پورا پاکستان سِیل …. کومبنگ آپریشن ، 40 ہلاک

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور‘ پشاور‘ مہمند ایجنسی‘ کوئٹہ اور سیہون شریف میں خودکش دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی آپریشن تیز کر دیا۔ جھڑپوں میں 40دہشت گرد مارے گئے جبکہ سیہون شریف سے واپس جانے والے رینجرز قافلے پر دہشت گردوں کے حملے میں 7اہلکار زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق حالیہ خودکش حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں کومبنگ آپریشن شروع کر دیا۔ جھڑپوں کے دوران کراچی میں 18‘ سیہون شریف 7‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ سرگودھا اور فیصل آباد میں 2‘ 2دہشت گرد مارے گئے جبکہ پشاور‘ اورکزئی ایجنسی اور کوئٹہ میں بھی فورسز نے 9دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ادھر سیہون شریف سے واپس جانے والے رینجرز کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس میں 7اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیہون شریف/اسلام آباد /کراچی /لاہور (نمائندگان، ایجنسیاں) سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے احاطے میںخودکش دھماکے کے نتیجے میںخواتین اور بچوں سمیت76افراد شہید اور250سے زائد زخمی ہوگئے ، دھماکے کے وقت مزار میں دھمال جاری تھا جہاں افراتفری مچ گئی جس سے متعدد افراد پیروں تلے بھی دب گئے،زخمیوں کو قریبی سپتالوں میں منتقل کردیا گیا جہاں بیشتر افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،اندھیرے کے باعث امدادی سرگرمیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سول اسپتال سیہون، جامشورو اور حیدرآباد سمیت دیگر قریبی شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ،وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے خودکش دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی ، صدر ممنون حسین ، وزیر اعظم نواز شریف ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،سابق صدر آصف علی زرداری ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ‘ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ‘ ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ‘ گورنر رفیق رجوانہ ‘ وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب ‘ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ‘ گورنر سندھ زبیر عمر ‘ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ‘ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا ‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ‘ وزیر دفاع خواجہ آصف ‘ و زیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنائ اللہ خان زہری اور گورنر بلوچستان نے لال شہباز قلندر دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔جمعرات کی شام سہون شریف میں درگاہ لعل شہباز قلندر کے احاطے میں اس وقت زور دار دھماکہ ہوا جب مزار کے احاطے میں دھمال ڈالی جارہی تھی اور اس کے احاطے میں سیکڑوں لوگ موجود تھے، دھماکا انتہائی زور دار تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور دھماکے کے فوری بعد درگاہ میں مکمل طور پر دھواں پھیل گیا، دھماکے کے بعد مزار میں افراتفری مچ گئی جس سے متعدد افراد پیروں تلے بھی دب گئے۔دھماکے سے در گاہ کے احاطے میں آگ لگ گئی اور اندھیرا چھا گیا۔دھماکے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کرد یں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا گیا۔بعد ازاں پاک فوج کی امدادی ٹیمیں اور دیگر علاقوں سے امدادی کارکن پہنچ گئے اور زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیاجبکہ پولیس نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا۔ریسکیوحکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 85افرا دجاں بحق اور250سے زائد زخمی ہوئے ہیںجس میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔درگاہ لعل شہباز میں دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سول اسپتال سیہون، جامشورو اور حیدرآباد سمیت دیگر قریبی شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے انہیں ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا۔ایم ایس تحصیل ہسپتال سہون معین الدین کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں 30 افراد کی لاشیں اور 100 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا۔شدید زخمیوں کو دادو اور جامشور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے جہاں 50 سے زائد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جبکہ دادو، جامشور اور بھان سید آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 30کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیہون دھماکے کے متاثرین کی فوری امداد کی ہدایت کی جس کے بعد پاک فوج، رینجرز اور میڈیکل ٹیمیں جائے وقوع کی طرف روانہ کردی گئیں۔دوسری جانب سندھ پولیس کے ترجمان نے دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور گولڈن گیٹ سے درگاہ میں داخل ہوا اور مزار میں دھمال کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کا روز ہونے کی وجہ سے مزار میں زائرین کا رش تھا جس کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو ٹیموں کو فوری جائے وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے جب کہ وزیراعلی نے کمشنر حیدرآباد اور آئی جی سندھ کو بھی ٹیلی فون کرکے دھماکے کی تفصیلات معلوم کیں، وزیراعلی نے آئی جی سندھ سے دھماکے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ صدر ممنون حسین ، وزیر اعظم نواز شریف ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،سابق صدر آصف علی زرداری ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ‘ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ‘ ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ‘ گورنر رفیق رجوانہ ‘ وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب ‘ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ‘ گورنر سندھ زبیر عمر ‘ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ‘ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا ‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ‘ وزیر دفاع خواجہ آصف ‘ و زیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنائ اللہ خان زہری اور گورنر بلوچستان نے لال شہباز قلندر دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔لاہور (خصوصی رپورٹ) ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کو دیکھتے ہوئے پورے ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ مزارات کو بند کردیا گیا ہے۔ شہریوں کو سفر کے دوران شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کی ہدایت۔ نجی ٹی وی کے مطابق لاہور میں مزار بی بی پاکدامن اور ملتان میں شاہ تبریز کے مزارات کو عوام کیلئے بند کردیا گیا جبکہ فیصل آباد‘ ملتان‘ سرگودھا‘ پاکپتن‘ قصور اور جھنگ سمیت پورے ملک میں درباروں اور مذہبی مقامات کی سکیورٹی میں اضافہ کرتے ہوئے کئی مزارات کو زائرین کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں امام بری دربار کو بھی وقتی طور پر عوام کیلئے بند کردیا گیا جبکہ گولڑہ شریف دربار پر اضافی سکیورٹی تعینات کردی گئی۔ دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھاتے ہوئے بڑی شاہراہوں اور چوراہوں پر بھی پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ دوباروں پر حاضری کے لئے آنے والے زائرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ سیاست دان تو اپنی حفاظت کے لئے بیسیوں پولیس جوانوں کو لے کر گھروں سے نکلتے ہیں اور غریب انسانوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved