطے کو نمائندگی کریں گے۔ہمارا موقف آج بھی یہ ہے کہ اس خطے کی قدیم شناخت ”ملتان“ ہے اور یہاں بسنے والا ہر فرد،یہاں کی ثقافت،یہاں کی مٹی،یہاں کی زبان ملتانی ہے۔اگر قدیم ثقافت پر ہی اتفاق رائے کرنا ہے تو پھر وہ”ملتان“ پر ہوسکتا ہے سرائیکی پر ہرگز نہیں چاہے یہ لوگ صدیوں تک سرائیکستان کا راگ الاپتے رہیں۔انکی اس ضد اور ہٹ دھرمی پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”ایں خیال است و محال است و جنوں“٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved