سرائیکی قوم پرست آئینہ نہیں‘چہرہ صاف کریں

نجیب محفوظ
روزنامہ خبریں نے جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کیلئے علمی و فکری بحث کا آغاز کر کے یہاں کے عوام پر احسان اس لحاظ سے کیا ہے کہ اب جنوبی پنجاب کے لوگ سرائیکی رہنماﺅں کے چہروں سے ہٹتا نقاب دیکھ رہے ہیں ورنہ پہلے تو کئی برسوں سے روزنامہ خبریں پرسرائیکستان کے حامیوں کا قبضہ تھا اور یہ لوگ عوام کی محرومیوں اور استحصال کو بھائیوں میں نفرت پھیلانے اور اپنی روزی چلانے کا دھندا کر رہے تھے۔ یہ ”خبریں“ میں جاری مباحثے کا ہی کمال ہے کہ پہلے اسلم اکرام زئی‘ منصور بلوچ سمیت چند محب الوطن افراد نے جھوٹ کی یلغار کا سامنا کیا‘ ان میں سے کچھ دوست سرائیکی رہنماﺅں کی دھمکیوں اور گالی گلوچ کی تاب نہ لا کر غائب ہو چکے ہیں جسے سماج کے ٹھیکیداروں نے اپنی کامیابی سمجھ لیا مگر یہ بھول گئے کہ حق کی آواز دبانا ممکن نہیں۔ ایک کی آواز دباﺅ گئے تو ہزار آوازیں بلند ہوں گی۔ یہی ان کے ساتھ بھی ہوا۔ دھونس کو کامیابی سمجھنے والے جب آپے سے باہر ہوئے تو عوام کے دلوں پر راج کرنے والے رہنماﺅں محمد علی درانی اور جاویدہاشمی کےخلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ خاکسار نے احتجاج کیا اور ظہور دھریجہ کو اپنے قد کاٹھ کا جاویدہاشمی سے موازنہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد میں نے جناب جاویدہاشمی سے ٹیلیفون پر ظہور دھریجہ کی تحریر پر ردعمل بارے جاننا چاہا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ جناب جاویدہاشمی نے ظہور دھریجہ کے مضمون پر بات کرنا نہ صرف اپنی توہین سمجھا بلکہ مجھے صوبہ کے حوالے سے اپنے خیالات سے بھی آگاہ کیا اور یہ اجازت بھی دی کہ میں چاہوں تو ان کے خیالات کو اپنی تحریر میں بطور حوالہ استعمال کر سکتا ہوں۔ یہ بات خوش آئند تھی کہ جناب جاویدہاشمی نہ صرف یہ کہ سرائیکی صوبہ کے حامیوں کے عزائم سے باخبر تھے بلکہ انہوں نے قومی مفاد میں بلا خوف اپنے خیالات عوام تک پہنچانے کی اجازت بھی دی اور یہ کام جاویدہاشمی ایسا باکردار باغی ہی کر سکتا ہے انہوں نے بلاشبہ ایک سچے مسلمان اور محب الوطن پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ میں پہلے مسلمان پھر پاکستانی ہوں اور یہ کہ بحیثیت پاکستانی میں قوم کو لسانی بنیاد پر تقسیم کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ جاویدہاشمی نے یہ بات اس وقت کہی جب اگلے سال ملک میں الیکشن ہونے والے ہیں اور انہوں ے اس بات کی پروا نہیں کی کہ سرائیکی شوشہ چھوڑنے والے نام نہاد رہنما ان کے اس بیان کو بنیاد بنا کر ووٹرزکو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
جاویدہاشمی کا مو¿قف کس قدر مضبوط اور اہم ہے‘ اس بات کا اندازہ میری تحریر کے جواب میں ظہور دھریجہ نے حقائق کو تسلیم کرنے کی بجائے مجھ پر الزام دھر دیا ہے کہ میں جناب جاویدہاشمی کو سرائیکی صوبہ کے مدمقابل لے آیا ہوں۔ محترم ظہور دھریجہ نے جاویدہاشمی پر اپنے مضمون میں اعتراض اٹھایا ہے کہ انہوں نے 1988ءمیں میاں نوازشریف کے اتحادی کے طور پر الیکشن لڑا اور اس الیکشن میں میاں نوازشریف نے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا تھا۔ دھریجہ کا یہ اعتراض بھی خوب ہے کہ نعرہ میاں نوازشریف نے لگایا اور جواب جناب جاویدہاشمی سے مانگ رہے ہیں۔ بہتر ہوتا دھریجہ صاحب جاوید ہاشمی کا حوالہ دیتے کہ انہوں نے ماضی میں کبھی صوبائیت یا لسانیت پر مبنی متعصبانہ رویہ کا اظہار کیا ہو۔ جب دلیل نہ ہو تو انسان بے پر کی چھوڑتا ہے۔ دھریجہ صاحب عرب لیگ اور سعودی عرب کے نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نام تبدیل کرنے کا مطالبہ جاویدہاشمی سے کر رہے ہیں۔ ظہور دھریجہ نے مخدوم جاویدہاشمی کے بارے میں انتہائی رویہ اختیار کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ ان کی سیاست کا محور اقتدار اور کرسی ہے مگر یہ بھول گئے کہ اگر ایسا ہوتا تو ملتان کے لوگ بار بار ان کو اپنا نمائندہ منتخب نہ کرتے کیونکہ عوام خدمت کرنے والوں کو ووٹ دیتے ہیں‘ اپنی دکانداری چمکانے والوں کو نہیں اور اس کا ثبوت سرائیکی رہنماخود ہیں جو آج تک محلے میں کونسلر بھی منتخب نہ ہوسکے اور کیونکہ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوامی حلقوں میں ان کو پذیرائی ملنے والی نہیں اس لیے اپنے کوے کو سفید ثابت کرنے کےلئے انتخابی عمل پر ہی سوال اٹھاتے ہیں۔ اس رویئے کو بہکا پن نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے کہ ایک سانس میں ظہور دھریجہ یہ کہتے ہیں کہ انتخابی نظام میں خرابی کی وجہ سے ان کے لوگ منتخب نہیں ہوتے تو دوسری ہی سانس میں جاوید ہاشمی صاحب سے سوال بھی کرتے ہیں کہ سرائیکی وسیب کو پنجاب میں شامل کرنے سے پہلے عوام کی رائے حاصل کرنے کےلئے ریفرنڈم کب کروایاگیا۔ میری ظہور دھریجہ سے گزارش ہے کہ آپ 70 ءکی دہائی سے سرائیکی سرائیکی کھیل رہے ہیں ۔انتخابات میں اپنے نمائندے بھی کھڑے کرتے ہیں مگر عوامی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ آپ کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوتی رہی ہیں کیا یہ ریفرنڈم نہیں۔ چلئے دھریجہ صاحب کو اگر اتنا ہی یقین ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہی سچ ہے تو 2018ءمیں انتخابات میں عوام کی عدالت میں آ جائیں۔ اگر وسیب کے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے تو ان کو ووٹ ملیں گے۔ اگر اس بار بھی ان کی ضمانتیں ضبط ہو جاتی ہیں تو جناب جاویدہاشمی نے کیا غلط کیا ہے۔ یہ ”رولا رپا“ اخباروں کا پیدا کیا ہوا ہے۔ دھریجہ صاحب کی ذہنی حالت کا اندازہ تو اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے مضمون میں یہاں تک لکھ دیا کہ کیا پاکستان عوام کے ووٹوں سے بنا تھا اور یہ کہ قائداعظمؒ کو کتنے لوگ ووٹ دیتے تھے۔ ان کی تحریر سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دھریجہ صاحب کو تاریخ کا علم نہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان بھی عوام کے ووٹ سے بنا تھا اور قائداعظمؒ نے قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان کی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا‘ پھر وہ سندھ اور ممبئی کا قصہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کیا دھریجہ صاحب یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پنجاب کے باسی ہندوﺅں سے بھی بدتر ہیں جو وہ جاویدہاشمی کو تخت لاہور کے گماشتوں کا ساتھ دینے کی بجائے ان کا ساتھ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ دھریجہ صاحب خاطر جمع رکھئے ابھی تو آپ کے گھر اور علاقہ سے بھی آپ کو پاکستان اور پاکستانیت سے وفاداری کی آوازیں سننا ہے کیونکہ جھوٹ کو جتنا بھی دلفریب نعروں میں لپیٹ کر عوام کے سامنے رکھا جائے وہ سچ نہیں ہوتا اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ ایک وقت کیلئے تو کچھ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں مگر ہمیشہ کیلئے سب کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ جہاں تک سرائیکی زبان اور ثقافت کی بات ہے تو دھریجہ صاحب کیا سرائیکی زبان کی مٹھاس اور دلکشی منوانے کیلئے اردو‘ پنجابی اور عربی کی کڑواہٹ ثابت کرنا ضروری ہے۔ کیا سرائیکی کے عظیم شاعر اور دانشور دوسری زبانوں کےخلاف تحریک چلا کر عظیم شاعر بنے تھے۔ دھریجہ صاحب‘ عوام کے دل نعروں اور تلواروں سے نہیں جیتے جاتے بلکہ محبت اور اخلاص دلوں پر محبت کرتا ہے اور لوگ ہمیشہ ایسے لوگوں سے عقیدت رکھتے ہیں جو محبت کے پرچارک ہوں نہ کہ نفرت کے پجاری۔
مخدوم جاویدہاشمی نے آئینہ دکھایا تو برا کیوں مانتے ہیں‘ اپنا چہرہ صاف کریں۔ ٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved