تازہ تر ین

اخبارات کی سرکولیشن کا مسئلہ (3)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اخبار فروش ہمارا لائف پارٹنر ہے جس کا اخبار فروش لیڈروں کے نزدیک اب گزر بسر ہونا مشکل ہوگیا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جو اخبار فروش 100 اخبار بیچتا تھا اب وہ 12 بیچ رہا ہے۔ وہ کہاں سے کھائے اور کہاں سے بچوں کو پالے اور موٹرسائیکل کا خرچہ پورا کرے لیکن دوسری طرف اخبار مجبور ہیں کہ سرکولیشن سے انہیں پہلے ہی کیا ملتا ہے لہٰذا وہ فرنٹ بیک مکمل صفحے پر اشتہارات قبول کرلیتے ہیں تاکہ ان کی گزر اوقات ہوسکے۔ معذرت کے ساتھ بعض اخبارات تو آج ایسے بھی ہیں جو ازخود پانچ سو کی تعداد میں چھپتے ہیں۔ اشتہاری ایجنسیوں‘ چند کلائنٹس‘ پی آئی ڈی‘ صوبائی محکمہ ہائے اطلاعات اور کچھ بڑے مشتہرین کو بھجوا دیتے ہیں ۔ کراچی میں تو اس کام کے لئے بھی اخبار فروش کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایسی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں بن گئی ہیں جو آپ کے دیئے پتوں پر صرف اشتہار کے حصول کی خاطر متعلقہ افراد اور اداروں تک اخبار پہنچا دیتی ہیں اور ماہانہ ایک فکسڈ رقم میں یہ کام انجام دینے کو تیار ہیں۔ گویا انہوں نے سرکولیشن کا باب سرے سے بند کردیا ہے۔ یہ 500 اخبار بھی اخبار فروش کے ذریعے نہیں پہنچتا اور صرف اشتہارات پر کام کرکے کچھ ادارے اچھی کمائی کررہے ہیں۔ دوسری طرف اخبار فروش اخبار ہر نئے آنے والے اخبار پر دباﺅ ڈال کر اعلانیہ یا خفیہ طور پر 50 فیصد سے بھی کہیں زیادہ کمیشن الگ کرتے ہیں۔ معاہدے میں دس فیصد تک واپسی درج ہوتی ہے مگر اکثر پہلا پورا سال کھلی واپسی کا تقاضا کرتے ہیں جو پچاس سے ساٹھ فیصد تک ہوسکتی ہے۔ کچھ شہروں میں بعض اخبار فروشوں نے اخباری اداروں سے تقاضا شروع کر رکھا ہے کہ سال میں اتنی موٹر سائیکلیں‘ اتنی تعداد میں بائسیکلز کے علاوہ وہ تحفے تحائف جیسے چھوٹے ٹی وی تقسیم کیے جائیں۔ سال میں دو یا چار عمرے کے ٹکٹ تو لازمی مانگے جاتے ہیں۔ اخبار فروش اپنی جگہ مجبور ہیں کہ گزارا نہیں ہوتا اور اخباری ادارے اپنی جگہ مجبور ہیں کہ سرکولیشن کو نظر انداز کرکے زیادہ سے زیادہ سرکاری یا کمرشل اشتہارات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کسی اخبار نے دانستہ طور پر اپنی سرکولیشن محدود کررکھی ہو تاکہ کم کا غذ صرف ہو‘ نیوز پرنٹ کی قیمتیں گزشتہ 20 سالوں میں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ طباعتی سامان‘ بجلی کے بلز اور دیگر اخراجات میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے لہٰذا اخبار نہ نکالنے یا 500 چھاپ کر حکومت کی خوشنودی حاصل کر کے سرکاری اور دیگر ذرائع اختیار کر کے کمرشل اشتہارات حاصل کیے جائیں تو منافع ہو سکتا ہے یا کم از کم اخراجات پورے ہوسکتے ہیں۔ میں اخبار فروش بھائیوں کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں۔ میں اے پی این ایس اور سی پی این ای کے منتخب عہدیداروں کو جس میں خود میرا شمار بھی ہوتا ہے کہ سی پی این ای کا آج کل صدر ہوں لیکن اے پی این ایس میں بھی عمر بھر رہاہوں اور دو بار سینئر نائب صدر کے عہدے تک پہنچا ہوں اور دونوں تنظیموں کا کم و بیش 40/50 سال سے رکن ہوں اور علیٰ الترتیب ایگزیکٹو کمیٹی اے پی این ایس اور سٹینڈنگ کمیٹی آف سی پی این ای کا رکن چلا آرہا ہوں۔ میری اخباری تنظیموں سے بھی درخواست ہے کہ پرنٹ میڈیا میں جو کمی آ رہی ہے اس پر سرجوڑ کر بیٹھیں اس کام میں اخبار فروش حضرات کی رائے بھی شامل کی جاسکتی ہے۔
سب سے آخر میں مجھے اخباری صحافت کے اس کمزور پہلو کی طرف توجہ دلانی ہے کہ کمرشلائزیشن کے اس دور میں ایڈورٹائزرز کو خوش رکھنا ضروری ہے۔ سرکولیشن سے تو گزارا نہیں ہوتا اور فی کاپی قیمت سے زیادہ خرچ آتا ہے لہٰذا سب سے بڑی ایڈورٹائزر سرکاری سیکٹر میں حکومت ہے اور اس کے تحت چلنے والے ادارے اور کارپوریشنیں‘ دوسری طرف کمرشل اداروں کے خلاف کوئی خبر چھاپیں تو وہ اخبار کا بزنس بند کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اب قاری جو عوام پر مشتمل ہوتے ہیں اگر انہیں کسی سرکاری ادارے یا کمرشل کمپنی سے شکایت ہے بھی تو اخبار کا بزنس سیکشن شور مچاتا ہے کہ ایڈیٹر صاحب ذرا ہاتھ روک کر‘ یہ ہمارا کمرشل کلائنٹ ہے۔ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا‘ اشیائے ضرورت سے لے کر سروسز مہیا کرنے والے اداروں تک حقیقی عوامی مشکات اور شکایات کو اخبارات میں مشکل ہی سے جگہ ملتی ہے گویا عوام کے مسائل نہ تو نمایاں انداز میں شائع کئے جاسکتے ہی اور نہ ہی کسی بھی ادارے کے خلاف عوامی شکایت کو اخبار میں جگہ دی جاسکتی ہے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے وہ جو ایک زمانے میں اخبار مظلوم اور محروم لوگوں کی آخری امید ہوتا تھا اس امید میں بھی بہت بڑی حد تک کمی آچکی ہے۔ جب سرکولیشن فائدے مند نہ رہے اور بزنس پر گزارا کرنا پڑے تو پھر بزنس دینے والے اداروں کے مفادات اور ان کی پروجیکشن کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ میری اخباری صنعت کے بڑوں سے درخواست ہے کہ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں اور ذرا شمار کریں کہ کتنے ادارے‘ افراد‘ جماعتیں اب وہ مقدس گائیاں ہیں جن پر اب عام آدمی کی طرف سے بھی کوئی کڑی تنقید پر مشتمل مواد شائع نہیں کرسکتے حتیٰ کہ سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بھی اتنے منہ زور ہوگئے ہیں کہ کسی کی بڑی عوامی شکایت پر رپورٹنگ کروا کے چند روز چھاپیں اس کے بعد اپنے بزنس سیکشن سے پوچھیں تو وہ چیختا ہوا آئیگا کہ آپ نے ہمارے بزنس کا ستیاناس کردیا ہے۔ میرے پاس اس کی ایک نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں۔ کیا وقت نہیں آگیا کہ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرلیا جائے تاکہ ہمارے اخبارات عوامی مسائل‘ شکایات‘ اداروں کی کرپشن‘ صنعتی اداروں کی لوٹ کھسوٹ‘ صنعتوں کی نمائندہ تنظیموں کے حوالے سے کچھ آواز بلند کر سکیں۔ ہم بڑے لوگوں کی پروجیکشن یا تشہیر کرتے ہیں حالانکہ ہم جان رہے ہوتے ہیں کہ جو بیانات ہم چھاپ رہے ہیں یہ سو فیصد جھوٹ ہیں۔ اس طرح اخبارات پر مجموعی طور پر لوگوں کا اعتماد کم ہوگیا ہے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved