تازہ تر ین

جمشید دستی کی ڈرامہ بازی

حمید اصغر شاہین….بحث ونظر
آپ کے اخبار میں بحث چل رہی ہے، ہم اسے گہرائی سے دیکھ رہے ہیں۔ اس جنگ میں فتح حق سچ کی ہو گی اور سرائیگی کامران ٹھہریں گے۔ میری معروضات یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی نے اپنی تنظیم کا نام جنوبی پنجاب رکھ کر سرائیکی وسیب کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ مہرے والا کے سرائیکی میلہ میں اس وقت شرکت کروں گا جب پیپلز پارٹی کے اس عمل کے خلاف قرار داد منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔”پیپلز پارٹی“ سرائیکی وسیب کو گالیاں دینے سے باز رہے۔ جنوبی پنجاب کی لعنت کا طوق اپنے سر سے اتار پھینکیں گی۔ جب ہم خود کو پنجابی تسلیم نہیں کرتے تو پھر جنوبی پنجابی کے نام سے دو نمبر پنجابی بننا کیوں گوارہ کریں ۔ جب تک سیاسی طور پر ہم لارکانہ اور لاہور کا طواف کرتے رہیں گے ، غلام رہیں گے۔ میرا عاشق بزدار کے ساتھ ذاتی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم پیپلز پارٹی میں اکھٹے کام کرتے رہے لیکن جب چھوڑ دیا تو چھوڑ دیا۔ میں بھی سرائیکی تحریک میں آگیا، عاشق بزدار اور تاج لنگاہ بھی سرائیکی تحریک میں آگئے لیکن وہ جسمانی طور پر سرائیکی تحریک کی بات کرتے رہے لیکن روحانی طور پر پیپلزپارٹی سے وابستہ رہے۔ مجھ سے ایسا کام نہیں ہو سکتا۔ میں سیاسی ورکر ہوں، میرے بھائی بھتیجے، ایم این اے ، ایم پی اے بنتے ہیں۔ اب بھی ہیں لیکن کوئی (ن) لیگ کے ساتھ ہے۔ کوئی تحریک انصاف تو کوئی پیپلز پارٹی کے ساتھ ، میں ان سے اختلاف کرتا ہوں اور ان کو ہمیشہ کہتا ہوں کہ اپنے وسیب کی بات کرو، وہ ایسا نہیں کرتے مجھے بھی کسی کی غرض نہیں۔
حکمرانوں نے ملک کو بیچنا شروع کیا ہوا ہے۔ ہمارے تھل اور چولستان کو بیچا جا رہا ہے، عربوں سے پیسے لئے جا رہے ہیں۔ ہمارے سونے جیسی ریت کے بھاری معاوضے وصول کئے جا رہے ہیں۔ مگر ہماری ریت تسی ہے۔ عربوں کو فارمنگ کے نام پر زمینیں دی جا رہی ہیں۔ کیا عربوں نے صحرا کو آباد کر لیا ہے۔ وہ فارمنگ کے لئے نہیں عیاشی کے لئے آتے ہیں اور بھڑوے لوگ ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ اور جلوسوں کے ڈرامے بھی رچائے جا رہے ہوتے ہیںکہ شکار پر پابندی ختم کی جائے ۔ عربوں کو شکار کھیلنے دیا جائے۔ یہ مطالبہ بذات خود شرمناک ہے کہ پوری دنیا میں جلوس، شکار پر پابندی کیلئے ہوتے ہیں۔ یہاں جلوس شکار کے حق میں نکالے جاتے ہیں۔ میں کڑوی باتیں کرتا ہوں، اس لئے کسی کو اچھا نہیں لگتا۔
سرائیکی کارکن پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور (ن) لیگ کو ضرور بُرا بھلا کہیں کہ وہ سرائیکی وسیب کے دشمن ہیں۔ انہوں نے سرائیکی وسیب کیلئے کچھ نہیں کیا۔ سرائیکی صوبے میں رکاوٹ ہیں۔ لیکن ان سے بڑھ سرائیکی خطے کا سب سے بڑا دشمن مولانا فضل الرحمن ہے۔ وہ باہر سے مذہبی فرقے کی سیاست کرتا ہے ۔ اندر سے وہ نسل پرستی کی سیاست کو فروغ دیتے ہیں
بحیثیت پختون اس نے ہمارے ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک اوربنوں میں سرائیکی کوزبردست نقصان پہنچایا، بنوں میں 98فیصدسرائیکی تھے اور2فیصد پشتون۔ ایک سوسال کے عرصے میں ان لوگوں نے نقشہ کی بدل دیا۔ اور رہی سہی کسر مولانا فضل الرحمن کے چیلے اگرم درانی نے بنوں کو ڈویژن کا درجہ دیکر سرائیکیوں سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا ۔ اس خطے کے بے حس اور بے شرم سیاستدانوں کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس ظلم کیخلاف آواز بلند کریں۔ ابھی پنجاب والوں نے ہم سے اوکاڑہ ساہیوال ، چنیوٹ اور پاکپتن وغیرہ چھین لئے ۔ یہ پھر بھی اسمبلیوں میں بے زبان اور گونگے بنے ہوئے ہیں۔ جمشید دستی بھی صرف اپنے مقصد کیلئے ڈرامے بازی کرتا ہے۔ وسیب سے بھی اس کا تعلق ووٹ کی غرض تک رہ گیا ہے۔وکلاءبرادری جو جدوجہد کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ہم ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا ساتھ دیں گے۔
کالا باغ ڈیم سرائیکی خطے میں بننا ہے۔ پختون اور سندھی اس کی مخالفت کر کے ہمارے زخموں پر نم پاشتی کرتے ہیں ۔ پنجاب کالا باغ ڈیم کا ماما بھی بنا ہوا اور اندر سے وہ سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ سرائیکی قوم کو قومی اختیار دیا جائے ۔ صوبے کا درجہ دیا جائے اس طرح شناخت دی جائے جس طرح دوسرے صوبوں کی شناخت ہے۔ پھر ہم برابری کی بنیاد پر کالا باغ ڈیم پر بات کریں گے۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے۔ جو لوگ سرائیکی کو کچھ نہیں سمجھتے ہم بھی ان کو کچھ نہیں سمجھتے۔ جو ہم کو جی کرے گا ہم بھی جی کریں گے۔ جو پھوٹ کرے گا ہم بھی پھوٹ کریں گے۔ جو ہماری زبان اور ثقافت کی توہین کرے گا تو پھر ہم بھی اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر کہیں گے کہ سرائیکی صوبہ لسانی ہے تو تمہارا صوبہ کیسے قرآنی ہے۔
میں بیمار رہا، اب صحت یاب ہو رہا ہوں، ملتان جا کر سرائیکی تحریک کے دوستوں سے ملوں گا۔ سرائیکی صوبے کی حمایت کرنے والے صحافیوں کا شکریہ ادا کروں گا اور جو لوگ سرائیکی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ سرائیکی تحریک کے خلاف الزامات لگانے والوں کو منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ میں ان کے ماتھے چوموں گا اور سرائیکی پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کے ساتھ جو ہورہا ہے ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔ ایک تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ جس کا جو جو کردار ہو گا تاریخ میں اسی طرح یاد رکھا جائے گا۔ سرائیکی قوم کے خلاف جو لوگ پیش پیش ہیں ۔ 200 سال کا عرصہ معمولی عرصہ نہیں ۔ اب پنجاب سرائیکی قوم کو اس کا حق دے اور 200 سال کے ظلم کی معافی مانگے۔ ہم پاکستان کے ساتھ رہ سکتے ہیں پنجاب کے ساتھ نہیں۔ ہماری اپنی دھرتی اور اپنی شناخت ہے۔ پاکستان کو قائم رکھنے کیلئے سرائیکی قوم کو اس کا حق دینا ہو گا۔ پاکستان کو مستحکم کرنے کی صرف واحد یہی صورت ہے۔٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved