کشمیر کی آزادی اور فضل الرحمن

احسن ضیاء …….. (صدائے حرف)
لکھنے بیٹھا تو سوچا کہ کیا ضبط تحریر کروں ؟دل و دماغ گویا بھائیں بھائیں سا کرنے لگا۔ خیالات کی روانی شاید تھم سی گئی ۔ سوچ و فکر کی تمام وسعتیںگویاایک نقطے پر آن مرکوز ہوئیں۔ایک ہی سوال ذہن میں اُبھر رہا تھا کہ کیامیرے لکھنے سے کچھ فرق پڑے گا؟ اگر فرق پڑنا ہوتا تو مجھ سے پہلے سینکڑوں لکھاریوں کی وہ تحریریں اُس فرق کو یقینا ضرور پیدا کرچکی ہوتیں جو انسانی ضمیر کے جاگنے سے پیدا ہوتا ہے ۔لیکن یہاں ا ٓخر ایسا کیا ہے کہ لکھنے والوں نے اپنی قلم کی روشنائی سے صفحات کے صفحات سیاہ کردیے لیکن نہ توکوئی عالمی ضمیر جاگا اور نہ ہی ظلم و ستم کی وہ گہری سیاہ رات اختتام پذیر ہونے کو آئی ،جسکے وحشت ناک سکوت کو اپنے ہی لہو سے لہو رنگ بے کسوں اور بے بسوںکی سسکیاںو آہ و زاریاں وقفے وقفے سے توڑتی ہیں ۔ان ستم رسیدہ انسانوں کے نوحے آخر تھمے بھی کیوں ؟جب اپنوں کے لاشے اُٹھا اُٹھا کر کندھے شل ہوجائیں ، جب گھر کے آنگن میں کھیلتا لعل کسی اندھی گولی کا نشانہ بن جائے ،جب اپنی ہی بہن یا بیٹی کی آبرو گھرہی کی چار دیواری میں تار تار ہوجائے،جب ماﺅں اور بہنوں کی اُمیدوں اور اُمنگوں کے واحد سہارے دن دہاڑے اُٹھا کر عقوبت خانوں میں پہنچا دیے جائیں، جہاں وہ بدترین انسانی بربریت کا نشانہ بنیں توپھر نوحے کبھی تھما نہیں کرتے بلکہ ایسی فلک شگاف چیخوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں جن کی گونج سے شب ِتاریک کے گہرے سکوت خود آہ و زاری کرنے لگتے ہیں ۔ سُنا تھا کہ ”ظلم پھر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے “ ۔لیکن یہاں ایسا کیاہے کہ ایام ِ اسودختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ۔وحشت و بربریت تو اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور ہولناکیوں کے ساتھ موجود ہے، بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تمام حدود و قیود کو پھلانگتی نظر آتی ہے مگر اسکی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس کا رخ بربادی کی طرف موڑنے والے کہاں ہیں ؟وہ خط کی شکل میں ایک تحریر ہی توتھی ، وہ بھی چند سطروں پر مشتمل ، جس پرتاریخ میں انتہائی سخت گیر سمجھے جانا والا بنو اُمیہ کا مشہور سپہ سالار حجاج بن یوسف بھی تڑپ اُٹھا اور اُس نے اپنے 17 سالہ بھتیجے محمد بن قاسم کو ایک مظلوم بیٹی کی داد رسی کے لئے سینکڑوں میل دور سے بھیجا ۔ فخر سند و ہند محمد بن قاسم بجلی کی تیزی سے لپکا اور قہر بن کی سندھ کی سفاک حاکم راجہ داہر پر گرا۔پھر اسے وہ سبق سیکھایا کہ اسکی بازگشت کئی صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی سنائی دے رہی ہے ۔راجہ داہر کے نام لیوا آج ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی جنت نظیر وادی میں مظلوم و محکموم کشمیریوں قہر و جبر کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ،کشمیری مائیں اور بہنیں دھائیاں دے رہی ہیں ، مگر شاید کرہ ارض کے طول وعرض میں پھیلے ہوئی اُمت مسلمہ میں ماﺅں نے محمد بن قاسم پیدا کرنے چھوڑ دیے ہیں ۔بھارتی مظالم پر عالمی ضمیر تو مردہ ہے ہی ، خود او آئی سی بھی محو ِ خواب نظر آتی ہے ۔ مقبوضہ وادی میں 7لاکھ سفاک بھارتی فورسز نے آگ و خون کا جو بازار گرم کررکھا ہے اس پر زمین و آسمان بھی ورطہ حیرت ہیں ۔ نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی ہولناکیوں نے درحقیقت چنگیز خان ، ہلاکو خان اور ہٹلر کے مظالم کو بھی شرما کر رکھ دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والی تحریک آزادیِ کشمیر میں اب تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دو لاکھ افراد شہید کیے جاچکے ہیں جبکہ غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والے افرا د کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔سید علی گیلانی، یاسین ملک ، میر واعظ عمر فاروق سمیت کشمیر ی لیڈرشپ اکثرو بیشتر پابند سلاسل رہتی ہے ، مقبوضہ وادی میں تحریر و تقریر کی آزادی سلب کی جاچکی ہے ۔ حال ہی میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ورلڈ کالمنسٹ کلب کی جانب سے یوم آزادی کشمیر کے حوالے سے منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں شرکت کا اتفاق ہوا ۔ تقریب سے اسیر کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک ، معروف دانشور و کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی ، ایثار رانا اور ناصر اقبال خان سمیت متعدد نمایاں شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ بظاہر ایک کمزوراور نحیف نظر آنے والی خاتون مشعال ملک جس ولولہ انگیز اور متاثر کن زور ِبیان سے آزادی کشمیر کا مقدمہ پیش کررہی تھیں مجھے اس کا اندازہ اس تقریب میں شرکت سے قبل ہرگز نہیں تھا۔مشعال ملک سے ملاقات کے بعدیہ اندازہ ہوا کہ وہ ایک مربوط اور مو¾ثر انداز میں پاکستانیوں میں تحریک آزادیِ کشمیر کا شعور جگانا چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اہل فکر و دانش اور اہل قلم انکا ساتھ دیں تو وہ قوم میں شعور ی سطح پر وہ تبدیلی لا سکتی ہے جو کشمیر کی آزادی میں ایک سنگ میل سے کم ثابت نہ ہوگی ۔مشعال ملک کی خوش فہمی اپنی جگہ پر، تاہم میںاس خیال میں غوطہ زن تھا کہ جہاں پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی پر مولانا فضل الرحمٰن جیسی شخصیت اپنی تمام تر ”حشر سامانیوں“ کے ہمراہ براجمان ہوں اور جس ملک کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے ہزاروں کشمیریوں کے خون کو یکسر فراموش کر کے یوم کشمیر کے اہم موقع پر پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دینے کے لئے مری جارہی ہو وہاں اقتدار کی غلام گردشوں میں محو ِسفر ”اسیران ِاقتدار“ سے کوئی خوش فہمی وابستہ کرنا کیا دانشمندی ہوگی؟تقریب کے مقررین کا کہنا تھا کہ تمام اسلامی ممالک امریکہ کے سامنے سرنگوں نظر آتے ہیں جبکہ بھارت کو امریکا کی خصوصی آشیر باد حاصل ہے۔ قیصروکسری کے محلوں کو لتاڑنے والے مسلمان یہ نہیں جانتے کہ اگر وہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے سپر پاور مان لیں تو کشمیر کیا ساری دنیا ان کی جھولی میں آگرے گی۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ امریکہ اور اقوامِ متحدہ کے ایواانوں میں نہیں بلکہ کشمیر کے میدانوں میں ہوگا۔ آج کشمیر میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں آزادی کے نعرے نہ گونجتے ہوں۔ بھارت کی 7 لاکھ سے زیادہ فوج اپنی تمام تر درندگی اور وحشت ناکیوں کے باوجود آزادی کی اس تحریک کو دبانے میں ناکام ہے۔ہزاروں خواتین بیوہ،بچے یتیم،اور عورتیں اپنی عزت وآبرو لٹا چکی ہیں۔ مگر بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنائے بیٹھا ہے۔ پاکستان کی جانب سے موجودہ دور حکومت میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان واضح طور پہ بھارت کو بتاتا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا لیکن حکومت کی طرف سے تاحال کوئی جامع اور مربوط حکمت عملی سامنے نہیں آئی ۔ بھارت جب تک کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ حل کامعاہدہ نہیں کرلیتا اس سے دو طرفہ تجارت بند کردینی چاہیے ۔ تاہم ایسانہیں ہورہا۔
مسئلہ کشمیر کے حل کادور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔پوری دنیا میں کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا جو مسئلہ کشمیر کو سلجھانے میں سنجیدگی سے کردار ادا کرے۔ اس لیے کشمیری تنہا ہی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اتنی مشکلات اور تکلیفوں کے باوجود مگر کشمیریوں کے قدم کسی بھی مرحلے پر نہیں ڈگمگائے اور نہ ہی ان کے ارادے متزلزل ہوئے ہیں ۔اس صورت حال پر مجھے یہی اشعار یاد آرہے ہیں:
عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved