عالم اسلام کیخلاف سازشیں ….(1)

عبدالغفار عزیز….(خاص مضمون)
چھے سال قبل مصری دارالحکومت قاہرہ کے میدان التحریر میں لاکھوں عوام نے 30 سال سے جبر کی علامت بنے بیٹھے حسنی مبارک سے نجات کا سفر شروع کیا تھا۔ 30سال تک مصر اور مصری عوام کی قسمت کا تنہا مالک بنا بیٹھا ڈکٹیٹر 18دن کے ملک گیر دھرنوں کے بعد اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ اس نے اس دوران میں 840بےگناہ شہری شہید کردیے،6ہزار شہری زخمی ہوئے، لیکن عوام کے صبر و ثبات نے بالآخر اس کے تکبر کابت پاش پاش کردیا۔ وہی مصری ٹی وی جو دن رات ڈکٹیٹر کی عظمت کے گن گا رہے تھے، اسے ’مصر کا آخری فرعون‘قرار دیتے ہوئے کہنے لگے کہ ”اب یہاں کسی کو بےگناہ انسانوں کی کھوپڑیوں پر تخت اقتدار سجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔ اس سے تین ہفتے پہلے تیونس کا اکلوتا حکمران زین العابدین بن علی بھی اسی انجام کو پہنچ چکا تھا۔ آٹھ ماہ بعد لیبیا کا کرنل معمر القذافی اور ایک سال بعد یمن کا کیپٹن علی صالح بھی عوامی طوفان کے سامنے نہ ٹھیر سکے۔ قریب تھا کہ1964ءسے شام میں برسراقتدار اسد خاندان کی آخری نشانی بشار الاسد بھی انہی کی طرح عبرت کی مثال اور کوڑے کے اسی ڈھیر کا حصہ بن جاتا، لیکن اسی دوران میں ’بہار‘ کا خواب دیکھنے والے مصری عوام کو ان کے اس جرم کا مزا چکھاتے ہوئے ان پر ایک اور ننگ انسانیت جنرل سیسی مسلط کردیا گیا۔
خونی حکمرانوں سے نجات کے بعد اورخزاں کے اس مسموم طوفان سے پہلے تیونس، مصر، لیبیا اور یمن کے عوام نے ایک نیا اور پ±رامن نظام تشکیل دینے کا آغاز کردیا تھا۔ پہلی بار آزاد فضا میں سانس لیتے ہوئے، انتخابات کے ذریعے اپنے حکمرانوں اور اپنے مستقبل کا تعین کرنا شروع کردیا تھا۔ ان چاروں ممالک کی تاریخ میں پہلی بار حقیقی انتخابات منعقد ہوئے۔ تیونس اور لیبیا میں دو (دستور ساز اور پھر مستقل اسمبلی) الیکشن ہوئے، جب کہ مصر میں پانچ بار عام چناﺅ ہوا۔ چشم عالم نے دیکھا کہ ان تمام انتخابات میں اسلامی تحریک ’الاخوان المسلمون‘ پورے عالمِ عرب کی سب سے بڑی قوت قرار پائی۔
اخوان کی یہ حیرت انگیز کامیابی ہی خطرے کی وہ گھنٹی تھی کہ جس کے بعد ساری عالمی قوتیں اور کئی نادان دوست اس نوخیز بہار کو خوفناک خزاں میں بدلنے پر تل گئے۔ مصری پارلیمنٹ، منتخب صدر، قومی اتفاق راے اور ریفرنڈم کے ذریعے منظور دستور سب کچھ، ہزاروں بےگناہ انسانوں کے خونِ ناحق کے دریا میں غرق کردیا گیا۔ امریکا میں مقیم لیبیا کے ایک سابق فوجی جنرل خلیفہ حفتر کو واپس بلاکر، منتخب حکومت پر فوج کشی کروادی گئی۔ تیونس میں ایک کے بعد دوسرا بحران پیدا کرتے ہوئے اور کئی سیاسی رہنماﺅں کا قتل کرکے نومنتخب حکومت کو مفلوج کردیا گیا۔ یمن میں سابق ڈکٹیٹر اور باغی حوثی قبائل کو ڈھیروں اسلحہ اور دولت دے کر دارالحکومت پر چڑھائی کروادی گئی۔ اسلامی تحریک کی کامیابی بظاہر ناکامی میں بدل گئی۔ صرف ان چار ممالک میں6 ہزار سے زائد فرشتہ صفت کارکنان اور قائدین شہید کردیے گئے۔50 ہزار سے زائد بےگناہ اس وقت بھی جیلوں میں بدترین تشدد کا شکار کیے جارہے ہیں۔ انصاف، حقیقت پسندی اور غیر جانب داری سے جائزہ لیا جائے تو صرف اخوان یا عالم اسلام ہی نہیں، پوری دنیا کو اس مکروہ پالیسی کی قیمت مسلسل چکانا پڑرہی ہے۔
شام اور عراق سمیت ان تمام ممالک میں خوں ریزی کے وہ دریا بہائے جارہے ہیں کہ جن کے سامنے تاریخ کے بدترین قتل عام بھی ہیچ دکھائی دیتے ہیں۔ صرف شام ہی میں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ شہید اور سواکروڑ انسان بے گھر ہوگئے ہیں۔ پورا ملک کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہے۔ بشار الاسد کےخلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو اس کی فوج کا تقریباً نصف حصہ کابینہ کے کئی اہم افراد سمیت اس سے الگ ہوگیا۔ شامی عوام کی قیادت مجتمع ہونے لگی۔ لیکن جب اپوزیشن کی مشترک قیادت تشکیل دینے کی کوششوں کا آغاز ہوا، تو بعض ممالک کی اوّل و آخر ترجیح یہ قرار پائی کہ کہیں الاخوان المسلمون شام کو قائدانہ کردار نہ مل جائے۔1982ءمیں حافظ الاسد کے ہاتھوں ہزاروں اخوانی خاندان شہید کردیئے جانے کے بعد سے اگر شامی عوام کے دل میں کوئی حقیقی متبادل تھا، تو وہ صرف الاخوان المسلمون ہی تھے۔ انھیں کسی طور مضبوط و موثر نہ بننے دینے کی پالیسی نے بالآخر بشار مخالف تمام عناصر کو منتشر کردیا۔ اب چھے سال ہونے کو آئے ہیں، وہاں درجنوں گروہ باہم برسرِ پیکار ہیں۔ پورا ملک ٹکڑیوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ عالمی طاقتیں اپنے اپنے اسلحے، نفوذ اور سازشوں کے ذریعے اس کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں۔ کوئی طاقت بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ صرف و ہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکے گی۔
یمن ایک خوفناک خانہ جنگی کی نذر ہو چکا ہے۔ دارالحکومت صنعا ءپر باغی حوثی قبائل اور سابق صدر علی صالح کی فوجوں کا قبضہ ہے انہیں ایران کی مکمل اور مسلسل حمایت حاصل ہے۔ عدن اور دیگر اکثر اہم شہروں میں قومی حکومت کا اقتدار ہے۔ اسے سعودی عرب کی مکمل سرپرستی اور مدد حاصل ہے۔ دومختصر علاقوں پر داعش کا جھنڈا لہرا دیا گیا ہے۔’ عاصف الحزم ‘ فیصلہ کن آندھی کے نام سے شروع کی جانے والی جنگ کئی محاذوں پر لڑی جارہی ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ یہ مزید کتنے عرصے میں واقعی فیصلہ کن ہو سکے گی۔ جب تک یہ جنگ جاری رہی، نہ صرف یمنی عوام کا خون بہتا رہے گا بلکہ تین مسلمان ممالک کے وسائل اور ان کا امن وسکون تباہ ہوتا رہے گا۔ اقوامِ متحدہ میں انسانی ا±مور کے ذمہ دار اسٹیفن اوپرائن کی تازہ رپورٹ کے مطابق یمن میں 14ملین افراد کو فاقہ کشی کا سامنا ہے۔20لاکھ لوگ اپنے ہی ملک کے مہاجر کیمپوں میں قید ہیں۔ یمن میں بھی ہرفیصلہ کن موڑ پر دنیا کو یہ خطرہ لا حق رہا کہ کہیں الاخوان المسلون اقتدار میں نہ آ جائے۔ حوثی باغی قبائل نے بھی صنعاءپر قبضہ کرتے ہوئے سب سے پہلے اخوان کو کچلنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے تمام مراکز پر قبضہ کرلیا۔
تیل کی دولت سے مالا مال ملک لیبیا اس وقت عملاً پانچ ٹکڑیوں میں منقسم ہے۔ تین مختلف حکومتیں ایک قبائلی مسلح دھڑا اور داعش مختلف علاقوں کو اپنی گرفت میں رکھنے کی کوشش میں آئے روز ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ یہاں بھی کرنل قذافی کے 24 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد ایک قومی حکومت وجود میں آ گئی تھی، جو ’ اسلام پسندوں ‘ کے غلبے کی وجہ سے ناکام بنادی گئی۔
پ±رامن اور حقیقی انتخابات کے ذریعے تبدیلی کے راستے مسدود کردینے سے پوری مسلم دنیا میں ان عناصر کو آگے بڑھنے کا موقع ملا جن کے نزدیک تبدیلی کا راستہ اپنے ہر مخالف کے ساتھ بندوق و بارود کی زبان میں بات کرنا ہے۔ عالم اسلام میں بے سمت اور سفاک خونی گروہ پیدا کرنا عالمی استعمار کی عالمی پالیسی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس سے نہ صرف عالم اسلام مزید انتشار کا شکار ہورہا ہے، بلکہ خود اسلام اور جہاد ہی کو باعث نفرت بنادینے کے ایجنڈے کو تقویت دی جارہی ہے۔
باہم نفرت اور قتل و غارت کا یہ مکروہ کھیل آگے بڑھاتے ہوئے اب اس میں مذہب، مسلک اور رنگ و نسل پر مبنی تعصب کا زہر گھول دیا گیا ہے۔ شام، عراق اور یمن ہی نہیں پورے عالم اسلام کو اس دلدل میں دھکیلا جاچکا ہے۔ اتحاد و یک جہتی کے نعرے اب صرف ایک دکھاوا بلکہ عملاً ایک دھوکا بن چکے ہیں۔ طرفین کی اول و آخر ترجیح فریق ثانی کو نیچا دکھانا اور اسے صفحہ ہستی سے مٹادینا قرار پایا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ صدیوں پرانے ان اختلافات کا اکلوتا اور حقیقی حل اختلاف راے کا حق دینا اور دلوں میں وسعت پیدا کرنا ہے، دونوں فریق تعصبات کی آگ پر دن رات تیل چھڑک رہے ہیں۔ صحابہ کرام اور ا±مہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی قابلِ احترام ہستیاں کوچہء و بازار میں نشانہ ستم بنائی جارہی ہیں۔ احادیث رسول میں مذکور مختلف نشانیوں کواپنی اپنی مرضی کی تاویل کا لبادہ اوڑھاتے ہوئے، بنیادی عقائد کو شکوک و شبہات بلکہ استہزا کی نذر کیا جارہا ہے۔
ریاستی ، علاقائی اور عالمی تعلقات کو بھی انہی نفرت آمیز تعصبات کی میزان پر تولا جارہا ہے۔ مصری انتخابات میں اخوان کی کامیابی کے بعد ایران میں بڑے بڑے بورڈ لگائے گئے جن پر اپنے زعما کے ساتھ امام حسن البنا کی قد آدم تصاویر آویزاں کی گئیں۔ اخوان کی حکومت کو امام خمینی کے تصورات ونظریات کا تسلسل قرار دیا گیا۔ اس وقت عرب ممالک میں اخوان اور صدر محمد مرسی پر ایران نوازی کا الزام لگایا گیا۔ صدر مرسی نے غلط فہمیاں د±ور کرنے اور باہمی تعلقات مضبوط ومستحکم کرنے کی مسلسل کوششیں کیں، لیکن انہیں کوئی مثبت جواب نہ دیا گیا۔ جنرل سیسی کا خونی انقلاب برپا ہوا تو اسے 40ارب ڈالر کی امداد دے کر مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھر تیل کی قیمتوں میں کمی، عالمی اقتصادی بحران ، یمنی جنگ کی دلدل ، شامی مہاجرین کی آمد اور دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے تناظر میں جب جنرل سیسی کے کرپٹ نظام کا پیٹ بھرنا مزید ممکن نہ رہا، تو اس نے ایک دن کی تاخیر کے بغیر ایران کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھا لیں۔ اس کے ذرائع ابلاغ پر اب اپنے محسن سعودی عرب اور اس کی قیادت کےلئے وہ بد زبانی کی جاتی ہے کہ کوئی بھلا انسان جس کا تصور بھی نہ کرسکے۔مارچ میں ا±ردن میں ہونے والی عرب سربراہی کانفرنس سے پہلے اس تناﺅ میں کمی لانے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ (جاری ہے)٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved