تازہ تر ین

پاکستان امریکہ کی ضرورت….

مائیکل کریپون….انٹرنیشنل پریس
ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کی معاون ریاست کا الزام تھونپنے کی کوشش کا کیا جواز بنتا ہے۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے اس لئے آج اس امریکی کوشش کے نتیجے میں متوقع نقصان پر بات کروں گا اور اگر ان کوششوں کے دوران ہی امریکہ یا بھارت میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو جاتا ہے اور اس کے ڈانڈے پاکستان سے جوڑ دیئے جاتے ہیں پھر تو یہ بحث ہی ختم ہو جائے گی۔ واشنگٹن میں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے والے کیمپ کی سوچ غالب ہو رہی ہے اور اس کیمپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے متعدد شکایات سامنے آ ر ہی ہیں جس میں کسی حد تک وزن بھی ہے جن میں پہلی تو یہ ہے کہ پاکستان کے افغان طالبان سے مراسم ہیں جو افغانستان پر حملے کر رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ پاکستان بھارت میں امن تباہ کرنے والوں کی حمایت کرتا ہے۔ تیسرا بڑا اعتراض عالمی امن اور پاکستان کے جوہری اثاثوں کے حوالے سے اٹھایا جا رہا ہے‘ اور جس طرح نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک سابق آفیشل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کونسل اور پینٹاگون کے اہلکاروں میں اس حوالے سے گٹھ جوڑ مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ پاکستان کو اہداف حاصل کرنے کیلئے بہت زیادہ قیمت ادا کی گئی ہے اوریہ راولپنڈی کو دی گئی نہ کہ اسلام آباد کو۔ یہ سوچ نہ صرف عالمی سطح پر موجود ہے بلکہ اس کا پرچار بھارت کی طرف سے بھی کیا جاتا رہا مگر پاکستان اور امریکہ تعلقات کی وجہ سے یہ اثرانداز نہ ہو سکی۔ اب امریکہ بھارت کے قریب ہو رہا ہے کیونکہ امریکی کوششوں کے باوجود پاکستان کی معیشت نہ سنبھل سکی اور پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ماسوائے چین کے سرمایہ کے۔ اور پاکستان کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بھی ٹھیک ہیں نہ ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی ربط ہے۔
ان حالات میں کانگریس پاکستان پر مزید پابندیاں لگانے جا رہی ہے اور امریکہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی خریداری میں مالی معاونت سے بھی انکار کر چکا ہے ۔ اب اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہڈسن انسٹیٹیوٹ اینڈ ہری ٹیچ فاﺅنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق جو حسین حقانی اور لیزاکرئس نے مرتب کی ہے اس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی یہ ہے کہ پاکستان کیلئے دہشت گرد گروہوں اور پراکسی جنگ کو مشکل‘ مہنگا اور دشوار بنا دیا جائے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکہ پاکستان خطہ میں اپنے سٹرٹیجک مفادات کیلئے پراکسی کی پالیسی کو امریکی مفادات کے خلاف تصور کرتا ہے۔حسین حقانی اور لیزا اپنی رپورٹ میں پاکستان کے خلاف سخت پابندیوں کی پالیسی اورپاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کے کانگریس کے بعض ارکان کے فیصلہ کو غیردانشمندانہ قرار دیتے ہیں اور اس غیردانشمندی کی وجہ ٹرمپ حکومت کا پہلا سال قرار دیا جارہا ہے۔ ان کے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ کو پابندیوں کے آپشن کو آئندہ کیلئے محفوظ رکھنا چاہئے۔
خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس میں بھی پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ری پبلکن رہنما ٹڈپوئی نے پاکستان پر بات کرتے ہوئے ہولناک اتحادی کے الفاظ استعمال کئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کانگریس کے صبر کا پیمانہ پاکستان سے حوالے سے لبریز ہو چکا ہے۔
اس مضمون میں میرا مقصد پاکستان پر تنقید کرنا نہیں بلکہ اس امریکی رویہ کے منفی اثرات کو اجاگر کرنا ہے۔ میرے خیال میں امریکہ کیلئے پاکستان کے علاوہ کوئی اور چوائس نہیں مگر پاکستان کو تنہائی کا شکار کرنے‘ اس کے کردار کو داغدار کرنے اور اس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے نتائج بھارت امریکہ یہاں تک کہ خود پاکستان کیلئے بھی بہتر نہ ہوں گے۔ امریکہ اور بھارت کو یہ نقصان ہو گا کہ ایسا کرنے سے پاکستان میں ایسی قوتوں کو تقویت ملے گی جو ملک کی سکیورٹی پالیسی میں کلیدی تبدیلی کی خواہشمند ہیں۔ اس طرح پاکستان پر دہشت گردی کی معاون ریاست کالیبل لگانے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان ہو گا بلکہ جوہری معاملہ پر بھی امریکہ کو کچھ حاصل نہ ہو گا۔
ہڈسن اینڈ ہری ٹیچ رپورٹ اور اینٹی پاکستان کاکس آن کیپٹل ہل اس رجحان کی نشاندہی ہے کہ پاکستان کو سزا دینے کی خواہش ڈپلومیسی کے استعمال کے امکانات کو محدود کر رہی ہے اور یہ کہ تلخ جملے اور الفاظ استعمال کرنے والے نرم لہجے میں بات کرنا بھولتے جا رہے ہیں مگر اس سے نہ تو پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کی حقیقت تبدیل ہو سکتی ہے نہ ہی خطہ میں جوہری خدشات ختم ہو سکتے ہیں۔
میری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان پر پابندیاں پاکستان کیلئے متبادل انتخاب کو محدود کر دیں گی اور یہ امریکی خارجہ پالیسی کیلئے المیہ سے کم نہ ہوگا اور ان افراد کی کوششوں کیلئے آخری دھچکا ثابت ہوں گی جو پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے امریکہ کا راولپنڈی پر اثر محدود ہوجائے گا جبکہ پاکستان کی سکیورٹی پالیسی میں تبدیلی کے واضح شواہد نظر آ رہے ہیں اور راولپنڈی کی سوچ بدل رہی ہے پاکستان میں آپریشن ردالفساد کا آغاز ہو چکا ہے جس میں پاکستان پورے ملک میں انتہاپسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کر رہا ہے۔ اگر امریکہ پاکستان کے ساتھ تعاون کی بجائے پاکستان کا گھیرا تنگ کرتا ہے تو راولپنڈی کے پاس پراکسی وار کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی کیا رہ جائے گا کیونکہ امریکی پالیسی میں تبدیلی سے پاکستان کی آپریشن کرنے کی صلاحیت کم ہوجائے گی اور اس کی دہشت گردی کے خلاف گرفت کمزور پڑ سکتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس وقت ایک ہچکولے کھاتی سائیکل پر سوار ہے مگر آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ سفر ختم ہوجاتا ہے تو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ تو متاثر ہوگی ساتھ بھارت سے جوہری جنگ کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک بار پھر حافظ سعید اور مسعود اظہر کی طرف مدد کیلئے دیکھنے پر مجبور ہو جائے گی۔
پاکستان کی بھارت اور افغان سرحد پر کشیدگی ہے۔ افغان اور بھارت سرحدوں پر فائرنگ ہو رہی ہے اور ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اس میں شدت آئی ہے۔ ان حالات میں امریکہ کاکردار کرائسز منیجر کا ہونا چاہئے ناکہ پاکستان سے صرف نظر کرنے کا امریکہ کے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی کو کسی طرح کرائسز مینجمنٹ اور جنگ سے گریز کی پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ افغانستان کے حوالے سے غلط راستے پر گامزن ہیں جس کی وجہ سے تلخ نتائج سامنے آ رہے ہیں جس میں سے اہم یہ ہے کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان امریکہ کی ماتحت ریاست ہے اور وہ افغانستان میں پاکستان کے مفادات کے بجائے امریکہ کے مفادات کا خیال رکھے گی۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب راولپنڈی افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے مگر اس میں ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ پاکستان پر ضرورت سے زیادہ دباﺅ پاکستان کو جوہری دوڑ میں شامل ہونے اور اینٹی انڈیا پالیسی پر مجبور کر سکتا ہے۔
پاکستان سے بنیادی سٹرٹیجک تبدیلی کا مطالبہ کرنے سے پہلے امریکہ کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے کہ پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے سٹرٹیجک پالیسی بہت مضبوط ہے‘ چاہے آپ اس کو غلط کہیں مگر امریکہ کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ امریکہ کیلئے پاکستان کا مستقبل افغانستان کے مستقبل سے زیادہ اہم ہے اور جو پہلے سے موجود ہے اسے چھوڑ کر اڑتے پرندے کے پیچھے بھاگنا حماقت ہو گی۔ ٭٭
(بشکریہ: ہیرالڈ،ترجمہ: ذوالفقار چودھری)

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved