لوڈشیڈنگ کے فائدے

سلیم آہنگ…. ضرب آہنگ
تمہارا بیڑا غرق ، تمہارا خانہ خراب ، خدا اُٹھائے ، اور جنازہ رات کے بارہ بجے بلکہ سوا بارہ بجے نکلے تمہارا ….وپڈا والو ! یہ وہ الفاظ ہیں جو بجلی فیل ہوتے ہی یکے بعد دیگرے بڑی روانی کے ساتھ ہر خاص و عام کے منہ سے اِس طرح نکلتے ہیں جیسے خالی بوتل کو یکدم پانی میں ڈبونے پر بُلبلے نکلتے ہیں ۔ ایسے کلمات اور اِن سے زیادہ مروّج اور کئی کلمات اُن لوگوں کو بھی اِسی موقعے کی مناسبت سے اَزبر یاد ہیں ، جنہوں نے پہلا کلمہ پہلی اور آخری مرتبہ مولوی صاحب کی وساطت سے بوقتِ نکاح بفرضِ مجبوری پڑھا ہوتا ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے ؟
ہمارے ہاں بجلی کی آنکھ مچولی اُن دنوں بھی روز کا معمول بنی رہتی ہے ، جب لوڈ شیڈنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ، جب شدید بارشوں کی وجہ سے کئی ڈیموں میں پانی کی سطح خطرے کے نشانات کو چُھو رہی ہوتی ہے ، اور چاروں صوبوں کے نشیبی علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں آ چکے ہوتے ہےں ، تب بھی اکثر علاقوں میں بجلی روزانہ کئی کئی بار نہ صرف آنکھ مچولی بلکہ بہت سے لوگوں کے جذبات سے بھی کھیلتی ہے ۔قارئین خود ہی اندازہ لگائیں کہ ایسے میں کن کن لوگوں کا پارہ چڑھتا ہو گا اور کون کون سُکھ کا سانس لیتے ہوں گے۔ کائنات کے تمام عوامل میں خیر اور شر دونوں کے عناصر متوازی چلتے ہیں لہٰذا فائدے اور نقصان کے مکانات بھی ساتھ ساتھ چلتے ہےں۔جیسے کہ….
بجلی فیل ہونے سے کچھ دیر پہلے اگر ایک ماں اپنے سوئے ہوئے بچے کی آئس کریم فریج میں رکھ دے اور دوبارہ بجلی آنے سے پہلے بچے کی آنکھ کھل جائے تو وہی آئس کریم بچے کو کھلانے کی بجائے آسانی سے فیڈر میں پلا سکتی ہے ۔گرمی کے موسم میں بجلی جانے کی صورت میں جسم کے فاسد مادے اور فالتو چربی پسینے کی صورت میں خارج ہو جاتی ہے ۔ اس طرح گھر میں بیٹھے بٹھائے اگر مفت میں آپکو ایک سلمنگ کورس جیسی ٹریٹمنٹ مہیّا ہو جائے تو ہمیں تو شکر گذار ہونا چاہیے نہ کہ شکایت گذار ۔ گرمی کی ایسی ہی شدّت میں بجلی فیل ہونے پر خواتین اپنے ہو چکے یا ہونے والے شوہروں کو وفا داری کا یقین دلانے کیلئے پنجابی میں ” جھلّاں میں پکھیاں “ جیسے گیت سُنا کر فرحت کا احساس دلاتی ہیں ، جس سے دونوں میں رومانوی جذبات فروغ پاتے ہیں ۔
دوسرے کئی محکموں کی طرح واپڈا یعنی (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ) کے افسران کے پاس بجلی کے سپلائی سسٹم اور سسٹم میں ہونے والی خرابیوں کو دُور کرنے کی صلاحیت ہو نہ ہو لیکن اُنہیں اپنی ذاتی پاور اور محکمے کی طرف سے فراہم کردہ ( رہائشی ، طبّی ، سفری سمیت کئی ) سہولتوں کے بارے میں مکمل معلومات ہوتی ہیں وہ اپنے سٹیٹس اینڈ پاور کی ڈویلپمنٹ کیلئے اپنی پوری اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے اپنی برادری اور پڑوس کو واٹر واٹر کرنے کی سر توڑ کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ماتحت کارکنوں پر رُعب جھاڑتے اور خود کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ وہ واقعی افسر ہیں ۔ یہ مشکل ترین فرض نبھانے کے بعد اگر اُن کے پاس کچھ وقت بچ جائے تو وہ اپنے جیسے دیگر افسران کو اپنے دفتر میں بُلا کر بجلی کے مسائل کےلئے استخارے کے بہانے چائے ، بیکری پر گپ شپ کرتے رہتے ہیں ۔ صارفین کو بڑے شاہانہ طریقے سے بتا یا جاتا ہے کہ ” صاحب جی میٹنگ میں ہیں “ ایسی میٹنگز اگر واقعی بجلی کے مسائل کے حل کیلئے ہوتی ہیں تو اُسکا نتیجہ بہتر سپلائی کی صورت میں عوام الناس کے سامنے آ جانا چاہیے تھا ۔
جہاں تک لائن مین کا تعلق ہے تو وہ بیچارہ کیا کرے ،اُس نے بھی سفارشی بھرتی ہوئے افسروں کی طرح نہ تو ”الیکٹریسٹی سپلائی مینجمنٹ “ کا کوئی باقاعدہ کورس کِیا ہوتا ہے اور نہ ہی ” الیکٹریکل انجینئرنگ “ میں مہارت کی ڈگری حاصل کی ہوتی ہے ۔ اُسے اپوائنٹمنٹ سے لے کر ریٹائرمنٹ تک کے محض پچّیس تیس سال میں بجلی کی خرابیوں کی حقیقی وجہ بھلا کیسے سمجھ آ سکتی ہے ۔ کیونکہ لائن مَین بننے سے پہلے اُسے بچپن میں لائن بنا کر گاڑی گاڑی کھیلنے اور بڑے ہونے پر نوکری کی عرضی پکڑے لائن میں کھڑے رہنے کے علاوہ ” لائن “ کے بارے میں اور کسی قسم کا تجربہ نہیں ہوتا ، اور یہی تجربہ حاصل کرنے کیلئے وہ لائن مین بھرتی ہو کر ایس ڈی او کے ماتحت کام کرتا ہے اور ” ایس ڈی او ز“ کی تو ہر بات نرالی ہے کہ ساری رات کی موسلا دھار بارش کے بعد اگلی صبح نہ صرف پتنگ بازی کو برقی رَو کے تعطل کی وجہ قرار دیتے رہے ہیں بلکہ پتنگ بازی کو انگریزی میں ”کائٹ فلائنگ “ کہہ کر اپنے تعلیم یافتہ ہونے کا اعلان بھی کرتے رہے ہیں ۔
لوڈ شیڈنگ کے علاوہ بجلی کی مسلسل ترسیل میں رکاوٹ ، اکثر ٹرانسفارمروں پر استطاعت سے زیادہ لوڈ اور ٹیڑھے کھمبے اور بے ہنگم لٹکتے برقی تاروں کا اُلجھاو¿ ہے ۔ جو کسی بھی وقت اندھیر برپا کر دیتا ہے ۔ شہر کی اکثر تنگ گلیوں میں آپس میں اُلجھے بجلی کے مین تاروں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ایسے ہی مشکل ہوتا ہے جیسے واشنگ مشین میں دُھلے کپڑوں کو الگ کرنا ۔ایسی صورتِ میں اگر واپڈا لائن مین اُلجھے گچھے میں سے مطلوبہ سِرا ڈھونڈنے میں ہمیشہ کامیاب رہتا ہے تو اس میںحیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ گُتھی اُسی کے ہاتھوں اُلجھی ہوتی ہے ۔اَ حمق لوگ ابھی تک اس بات پر حیران دکھائی دیتے ہیں کہ کچی جگہ پر پڑنے والی بارش کی پہلی پھوار سے اُٹھنے والی مِٹّی کی خوشبو ہم تک بعد میں پہنچتی ہے جبکہ بجلی پہلے بند ہو جاتی ہے ۔ حالانکہ بیگم گل بہار بانو نے گا گا کر یہ نصیحت کی ہے کہ….
روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
ورنہ بجلی تو جائے گی ہے بجلی کی مجبوری
سائنس پڑھنے والے اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ کچی مِٹّی سے اُٹھنے والی خوشبو تو محض چالیس پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا کے دوش پر ہم تک پہنچتی ہے، جبکہ بجلی کو ایک لاکھ چھہتّر ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے جانا ہوتا ہے ۔ اب بھلا اِس میں واپڈا کارکنوں کا کیا قصور؟ …. کاٹ پلٹ کے ماہرین سے بار بار مراقبے کروانے کے باوجود اِس راز سے پردہ نہیں اُٹھ سکا کہ بجلی اور بارش کی آپس میں کیا دشمنی ہے ؟پھر بھی اگر لوگ اَز خود اس کی ٹینشن لیتے رہیںتو اپنا ”بی پی “ اُوپر نیچے کرنے کے وہ خود ہی ذمہ دار ہیں ۔ کچھ تھڑا نشینوں نے یہ نیا محاورہ اپنے اقوالِ زرّیں میں شامل کِیا ہے کہ ” بجلی اور بارش کا اینٹ کُتّے کا پیار ہے “۔
جہاں بجلی کی عدم موجودگی کے کچھ نقصانات ہیں وہاں کچھ فوائد بھی ہیں ، مثلاً ! بار بار بجلی فیل ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بجلی کا بل دیکھ کر بلبلا اُٹھنے کا امکان کم سے کم رہ جاتا ہے ۔ جو کہ کم تنخواہ داروں کیلئے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہوتا ۔ بجلی فیل ہونے کے حمایتی صارفین کا کہنا ہے کہ ایک تو بجلی فیل ہونے سے کارخانوں کی مشینوں کو ریسٹ ملتا ہے دوسرے تنخواہ پر کام کرنے والے مزدُوروں کی اکثریت کو جن کے چہرے بجلی فیل ہونے پر ملنے والے آرام کے تصور سے کھل اُٹھتے ہیں ۔ نیز ٹیوب ویل بند ہو جانے سے پانی کا ضیاع نہیں ہو تا اور مسلسل کام کرنے والی گھریلو خواتین کو بھی آرام ملتا ہے۔ کئی جگہوں پر بجلی کی بے قاعدہ ترسیل ہی کی وجہ سے قربانی کا گوشت بکرے کے یومِ حساب سے پہلے پہلے کھا کر خود کو اُس کے مضر اثرات سے بچا لیا جاتا ہے ۔میں سوچتا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ کبھی واپڈا ٹیکنیشنز بغیر کسی رکاوٹ یا تعطل کے بجلی کی سپلائی جاری رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو لوگ مندرجہ بالا فیوض و برکات سے محروم ہو جائیں گے ، ہائے ! پھر اُن کی زندگی میں کیا رہ جائے گا ؟….
دوسری طرف گرمی کے موسم میں ہونے والی اچانک لوڈ شیڈنگ یا شٹ ڈاو¿ن کی وجہ سے نہ صرف اکثر لوگ پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ فریج میں جمی برف تک شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہے ۔ بجلی کا یوں اچانک غائب ہو جانا نہ صرف کمپیوٹر پر کِئے گئے کام ضائع کر دیتا ہے بلکہ کمپیوٹر میں بڑی خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ ذرا سوچیے کہ رات گئے انٹر نیٹ پر چیٹنگ کرتے ہوئے جب دو دِلوں کے تار آپس میں چُھو رہے ہوں ، اور ایسے میں دو دِ لوں کا رابطہ کٹ جائے تو….؟ دوسری طرف بلا وجہ بے وفائی کا گمان پیدا ہو سکتا ہے اور اگر دوسری جانب کوئی غیر مُلکی دل ہو تو پھرعالمی برادری میں مُلکی وقار مجروح ہونے کا اندیشہ بھی لاحق ہو سکتا ہے ۔
اِسی طرح بے شمار مواقع ایسے نازک ہوتے ہیں جہاں بجلی کے اچانک فیل ہو جانے سے لوگوں پر کیا گذرتی ہو گی اس کا اندازہ بس حسّاس لوگ ہی لگا سکتے ہیں ۔مثلاً دولہا کے عین گھونگٹ اُٹھاتے ہوئے ، لفٹ میں دو اجنبی مسافروں کے کسی بھی دو منزلوں کے بیچ سے گذرتے ہوئے ، شادی کی تقریب میں جدید طرز کی ہندی لُڈّی کے دوران ، برقی زینے پر لوگوں کے اُترنے و چڑھنے کے دوران ، جوس کارنر پر ساتھی کے فرمائشی جوش کی تیاری کے دوران ، کیبل پر پسندیدہ فلم یا ڈرامے کے دوران ، خالی ٹینکی میں پٹرول یا گیس فلنگ کے دوران ، تازہ پانی سے براہ راست غسل کے دوران جب کوئی صابن کی جھاگ سے لت پت ہو چکا ہو ، گاڑی کی پنکچر ٹیوب کو ہیٹر پر رکھتے ہی جبکہ آپ انتہائی جلدی میں ہوں وغیرہ وغیرہ ….
کیا دُنیا کے تمام خطّوں میں بجلی ایسے ہی فیل ہوتی رہتی ہے ؟ اگر نہیں تو یہاںکیوں ؟ جو حکمت عملی وہاں اپنائی گئی ہے اُسے یہاں اپنا کر لوگوں کو مذکورہ بالا پریشانیوں سے نجات کیوں نہیں دلائی جاتی ،آخر کیوں ؟؟؟ جبکہ واپڈا سب سے زیادہ صارفین کا محکمہ ہے ۔ ہر شہری بجلی استعمال کرتا ہے ۔ اور تقریباً ہر شہری بل ادا کرتا ہے ۔لیکن پھر بھی خبر یہی ملتی ہے کہ واپڈا کو خسارہ ہوا ہے ۔ جن خواتین و حضرات کو کبھی خسارہ خسارہ کھیلنے کا موقع نہ ملا ہو وہ حیرت سے پوچھتے ہیں ، کیاواپڈا کو خسرہ ہو گیا ہے ؟ کسی کونے سے کسی واپڈا متاثر کی آواز آتی ہے ۔چنگا ہویا….
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved