تازہ تر ین

خدا شیروں کو گیدڑوں سے محفوظ رکھے!

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
برسوں کی صحرا نوردی ‘ پس قدمی اور امن امن کی دہائی نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔جرا¿ت ‘ ہمت اور مقصد کو پالینے کا عزم اس قوم کو دینے کا وقت ہے۔سیاسی رہنماﺅں ‘ عوام ‘ ہر طبقہ فکر کی ہمدردیاں حکمرانوں کو حاصل ہیں۔فتح کانپتی ٹانگوں اور ٹیلی فون کالز پر ڈھیر ہونے سے حاصل نہیں ہوتی۔دھمکی کے جواب میں کھڑے ہونے سے دشمن پسپا ہوتا ہے۔
70 برس کی صحرا نوردی کے بعد ہماری قوم اور حکمران پھر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لاتوں کا بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانتا ‘ جن کی خو میں مکاری ہو انہیں دوستی کے حربے اور خوشامد کے گر راس نہیں آتے۔بھارت اور اس کے حکمرانوں کی ساری تاریخ کہہ مکرنیوں ‘ عہد شکنیوں اور فریب سے عبارت ہے۔پسپائی کے جس سفر کا آغاز جنرل (ر) پرویز مشرف نے کیا تھا بالآخر وہ ایسی منزل سے ہمکنار ہوا ہے کہ بھارت کا پرنالہ وہی آگرا‘ جہاں جنم دن میں گرا تھا۔ہماری تمام تر خواہشات اقدامات اور توقعات کے برعکس وہ ہمیں اب بھی دہشت گرد ‘ظالم ‘ گھس بیٹھیے اور جنگ جو سمجھتے ہیں۔برسوں کی خوشامد اور وضاحتیں ہمارے کسی کام نہ آئیں۔اس سارے عرصے میںہم نے پاکستان کی محبت میں سرشار اہل جموں و کشمیر کا اعتماد مجروح کیا ‘ پاکستان کے عوام کو دھوکہ دیا اور دوستی اور اعتماد سازی کے نام پر اربوں کا سرمایہ برباد کر دیا۔
دو ہزار برس پہلے ہندوستان میں ایک بد صورت برہمن پیدا ہوا۔کوٹیلہ چانکیہ نے علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔کیرالہ سے تعلق رکھنے والا یہ غریب برہمن پاٹلی پتر کے بادشاہ نندا کے دربا میں پہنچا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس نے ٹیکسلا میں جنم لیا اور بعد میں فلسفے کی ایک بحث میں کامیاب ہو کر پاٹلی پتر کے بادشاہ سے انعام لینے وہاں پہنچا۔جیسے بھی ہوا ‘ٹیڑھی ٹانگوں والا یہ دانشور جہاں اپنی بد صورتی اور نفرت انگیز عادات کی وجہ سے مشہور تھا وہاں چالبازی ‘مکرو فریب ‘دغابازی اور دھوکہ دہی کے اصولوں کا بھی ماہر تھا۔بدھ مت کے مطابق جس بچے کے منہ میں پیدائش کے وقت پورے دانت ہوں وہ بڑا ہو کر بادشاہ بنتا ہے۔چانکیہ بھی پورے دانت لے کر پیدا ہو ا تھا۔والدین اسے بادشاہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے چنانچہ بچپن میں ہی اس کے دانت نکلوا دیئے یہ حضرت بڑے ہو کر بادشاہ تو نہیں بنے لیکن بادشاہ گربن گئے۔چنانچہ اس نے بادشاہی حکمرانی اور لشکر کشی کے قوانین مرتب کیے۔” ارتھ شاستر “ اس کی شہرہ آفاق تصنیف ہے جس میں ریاست کی تنظیم ‘ حکومتی عہدیداروں کا تقرر اور ذمے داریاں ‘ ناپسندیدہ افراد کی سرکوبی ‘ دربار کے قواعد ‘خارجہ پالیسی ‘ فوجی طاقت کا استعمال ‘ غالب حکمرانوں کے ساتھ تعلقات ‘دشمنوں کو تباہ کرنے کے قوانین اور کمزوروں کے ساتھ سلوک جیسے ابواب مرتب کئے چنانچہ جواہر لعل نہرو سے من موہن سنگھ تک بھارت کے سترہ وزیر اعظم ہوں یا ڈاکٹر راجندر پرشاد سے مسز پاٹیل تک بارہ صدور ‘سب کی سیاست ‘ اصول ‘ حکمت عملی ‘عمل درآمد اور قوانین و فیصلے ارتھ شاستر کے گرد گھومتے ‘ اسی کا عکس اور چانکیہ کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔
چانکیہ دشمن کو ٹھکانے لگانے کے مختلف حربوں کے ذیل میں کہتا ہے کہ جب اپنے دشمن کو مارنے لگو تو اسے گلے لگاﺅ مار چکو تو اس کی لاش پر آنسو بہاﺅ۔دشمن کو کیسے گھیرا جائے؟اس حوالے وہ جو پالیسی اعلان بھی کرتا ہے ‘بھارت کے سارے وزیراعظم سارے صدور اس پر من و عن عمل کرتے آئے ہیں۔” دشمن “ کون ہوتا ہے اس حوالے سے چانکیہ کی تعلیمات کہتی ہیں ‘ اپنے سے کمزور دشمن ‘ برابر فاتح راجہ اور بہت ساروں سے فرداً فرداً نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والا ثالث راجہ ہوتا ہے۔ ”دشمن “ کو زیر کرنے کے حوالے سے وہ لکھتا ہے۔
” قریبی طاقتور بادشاہ کو دشمن کہا جائے گا ‘اس کو زیر کرنے کا وقت وہ ہوتا ہے جب وہ مصیبتوں میں گھرا ہو اپنی بد اعمالیوں میں مبتلا ہو ‘ ایسے وقت اسے مٹا دینا چاہیے جب اس کاکوئی حلیف بھی نہ ہو تو وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے معاف کر دیا جائے۔اسے زچ کیاجائے اس کی طاقت کم کی جائے۔“
چانکیہ جواہر لال نہرو سے من موہن سنگھ تک کو یہ بتاتا ہے کہ ” دشمن “ پر عین اس وقت حملہ کر دینا چاہیے جب وہ تفریح میں مصروف ہو ‘ عورتوں کا رسیا ہو ‘ کھانے پینے اور عیاشی میں مصروف ہو ‘ آرائش میں مشغول ہو ‘ بد نظمی اور باہمی اختلافات کا شکار ہو ‘ آرام کر رہا ہو ‘ غیر محفوظ حالت میں ہو ‘ اپنے دفاع سے غافل ہو ‘ بد زبانی کر رہا ہو ‘ الغرض ” دشمن “ (یعنی اپنے سے کمزور ) کو گھیر کر مارنے کے بارہ اصول چانکیہ نے مرتب کیے۔اس ساری تاریخ میں بھارت کا قریب ترین اور اس کی نظر میں کمزور ترین ملک پاکستان رہا ہے۔جس کی سزا ساٹھ برسوں میں ہم بار ہا بھگت چکے۔البتہ اس ساری جارحیت اور پیش قدمی کو اس وقت روک لگ جاتی ہے جب چانکیائی سیاست کا ایک اور نادر اصول سامنے آ جاتا ہے۔
” دشمن کو کبھی کم تر نہ جانو ‘ دھمکی کے جواب میں اگر وہ کھڑا ہو جائے تو دھمکی واپس لے کر دوستی کےلئے بازو پھیلا دواور یہ جانو کہ وہ اپنے دفاع کےلئے چل پڑا ہے تو بات چیت کےلئے راہ ہموار کر لو۔کبھی دشمن کی مرضی پر جنگ نہ کرو جب اپنی ضرورت ہو تو ہلہ بول ڈالو۔“
یہ ہے وہ کل بھارتی نفسیات جو پاکستان کےلئے مرتب ہوئی ہے جہاں تک پاکستان پر چڑھ دوڑنے کا تعلق ہے بھارت ایسی غلطی ایسے حالات میں بھی کبھی نہیں کرے گا البتہ وہ شکست خوردہ کم ظرف پہلوان کی طرح ہمیں چٹکی ضرور کاٹ سکتا ہے۔ہماری زندگی اور طرز حکمرانی کا تقاضا تو یہی ہے کہ بھارت ہمیں کمزور جان کر دھمکیاں دیتا رہے اور ہماری دعا بھی یہی ہونی چاہیے کہ اﷲ آزمائشوں سے بچائے لیکن عساکر پاکستان ‘ حکمرانوں ‘ سیاست دانوں اور عوام کو ہرآزمائش کےلئے تیار بھی رہنا چاہیے جہاں تک عوام کے جاگنے کا تعلق ہے اگر کروڑوںگیدڑ ہیں تو ایک شیر سپہ سالار ان کو شیر بنا سکتا ہے لیکن ان کروڑوں شیروں کو اﷲ کسی گیدڑ سے بچا کر رکھے۔لمحہ موجود میں لاتوں کے بھوت کو باتوں سے نہیں بلکہ لاتوں سے سمجھایاجا سکتا ہے۔
برسوں کی صحرا نوردی ‘ پس قدمی اور امن امن کی دھائی نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔جرا¿ت ‘ ہمت اور مقصد کو پالینے کا عزم اس قوم کو دینے کا وقت ہے۔سیاسی رہنماﺅں ‘ عوام ‘ ہر طبقہ فکر کی ہمدردیاں حکمرانوں کو حاصل ہیں۔فتح کانپتی ٹانگوں اور ٹیلی فون کالز پر ڈھیر ہونے سے حاصل نہیں ہوتی۔دھمکی کے جواب میں کھڑے ہونے سے دشمن پسپا ہوتا ہے۔کم از کم ہندو بنیے کو تو یہی سکھایاگیا ہے۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved