تازہ تر ین

کچھ باتیں ” باتونی آصفہ بھٹو “ سے

آصفہ 2فروری1993ءمیں پیدا ہوئیں۔ ان کا نام ان کے والد آصف علی زرداری نے رکھا تھا جبکہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو شہید کوئی اور نام رکھنا چاہتی تھیں جب آصف علی زرداری نے کہا کہ ٹھیک ہے ہماری ایک اور بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا نام آصفہ رکھ دوں گا تو بے نظیر نے آصفہ نام ہی فائنل کر لیا۔ آصفہ ابتداءسے ہی بڑی صلح جو اور ہمدرد تھیں۔ آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی برطانیہ سے گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ میں بی ایس سی کے دوران ہی انہوں نے جانوروں کے حقوق سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 2013ءمیں آصفہ نے فلپائن میں سمندری طوفان کے متاثرین کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سے13ہزار فٹ کی بلندی سے پیراشوٹنگ بھی کی۔ آصفہ کی بڑی بہن بختاور کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عملی سیاست میں حصہ لینے کے لیے زیادہ پر عزم نہیں تاہم پارٹی کارکنوں کا ماننا ہے کہ آصفہ میں وہ تمام صلاحےتےں پائی جاتی ہیں جو بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جانشینی کے لیے درکار ہیں۔ یہاں آصفہ بھٹو کی سیاست میں شمولیت اور نجی زندگی کا جائزہ انہی کے انٹرویو اور بیانات کی روشنی میں لیا گیا ہے۔
” باتونی آصفہ بھٹو“
آصفہ بے نظیر کی بہت لاڈلی تھیں جبکہ بے نظیر بھٹو اکثر و بیشتر اپنے انٹروےوز کے دوران بھی بچوں کو اپنے ساتھ رکھا کرتیں۔ ایسے ہی ایک انٹرویو کے دوران سوال بی بی سے پوچھا گیا مگر جواب ننھی آصفہ کی جانب سے آیا جس پر سب ہنس پڑے۔ بے نظیر بھٹو اکثر کہتی تھیں کہ ” آصفہ بھٹو باتونی اور سمجھ دار ہے“بلاول اور بختاور جب کبھی کھیل میں مصروف ہوتے تو آصفہ اپنی والدہ کے اردگرد رہتیں اورسیاست کے موضوع پر ہونے والی گفتگو بہت غور سے سنتیں۔ بے نظیر بھٹو بچوں کے لئے کبھی اسپیشل کھانا بھی تیار کیا کرتی تھیں جو آصفہ کو بہت پسند تھا۔ بقول آصفہ ” بی بی اکثر سوچتی تھیں کہ جلاوطنی سے بچوں کو ٹائم دینے کا موقع مل گیا ہے ۔وہ ہمیں سکول بھی خود لے کرجاتیں اور شاہنواز کے لیے بھی بہت افسوس کیا کرتی تھیں کہ اس کے بچوں پر باپ کا سایہ نہیں رہا۔ آصفہ کی بچپن میں اپنی والدہ سے قربت ہی آج ان کے سیاسی شعور کے پختہ ہونے کی دلیل ثابت ہوئی ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت
محض چودہ برس کی عمر میں آصفہ اپنی والدہ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئیں۔ دسمبر2007ءکو محترمہ بے نظیر بھٹو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کر کے واپس جا رہی تھیں کہ ان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شہید ہوگئیں۔ آصفہ کے مطابق ”بی بی شہید کے خون نے ملک میں جمہوریت کی آبیاری کی ہے ۔ انہیں علم تھا کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے مگر انہوں نے ہمیں دبئی بھیجا اور خود عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے پاکستان پہنچ گئیں حالانکہ انہیں آگاہ کیا گیا تھا وہ ملک واپس نہ جائیں لیکن انہوں نے پرواہ نہ کی اور ملک واپس آئیں تاکہ اپنی سیاسی جدوجہد کا نئے سرے سے آغاز کر سکیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنا خون وطن پر نچھاور کر دیا۔ ایسی بے مثال قربانی کی دنیا کی سیاسی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ وہ بھٹو شہید کے مشن کو جاری رکھنا چاہتی تھیںاور آج ہمارا یہ عہد ہے کہ ہم اپنے خاندان کی کسی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
عملی سیاست کا آغاز
آصفہ دوران تعلیم ہی سیاست کے میدان میں سرگرم رہی ہیں۔ وہ جس ماحول میں پلی پڑھیں وہ ہر طرف سے سیاست دانوں اورحکومتی عمائدین سے گھرا رہتا تھا۔ بلا شبہ بھٹو خاندان نے اس ملک کی سیاست میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ اس حوالے سے آصفہ کہتی ہیں ” سیاست کو زندگی سے نکالا نہیں جاسکتا تاہم جب میں خود کو عوام کی خدمت کے قابل سمجھوں گی تب باقاعدہ طور پر عملی سیاست کا آغاز کر وں گی۔ اس وقت میری توجہ مسائل سے دوچار جن شعبوں کی طرف ہے اس میں صحت اور انسانی حقوق کے شعبے زیادہ اہم ہیں“
ایک مشکل دور کی یاد
آصف علی زرداری جب صدر پاکستان تھے وہ ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاﺅس میں ہونے والی تمام اہم سرگرمیوں میں آصفہ بھٹو کو شریک کیا کرتے تھے۔ آصفہ بھٹو نے کہا کہ ” یہ میرے لئے بہت ہی خوفناک وقت تھا،جب میں تین سال کی تھی تو میرے والد جیل میں تھے اور جب میں گیارہ سال کی ہوئی تو والد کو جیل سے رہائی ملی‘یہ سارا وقت میرے لیے وحشت ناک تھا “
بختاور اور بلاول کا ساتھ
آصفہ کے مطابق ”بلاول ہر موقع پر ہمارے ساتھ مشورہ کرتے ہیں اور کئی سیاسی میٹنگوں میں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بلاول ایک مشفق بھائی کی طرح ہمارا خیال رکھتے ہیں ہم بہن بھائیوں کا سیاسی نکتہ نظر ہمیشہ سے یکساں رہا ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے نانا اور والدہ نے جس مقصد کے لئے اپنی جان قربان کی ہے وہ کتنا عظیم ہے اور اب ہمیں اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہے“
عورتوں کے خلاف جرائم میں اضافہ
آصفہ ملک میں ہونے والے عورتوں کے خلاف جرائم میں اضافے کے باعث بھی اکثر پریشان رہتی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی خواتین پر ہونے والے مظالم کی بھرپور مذمت کرتی ہیں۔٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved