تازہ تر ین

زبان کا مقدمہ اور خبریں

رانامحبوب ا ختر …. دستِ نمو
محبت کی زبان بہرے بھی سن سکتے ہیں۔ برصغیر میں ستم ہوا یہاں زبانوں کا میلہ ہے۔ ولیم جونز نے کہا کہ ہندوستان کی دریافت کیا ہوئی کہ زبانوں کا امریکہ دریافت ہوگیا۔ لوگ مگر یہاں اونچی زبان میں بولتے ہیں ، پر شور ہیں، باتونی ہیں، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، لوگ بہرے ہوگئے، صرف بولتے ہیں، سنتے نہیں۔ محبت کی زبان تو مگر بہرے بھی سنتے ہیں۔
محقق، مصنف اور شاعر، صدف مرزا نے ڈنمارک کے ادب کی خوبصورت تاریخ لکھی ہے ان کی کتاب کا نام ”یارمن دانش“ ہے اگر ہم ڈینش زبان سیکھ لیں تو Nej Nej یعنی نہیں، نہیں، بس ہم نہیں مانتے پر ہمارے سوئی اٹک جائے گی کہ دانش یعنی wisdom سے ہمیں دشمنی ہے۔ برصغیر پاک وہند میں 1700 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے دو درجن سے زیادہ زبانوں کو سرکاری زبان ہونے کا شرف حاصل ہے گویا دنیا کے مجموعی سیانی ورثے کا تیس فیصد ہمارے خطے کے حصے میں آیا ہے۔ زبان وطن ہے لفظ تاریخ اور جغرافیہ ہوتے ہیں زبان شناخت کی پہلی اکائی ہے۔ زبان معاشی خوشحالی کا ذریعہ ہے۔ زبان سے سماجی مرتبہ متعین ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال کوئی سات لاکھ لوگ انگریزی سیکھنے برطانیہ کو جاتے ہیں۔ جس سے معاشی طور پر برطانیہ کو سالانہ تین سو پچاس ارب یورو کا فائدہ ہوتا ہے۔ انگریز سماج کو انگریزی زبان نے شناخت، معاشی فوائد اور سماجی مرتبہ عطا کیا ہے۔ پاک و ہند میں انگریز کی عملداری سے فارسی اور عربی کے ساتھ انگریزی معتبر ہوتی چلی گئی۔ انگریزی استعمار سے پہلے بھی یہاں ہفت زبانی، علمی مرتبے کا ایک ضروری عنصر تھی۔ زیادہ زبانیں بولنا اور سیکھنا اچھی بات تھی۔ پھر یوں ہوا کہ انگریزی دفتر کی زبان ہوئی، مارکیٹ کی زبان اردو اور بے شمار مادری زبانوں نے ہمارے خطے کو کثیر اللسان بنائے رکھا۔ چیک زبان کی پروفیسر ولیرا نے Prague میں زبانوں کی تاریخ پر گفتگو میں مجھے بتایا کہ ان کے ہاں کی کہاوت یہ ہے:
”you live a new life for every language you speak, if you speak one language, you live onle once.“
ہر نئی زبان کے ساتھ آپ ایک الگ اور یکتا زندگی گزارتے ہیں اور وہ جو ایک زبان بولتے ہیں محض ایک زندگی گزارتے ہیں۔ زبان کی بنیاد لفظ ہے۔ الفاظ سے فقرے بنتے ہیں فقروں کی ترتیب سے نثر وجود میں آتی ہے۔ الفاظ ناچیں تو شاعری ہوتی ہے۔ تاریخ، تہذیب، داستانیں، اساطیر، مذاہب، عقل، سائنس اور سائبر سپیس میں الفاظ کا سکہ چلتا ہے۔ عربی کا آہنگ، فارسی کی نازکی، انگریزی کی وسعت، اطالوی کا ترنم، پنجابی کی بے باکی، سندھی کی دلربائی اور سرائیکی کا مٹھائی پوری انسانیت کا مشترکہ اثاثہ اور ورثہ ہیں جبکہ اردو گنگا جمنا کی مسلم ہندوستانی تہذیب کی مستقل نشانی ہے۔ اسدالسد خاں غالب کی زبان جو عالم کو حلقہ دام خیال کہتا ہے:
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دام خیال ہے
آدمی دس لاکھ سال سے ہستی کے فریب میں ہے۔ نو لاکھ پچھتر سال کا عہد وہ ہے جب انسان پتھر کے زمانے یا عہد شکار میں زندگی کرتا رہا۔ جب آدمی قابل ذکر مخلوق نہ تھا۔ پچیس ہزار سال پہلے زراعت اور تہذیب نے ساتھ ساتھ نئے سفر کا آغاز کیا وہ سفر اب مصنوعی ذہانت، مائیکرو چپ اور ٹرانس ہیومن ازم میں جاری ہے۔ شروع میں ہمارے گولے پر ایک زبان بولی جاتی ہوگی۔ کتاب پیدائش میں لکھا ہے کہ سنسار میں لوگوں نے اینٹیں بنائیں اور ایک بڑا مینار تعمیر کرلیا۔ یہ حضرت نوحؑ کے بعد کا زمانہ ہے اور Tower of babel کی بات ہے وہ لوگ اس مینار پر چڑھ خدا کی منشا کےخلاف خدا سے بات کرنا چاہتے تھے۔ سو بابل کا مینار خدا نے تباہ کردیا۔ بابل کا مطلب خدا کا پھاٹک ہے۔ انگریزی کا لفظ Babble بھی Babel سے نکلا ہے۔ بابل کے مینار کی تباہی کے بعد یہ لوگ مختلف سمتوں میں بکھر گئے اور مختلف زبانوں میں بات کرنے لگے۔ اب وہ ایک دوسرے کی بات نہ سمجھتے تھے پھر ایک زبانہ ایسا بھی ہے کہ اس گولے پر رہنے والے 12 ہزار سے زیادہ زبانیں بولتے تھے۔ اب دنیا میں چھ ہزار سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 77 زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان ہزاروں سال کے ورثے کی امین ہے۔ پاکستان میں لسانی تعصب، لسانی سامراجیت کا حصہ ہے۔ امیرخسرو نے کہا میرے یار کی زبان ترکی ہے مجھے ترکی نہیں آتی، کاش اس کی زبان میرے ذہن میں ہوتی۔ فحاشی کا فتویٰ دینے سے پہلے سن لیجئے کہ ابہام برطرف، امیر خسرو یار کی زبان سیکھنا چاہتے تھے لیکن دوسرے کی زبان سے نفرت کی بنیاد آخر کیا ہے؟ ہمسایوں کی زبان کو ”بولی“ کے طعنے کا مطلب کیا ہے؟ Language اور Dialect کا فرق اب ماضی کی بات ہے۔ فرانسیسی ، اطالوی، ہسپانوی، جرمن اور جی ہاں انگریزی بھی لاطنی کی بولیاں تھیں۔ اب معتبر ہیں۔ زبان اور بولی میں ایک فرق یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ زبان کا نثری ادب خاصا توانا ہوتا ہے اور بولی میں منظوم لوک ، قصے اور نظمیں زبانی روایت کا حصہ ہوتے ہیں جیسے ہیر رانجھا، مرزا صاحباں اور سسی پنوں وغیرہ۔ مولانا عبدالمجید سالک سے منقول ہے کہ قرآن کریم عربی ادب کی تاریخ میں نثر کی پہلی کتاب ہے اس لئے اہل عرب ایک احساس تفاخر اور حیرت کے ساتھ کتاب مبین کی طرف متوجہ ہوئے مگر ہماری دنیا میں شاید ہی کوئی زبان ہو۔ جس میں نثر اور نظم کا ذخیرہ موجود نہ ہو۔ لہٰذا زبان اور بولی کی بحث آج کی دنیا میں جنون کے علاوہ کچھ نہیں۔ کروڑوں سرائیکی بولنے والے اپنی شناخت کی اکائی اگر اپنی زبان کو سمجھتے ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ وہ ’را‘ کے ایجنٹ کیوں ہوئے؟ چینی، جاپانی، انگریزی، جرمن، عربی، فارسی، پنجابی، سندھی اور پشتو بولنے والے بھی کیا سی آئی اے ، آئی ایس آئی یا موساد وغیرہ کے ایجنٹ ہیں؟ زبانوں کی گوناگونی اور تنوع پر بات کرتے ہوئے پروشیا کے بادشاہ فریڈرک نے کہا تھا کہ ”میں سفارت کاروں سے فرانسیسی، اکاﺅنٹنٹ سے انگریزی، محبوبہ سے اطالوی اور اپنے گھوڑے سے جرمن میں بات کرتا ہوں۔“ اگرچہ اس قول میں مزاح کا عنصر بھی شامل ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر زبان اپنا ایک خاص رنگ اور مزاج رکھتی ہے اور وہ قومی شناخت کا سب سے بڑا اعشاریہ ہے۔ دنیا کے 200 کے قریب ممالک میں سے بیشتر کے نام ان کی زبان سے لئے گئے ہیں۔ انگلش سے انگلستان، یونانی سے یونان، فرنچ سے فرانس، چینی سے چین، اطالوی سے اٹلی اور جاپانی سے جاپان، یہ وہ چند مثالیں ہیں جو یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ اقوام، قبائل، ممالک اور صوبے اپنی شناخت پاتے ہیں۔ زبانیں قوموں میں نفاق کا نہیں اتفاق کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ تنوع یا Diversity خدا کی اس زمین پر حسن اور خوبصورتی کو جنم دیتا ہے مگر لسانی تعصب کی اپنی ایک تاریخ ہے جس کے تانے بانے دراصل لسانی سامراجیت سے ملتے ہیں۔
کل کی بات ہے کہ شمالی امریکہ میں انگریزی مقامی زبانوں کو کھا گئی۔ لاطینی امریکہ میں ہسپانوی اور پرتگالی سے مقامی زبانیں یوں پسپا ہوئیں کہ بہت سی زبانوں کا خاتمہ ہوگیا اور جوبچ گئیں وہ قابل ذکر نہیں ہیں۔ گارشیا، گورخیز اور لورکا، ہسپانوی میں لکھتے تھے اور عہد حاضر کا برازیلی ناول نگار، پاﺅلوکوہلو، پرتگالی میں لکھتا ہے۔لہٰذا جب مظلوم اور کم ترقی یافتہ قومیں اپنی زبان اور لسانی ورثے پر فخر کریں تو اہل نظر اور اہل سیاست اس تاریخی کھلواڑ کو ضرور ذہن میں رکھا کریں جس کے نتیجے میں ہزاروں زبانیں ختم ہوئی ہیں کہ زبان کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ مکمل زبان وہ ہوتی ہے جس کی اپنی فوج اور بحریہ ہو۔ زبان کو بالادست طبقوں اور جاہل حکمرانوں نے ایک استعماری ہتھیار کے طور پر لوگوں کو غلام بنانے کیلئے استعمال کیا ہے۔ غربت اور افلاس سے زبان کشی کا عمل تیز ہوتا ہے۔ یاد کیجئے کہ انیسویں صدی میں آئرلینڈ میں قحط پڑا۔ 1835 میں آئرش زبان بولنے والوں کی تعداد چالیس لاکھ تھی۔ 1851ءمیں بیس لاکھ اور 1891 میں صرف 6 لاکھ اور 80 ہزار، ہوا یہ کہ جو لوگ قحط میں بچ گئے وہ لاکھوں کی تعداد میں امریکہ اور دوسرے ممالک کو ہجرت کرگئے۔ اسی طرح افریقہ میں کوئی دو ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں اور باون ممالک ایسے ہیں جن میں لوگوں کی بڑی تعداد اپنی مادری زبانوں سے دور ہورہی ہے کہ غربت سے نجات کیلئے انہیں انگریزی سیکھی پڑتی ہے مگر ایک زبان کا خاتمہ، انسانیت کو کتنا غریب کرتا ہے، لسانی سامراجیت پر یقین رکھنے والے یہ بات نہیں سمجھ سکتے۔
کچھ عرصہ سے ”خبریں“ میں سرائیکی صوبے کے حوالے سے بحث جاری ہے ۔ ادارہ ”خبریں“ اپنی ابتدا سے روایت شکن ہے اور مراعات یافتہ طبقوں اور فرعون صفت افسروں کی حقیقت کو آشکار کرنے میں ادارے کا کردار تاریخی ہے۔ یہ شعور کہ عوام کو سوال کرنے کا حق ہے میڈیا کو جمہوری یا Democratize بنانے کا بنیادی اصول ہے۔ حال ہی ادارہ کے بانی اور روح رواں جناب ضیاشاہد صاحب سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی۔ وہ اپنے ماموں چوہدری محمد شریف کی وفات پر کبیدہ خاطر تھے مگر سرائیکی صوبے پر ہونے والی بحث سے بھی وہ آزردہ تھے اگرچہ اس موضوع پر ادارے کی سوچی سمجھی پالیسی ہے مگر ہمارے خیال میں اس بحث کے نتیجے میں بہت سے مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے اور سرائیکی صوبے کے مقدمے کو تقویت ملی ہے۔ وسیب میں سرائیکی بولنے والوں کے علاوہ دوسری زبانیں بولنے والے دوستوں کے خدشات پر کھل کر بات ہوئی ہے۔ ادارے کے بانی جناب ضیاشاہد صاحب نے وسیب کے نامور سیاستدانوں اور اہل الرائے سے ملاقات کی۔ ملتان میں کوئی پچاس منتخب لوگ جمع ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی، مخدوم جاوید ہاشمی اور جمشید دستی جن میں شامل تھے۔ گیلانی صاحب اکثر کہتے سنے گئے ہیں کہ ان کی برطرفی کے بعد آصف علی زرداری نے انہیں کہا تھا کہ ان کی برطرفی سرائیکی صوبے کی حمایت کی سزا تھی۔ اس پر ہمارا سوال یہ ہے تو پھر جناب زرداری کو کیوں مدت پوری کرنے دی گئی؟ ن لیگ تو خیر بحث سے معاملے کو ملتوی کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور جاوید ہاشمی کی خواہش ہے کہ صوبہ یوں بنے کہ جہاں مطالبہ موجود نہیں وہاں بھی صوبے بن جائیں۔ یعنی انصاری رپورٹ پر عمل کیا جائے۔ ہمارے خیال میں ”خبریں“ میں ہونے والی تمام بحث کا فائدہ بہرحال سرائیکی وسیب کو ہوا ہے، آگاہی ہوئی ہے ، آگہی بڑھی ہے البتہ یہ مباحثہ اگر ذاتی پسند ناپسند اور بحث میں الجھنے کی بجائے ادب آداب کے سانچے رہ کر جاری رہے تو کیا اچھا ہو کہ ادب پہلا قرینہ ہے آداب محبت میں۔
محبت کی زبان بہرے بھی سنتے ہیں مگر برصغیر میں ستم ہوا کہ زبان فہمی سے زیادہ زبان کی بنیاد پر تعصب کو ابھارا گیا۔ اسلم جاوید ملتان میں بیٹھ کر میٹھی سرائیکی میں شاعری کرتا ہے۔ طارق گجر لیہ میں بیٹھ پنجابی شاعری کی لازوال ”کویتا“ کا خالق ہے اور راجن پور میں صوفی تاج گو پانگ طارق کی نظمیں سرائیکی میں ترجمہ کرتا ہے تو اس کی انگلیوں سے محبت کی خوشبو آتی ہے کہ جسے اپنی زبان پر ناز ہو وہی اپنے یار کی ترکی زبان سیکھ، محبت کی زبان بولتا ہے۔ ٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved