تازہ تر ین

پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں!

خضر کلاسرا….(ادھوری ملاقات)
سندھ کا دارالحکومت کراچی،پنجاب کا دارالحکومت لاہور، بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ اور اب خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور بھی دہشت گردوں سے محفوظ نہیں رہاہے اور بڑے پیمانے پر بےگناہ افراد کا خون بہایا گیا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے تازہ ترین واقعات کے بعد ایسے لگتاہے کہ دہشت گرد ایک بار پھر پوری تیاری کے ساتھ پاکستان کے صوبائی دارالحکومتوں پر حملہ آور ہوئے ہیں اور اپنی گھناﺅنی کارروائیوں سے اس بات کا واضح پیغام دیاہے کہ وہ جہاں چاہیں حملہ کرکے بڑے پیمانے پر خون خرابہ کرسکتے ہیں۔ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کا اندازہ وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم نوازشریف پر حملہ کا خدشہ تھا مطلب دہشت گرد گروپوں نے اس قدر طاقت حاصل کرلی ہے کہ وہ عام شہریوں کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو بھی ہدف بنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔ لاہور جس کو پنجاب میں صوبائی دارالحکومت کے علاوہ خاص اہمیت حاصل ہے وہاں پر دہشت گردوں کے حملہ سے جہاں پر بڑے پیمانے پرجانی نقصان ہواہے۔یوں دن دہاڑے خودکش حملہ آور نے پنجاب اسمبلی کے باہر ڈی آئی جی سطح کے اعلیٰ افسران سمیت شہریوں کی بڑی تعداد کو لمحوں میں خون میں نہلادیاہے۔پھر اس بات کی اطلاعات بھی میڈیا میں چل رہی ہیں کہ خود کش بمبار کے تین ساتھی اس کارروائی کے بعد غائب ہوچکے ہیں یقینا ان کی لاہور جیسے اہم شہر میں موجودگی بڑے خطرے سے کم نہیں اور جب تک ان کو قانون کی گرفت میں نہیں لایاجاتااس وقت تک اس بات کا خطرہ موجود رہے گا کہ کوئی اور دہشت گردی کی بڑی کارروائی ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردوں نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی تھیں اور بڑے پیمانے پر بےگناہ افراد کا خون بہاکر شہریوں میں خوف کی فضا قائم کردی تھی مثال کے طورپر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی دہشت گردوں کے نشانہ پر یوں رہاہے کہ مظفرگڑھ نہاری ہاﺅس پر خود کش حملہ کے بعد میلوڈی چوک پر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایاگیاتھا،اسی طرح میریٹ ہوٹل کے مرکزی دروازے کے اندر بارود بھرا ٹرک لے کر دہشت گرد پہنچ گئے تھے،یوں اٹلین ریسٹوران سے لے کر ایف ایٹ کچہری میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ڈنمارک ایمبیسی پر حملہ کیاگیاتھا، اسی طرح اسلام آباد سے جڑے شہر راولپنڈی میں بڑے دہشت گردوں نے جہاں چوک چوراہوں کو نشانہ بنایا،وہاں پر جی ایچ کیو پر بھی حملہ کرکے پاکستان کے اہم ادارے کو کمزور کرنے کی آخری کوشش بھی کی تھی۔ادھر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی قیادت کی طرف سے مذمت سے آگے بات نہیں بڑھی تھی،آخرکار پاکستان کے شہریوں نے اس وقت سکھ کا سانس لیا جب سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد اس بات کا خدشہ موجودتھاکہ ایک بار پھر قیادت کی تبدیلی کے ساتھ دہشت گرد گروپ دوبارہ پاکستان میں اپنی سرگرمیاں تیز کرسکتے ہیں۔بدقسمتی سے ایسا ہی ہوا ہے کہ دوبار ہ ا سی طرح کارروائیاں ملک میں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد ایک طرف اس طرح کے تبصرے ہورہے ہیں کہ سول اور فوجی قیادت کو مزید قریب آکر دہشت گردی کیخلاف کام کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف اس بات پر زور دیاجارہاہے کہ پنجاب میں کالعد م تنظیموں کیخلاف فوج اور رینجرز کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ جیسے ہی پنجاب میں فوج کو بھیجنے کی بات ہوتی ہے تو لیگی قیادت اس بات پر تکرار شروع کردیتی ہے کہ پنجاب میں سب اچھا چل رہا ہے اس کی وضاحت کیلئے حکومت وزیرقانون پنجاب راناثنا اللہ کو پیش کردیتی ہے جوکہ پوری شدت کے ساتھ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پنجاب میں کراچی اور دیگر علاقوں جیسی صورتحال نہیں ہے اور فوج سمیت رینجرز کو پنجاب میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔قابل غور بات یوں ہے کہ ساری اپوزیشن جماعتیں بھی پنجاب میں آپریشن کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں لیکن نواز حکومت ہے کہ پنجاب اور مرکز میں اس سچ کو ماننے پر تیار نہیں ہے اس با ت کے باوجود کہ پنجاب کے وزیرداخلہ شجا ع خانزادہ کو بھی دہشت گردوں نے نہیں چھوڑ ا تھا۔ادھر پنجاب حکومت کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیرداخلہ پنجاب شجا ع خانزادہ کے دہشت گردی کے حملہ میں شہید ہونے کے بعد پنجاب حکومت کو وزیرداخلہ ہی نہیں ملا کہ وہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پنجاب کے کردار کو حقیقی معنوں میں بڑھا سکے۔ہمارے خیال میں وزارتوں کے بنڈل کو وزیراعلیٰ پنجاب سے آزاد کروانے کے ساتھ ساتھ اہل افراد کو دینی چاہیے تاکہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ جب شجاع خانزادہ وزیرداخلہ پنجاب تھے،اس وقت اعجاز اچلانہ کے پاس پارلیمانی سیکرٹری داخلہ کا چارج تھا لیکن جونہی وزیرداخلہ دہشت گردوں کا نشانہ بنے، موصوف میڈیا پر آکر کا قوم کا سامنا کرنے کے بجائے چھپ گئے تھے،اسی طرح چھوٹو گینگ کا معاملہ جب عروج پر تھا اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیاگیاتھا توموصوف پھرخاموش تھے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ایسا پارلیمانی سیکرٹری جوکہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہواتھا،اس کی سرز نش کرنے کے بجائے اسے وزیر برائے داخلہ بنادیا،پھر رہے نام اللہ کا۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved