تازہ تر ین

ایرانی تیل کی سمگلنگ …. اہم انکشاف سے کھلبلی

کراچی (خصوصی رپورٹ) ایف آئی اے نے ایران کے شہر جاہ بہار سے کراچی کے علاقے ملیر تک چلنے والے اسمگلنگ کے منظم ایرانی نیٹ ورک کا سراخ لگا لیا ، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پنجاب کی 25 فیکٹریاں چاہ بہار سے چلنے والے ایرانی نیٹ ورک کے ذریعے چاول سمیت دیگر مصنوعات ایران منتقل کرنے میں ملوث ہیں، ان فیکٹریوںکے مالکان کو بیانات قلم بند کرنے اور تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لئے ایف آئی اے نے لیٹرز ارسال کرنے شروع کر دیئے ہیں، تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ایران سے اسمگل ہو کر آنے والے تیل کو سندھ اور بلوچستان میں فروخت کر کے 8 ارب روپے سے زائد رقم کمائی گئی اور اس رقم سے پاکستانی کارخانوں سے مصنوعات اور مویشی خرید کر اسی نیٹ ورک کے ذریعے ایران منتقل کئے گئے، ایف آئی اے نے کارخانوں اور مویشیوں کے تاجروں کو ملنے والی ادائیگیوں کا بھی ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ ملک بھر میں موجود اس نیٹ ورک سے جڑے لوگوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چاہ بہار ایران کا ہی علاقہ ہے جہاں سے بھارتی جاسوس پاکستان علاقوں میں داخل ہوتے رہے ہیں اور اسی علاقے سے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے خلاف سازشیں تیار کی جاتی رہی ہیں، تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کے چاہ بہار سے اربوں روپے کراچی کے علاقے ملیر میں قائم بینکوں کے 5 اکاﺅنٹس میں منتقل ہوتے رہے ہیں ان بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں، ملیر میں موجود بینک اکاﺅنٹس میں اربوں روپے گوادر ، تربت اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں قائم بینکوں سے حاصل کردہ آرٹی سی یعنی روپیز ٹریول چیک کی مدد سے جمع کروائے جاتے رہے ، یہ اربوں روپے پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود درجنوں افراد کے بینک اکاﺅنٹس میں منتقل ہوئے اب تک کی تحقیقات میں ایف آئی اے نے ساڑھے 8 ارب روپے کی منتقلی کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ مزید چھان بین جاری ہے ، اس ضمن میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایران سے پاکستان تک چلنے والے نیٹ ورک کے خلاف ایف آئی اے کو مشکوک بینک ٹرانزیکشن کی صورت میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس پر ایف آئی اے کے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 04\2016 شروع کی گئی تھی ، مذکورہ انکوائری میں ایف آئی اے اسٹیٹ بینک کے افسر نے جب تحقیقات کا آغاز کیا توانکشاف ہوا کہ چاہ بہار اسمگلنگ نیٹ ورک میں ایرانی تیل پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے اور اسی کے عوض پاکستان سے چاول ، آٹا ، گنا اور کپاس سمیت دیگر اشیاءغیر قانونی طور پر ایران منتقل ہوتی رہیں، اسمگلنگ نیٹ ورک کی رقم دہشت گردی میں استعمال ہونے کی علیحدہ سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات میں اہم ثبوت اور شواہد سامنے آنے پر گزشتہ دنوں ایف آئی اے ٹیم نے کراچی کے علاقے ملیر سے ایک شخص زبیر ولد حاجی لال بخش کو گرفتار کر لیا، ایسے 5 اکاﺅنٹس پر تحقیقات شروع کی گئیں جس سے بھاری مالیت کی ٹرامزیکشن سامنے آئی ہیں، جب مذکورہ اکاﺅنٹس پر تحقیقات شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ حبیب بینک ویہہ ملاح برانچ ملیر میں بلوچ اینڈ کمپنی کے ٹائٹل سے موجود اکاﺅنٹ نمبر 03547900077003، مذکورہ بینک میں زبیر نامی شخص کے اکاﺅنٹ نمبر 03547900077003، ملیر سٹی میں واقع یونائٹیڈ بینک لمیٹد میں زبیر کے نام سے موجود اکاﺅنٹ نمبر 200612616، مسلم کمرشل بینک ملیر سٹی برانچ میں موجود بلوچ اینڈ کمپنی کے نام سے موجود اکاﺅنٹ نمبر 462347571002511، اور مذکورہ برانچ میںزبیر نامی شخص کے اکاﺅنٹ نمبر 462347531001109، میں ساڑھے 8 ارب کی ٹرانزیکشن کے ثبوت ملے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اکاﺅنٹس کے مکمل ثبوت ملنے پر آیف آئی اے نے اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا تو تفشیشی افسران کو اسمگلنگ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا کہ پاکستان سے چاہ بہار تک رقوم کی غیر قانونی ترسیل کس طرح سے ہوتی رہی ہے،یہ رقم ایران سے اسمگل ہو کر پاکستان آنے والے تیل کے عوض پاکستانی اسمگلروں اور ڈیلروں سے وصول کی گئی اور پھر اسی رقم کو ٹریول ٹرانزیکشن یا حوالہ کے نیٹ ورک کے ذریعے ایران منتقل کر دیا گیا جبکہ بعض اوقات تیل پاکستانی اسمگلروں کو ڈیلروں کو سپلائی کرنے کے بعد ان اسمگلروں اور ڈیلروں کے ذریعے چاول ، چینی ، آٹا، کپاس اور دیگر اشیاءکی کھیپ حاصل کرکے ان اشیاءکو بڑے پیمانے پر ایران میں غیر قانونی طور پر سپلائی کیا جاتا رہا اس طرح سے پاکستان معیثیت کو ایک لمبے عرصے تک دوہرے بلکہ تہرے طریقوں سے نقصان پہنچایا جاتا رہا ، ایک جانب پاکستان میں ایرانی تیل اسمگل کر پاکستان کو ٹیکس کی مد میں کروڑوں کا نققصان پہنچایا گیا جبکہ دوسری جانب پاکستان سے ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر سامان ایران منتقل کیا گیا، اسی طرح سے پاکستان سے کرنسی غیر قانونی طور پر ایران منتقل کر کے بھی پاکستانی معیثیت کو زک پہنچائی گئی، ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل پاکستانی اداروں نے جس بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سنگھ کو ایران سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا، وہ بھی چاہ بہار میں موجود نیت ورک کی مدد سے پاکستان آتا جاتا رہتا تھا، بھارتی فوج کے حاضر سروس فوجی جاسوس کو ایرانی خفیہ ایجنسی کی بھر پور معاونت حاصل رہی، جس کی وجہ سے یہی سمجھا جا رہا ہے کہ جاسوسی کا یہ نیٹ ورک اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی کے مذکورہ گروپ کی آڑ میں چلایا جاتا تہا جس کے اخراجات بھی پاکستان میں اسمگلنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم سے پورے کئے جارتے رہے ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے نے مقدمے میں ایرانی شہری حاجی رقیب کو بھی نامزد کیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ حاجی رقیب ایران سے ملنے والی تمام رقم زبیر کے اکا ﺅنٹ میں منتقل کرتا رہا ہے جس کا ریکارڈ بھی ایف آئی اے کو مل چکا ہے تا ہم ملزم کی ایران میں موجودگی کے باعث گرفتاری فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم کے ریکارڈ کی چھان بین کی جا رہی ہے کہ وہ کتنی بار ماضی میں پاکستان آچکا ہے، ذرائع نے بتایا کہ یہ انتہائی بااثر مافیا ہے جسے کئی تحقیقاتی اداروں میں موجود کرپٹ افسران کی سرپرستی کے ساتھ اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved