فوجی عدالتوں کا سہارا کب تک؟

ذوالفقار چودھری تیسری آنکھ
صاحبو! آج کل ورائٹی کا زمانہ ہے کھانے پینے ، پہننے اور استعمال کی سبھی چیزوں میں ورائٹی کو ہی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ورائٹی کا اس قدر کریز ہوگیا ہے اب تو ہمارے عدالتی نظام میں بھی بہت زیادہ ورائٹیاں آگئی ہیں۔ مثلاً فوجداری عدالتیں، دہشت گردی کی عدالتیں، فوجی عدالتیں، اسلامی شرعی عدالت اور اگر حکومت کا کہیں موڈ بنے تو وہ مڈل پاس اعزازی مجسٹریٹ بنا کر مہنگائی مافیا کے خلاف کریک ڈاﺅن کرنے کا اختیار بھی کرسکتی ہے گویا جس طرح کا ملزم ویسی ہی عدالت ان کےلئے موجود ہے جیسا کہ آج کل ملک میں فوجی عدالتوں کا معاملہ چل رہا ہے۔یہ قصہ آج حکومت کے فوجی عدالتوں کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد مقدمات کو دہشت گردی کی عدالتوں میںبھجوانے کے فیصلے پر یاد آیا۔
سانحہ اے پی ایس کے بعد ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت نے سکیورٹی امور کا بغور جائزہ لیا اور کمزوریوں‘ کوتاہیوں کا احاطہ کرتے ہوئے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی تھی جس میں دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہچانے کےلئے دوسرے اقدامات کے ساتھ دہشت گردی کے مقدمات کی تیز اور مو¿ثر سماعت کےلئے فوجی عدالتوں کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا‘ جسے ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کچھ تحفظات کے ساتھ قبول بھی کرلیا تھا جن میں فوجی عدالتوں کے شدید مخالف مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن پیپلزپارٹی بھی شامل تھیں۔ البتہ پیپلزپارٹی کے رہنما اور چیئرمین سینٹ رضاربانی نے سینٹ میں فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی کا یہ فیصلہ انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر قبول کیا ہے اس طرح حکمران جماعت نے بھی فوجی عدالتوں کے بل منظور کرواتے وقت پارلیمنٹ کو یہ باور کرایا تھا کہ کیونکہ ملکی تفتیشی اور عدالتی نظام میں خامیاں ہیں جن کی وجہ سے دہشت گردوں کےخلاف عدالتوں کو فیصلے کرنے میں دشواری آتی ہے۔ اس لئے حکومت یہ بل صرف دو سال کے عرصہ کےلئے منظور کروانا چاہتی ہے تاکہ اس دوران حکومت سول نظام عدل میں بنیادی اصلاحات نافذ کرسکے۔ اس طرح سیاسی قیادت کے مخمصے میں بے دلی کے ساتھ یہ قانون منظور کیا اور دو سال گزرنے کے بعد 6 جنوری کو فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوگئی۔ تاہم عین وقت پر وفاقی وزیرداخلہ نے قوم کو یہ نوید سنائی کہ حکومت فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور دہشت گردی کے تمام مقدمات کی سماعت اب دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوگی۔ حکومت کے اس فیصلے پر سیاسی جماعتوں بالخصوص مذہبی حلقوں نے خاموش اطمینان کا اظہار کیا ہے جو یقینا ہونا بھی چاہئے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے جس مجبوری کی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر یہ قانون پاس کیا تھا‘ یا وہ تمام یا ان میں سے کچھ اہداف حاصل کرلئے ہیں؟ پھر ملک میں امن و امان کی صورتحال اس قدر تسلی بخش ہوگئی ہے کہ ان عدالتوں کی ضرورت ہی نہ رہی؟ ان سوالات کے جواب کےلئے پہلے ان مجبوریوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جس کی وجہ سے بھاری پتھر سینے پر رکھنا پڑا۔ حکومت نے اس وقت کہا تھا کہ کیونکہ ہمارے تفتیشی اور عدالتی نظام میں کمزوریاں ہیں‘ ہماری پولیس میں استعداد ہی نہیں کہ وہ دہشت گردی کے معاملات میں مو¿ثر تفتیش کرسکے۔ اس طرح عدالتی نظام اور قوانین میں جھول ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد رہا ہوجاتے ہیں۔ اس طرح عدالت کے معزز جج صاحبان کے عدم تحفظ کا جواز بھی بتایا گیا تھا اور ظاہر ہے کہ یہ تمام کمزوریاں ایسی نہیں کہ جن پر اگر خلوص دل سے کوشش کی جائے تو قابو نہ پایا جاسکتا اور یقینا ایسا کرنے کےلئے دو سال کی مدت بھی کافی تھی مگر بدقسمتی سے دو سال کی مدت میں حکومت اپنے ہی مقرر کئے اہداف کا 50فیصد بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیںہوسکی پولیس کی صلاحیت میں اضافہ کا معاملہ کھلی کتاب ہے عدالتی نظام میں اصلاحات بھی ناپید دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت تمام تر دعوﺅں کے باوجود نیکٹاکے ادارے کو فعال کرنے میں بھی ناکام رہی۔ ہاں البتہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے جس کا کریڈٹ حکومت کو کم اور افواج پاکستان کو زیادہ جاتا ہے اور حکومت یہ تسلیم بھی کرتی ہے ۔فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع نہ لینے کا دوسرا جواز یہ ہوسکتا ہے کہ جن مقاصد کیلئے ان سپیڈی کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا وہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے ہوں اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے ان کورٹس میں دو سال کے عرصہ میں 434 مقدمات بھجوائے جس میں سے اس قلیل مدت میں 274 مقدمات نمٹا دئیے گئے۔ فوجی عدالتوں نے 161 دہشت گردوں کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت 113 کو عمر قید کی سزائیں سنائیں اور 12کو پھانسی پر لٹکا بھی دیا گیا اور دوسال بعد جبکہ عدالتوں کی مدت ختم ہوچکی ہے ابھی 40مقدمات ایسے ہیں جن کی سماعت شروع نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ یہ مقدمات حال ہی میں ریفر کئے گئے ہوں گے۔ جبکہ 120مقدمات زیر سماعت تھے اس طرح 434 میں سے 160 مقدمات اب دہشت گردی کی عدالتوں میں سنے جائیں گے۔ان اعدد وشمار کے بعد اس امر کی گنجائش تو تقریباً ختم ہوجاتی ہے کہ جس مقصد کیلئے سپیڈی ٹرائل کورٹ بنائی گئی تھیں وہ کافی حد تک پورا بھی ہورہا تھا اور اصلاحات کے بغیر پرانے نظام عدل کے تحت مقدمات کی سماعت کے نتائج کیاہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت دشت گردی کےخلاف جنگ کس کی طرح لڑنے کا ارادہ رکھتی ہے یہی الجھن محب الوطن پاکستانیوں کو کھائے جارہی ہے اور عدم تحفظ کے شکار عوام میں یہ سوال جنم لے رہے ہیں کہ کیا ان کو ایک بار پھر ماضی کی تباہی کا سامنا کرنا ہوگا اور حکومت ایک بار پھر مخمصے کا شکار ہوگئی۔ کہ دہشت گردوں کےخلاف جنگ کرنا ہے یا مذاکرات کے ذریعے امن کا راستہ نکلنا ہے۔کیونکہ اصلاحات کے اور ججوں کو تحفظ دئیے بغیر دہشت گردو ں کے مقدمات کے فیصلوں کی کٹھن منزل تک لے جانا ممکن نہیں اور اس کا فیصلہ آئندہ چند برس میں ہوجائے گا۔ کہ حکومت سول نظام کو بہتر کرتی ہے یا پھر ایک بار سپیڈی ٹرائل کےلئے فوج کی طرف دیکھتی ہے مگر اس وقت تک دہشت گرد نہ جانے کتنے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کے چراغ بجھا چکے ہوں گے اور جو زندہ ہوں گے وہ بھی شاید جمہوریت زندہ باد کے نعرے لگارہے ہوں گے۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved