آنکھوں والے ”حافظ جی“

ندیم اُپل …. نشانہ
ایک شخص گھر کے اندر کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کررہا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ پوچھا کون ہے؟ تو باہر سے آواز آئی ”حافظ“، دراصل یہ حافظ صاحب بینائی سے محروم تھے ان کے خاندان کا بھی کسی کو علم نہ تھا۔ کافی عرصہ پہلے اس محلے میں دیکھے گئے تھے اور پھر اہل محلہ نے ان کے کھانے پینے اور رہائش کا ایسا خیال رکھا کہ یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ کبھی کسی کے گھر سے ناشتہ کرلیا تو کسی خاتون نے حافظ جی کو سویرے سویرے دودھ میں باقر خانی ڈال کر دے دی۔ حافظ جی کی یوں کہیے موجیں لگی ہوتی تھیں۔ اب آج صبح سویرے جب ان حافظ جی نے ملاوٹ کرنے والے کے دروازے پر دستک دی تو ملاوٹ کرنے والے نے بھی اس خیال سے دروازہ کھول دیا کہ بیچارے بینائی سے محروم ہیں۔ انہیں کیا پتہ کہ میں کیا کررہا ہوں۔ بہرطور حافظ جی اندر آگئے اس شخص نے دوبارہ سے دروازہ بند کیا اور کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنے لگے۔ ساتھ ساتھ وہ حافظ جی سے ادھر ادھر کی باتیں بھی کرتے جارہے تھے اور اس دوران جب اس شخص نے حافظ جی سے کہا اور سنائیں حافظ جی آنکھوں کا کیا حال ہے آج کل بڑے فری آئی چیک شہر میں لگ رہے ہیں کہیں چیک کروایا؟حافظ جی کے چہرے مسکراہٹ بکھری اور بولے جناب وہی تو بتانے آیا ہوں میری آنکھیں ٹھیک ہوگئی ہیں۔
پیارے قارئین! حافظ جی کے اس جواب پر ملاوٹ کرنے والے کا جو حال ہوا ہوگا اس کا یقینا آپ کو بھی اندازہ ہوگیا ہوگا۔
حافظ جی کی مثال سامنے رکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ مختلف شعبوں کی وہ اتھارٹیز جن کے اہلکاروں کی ڈیوٹی ہے کہ وہ کرپشن پکڑیں، ملاوٹ مافیا کو گرفت میں لیں، بھتہ لے کر تجاوزات کی کھلی چھٹی دینے والے ٹاﺅن اہلکاروں کو پکڑیں اور جائز کام کیلئے بھی رشوت طلب کرنے والوں کو پکڑنا جن کی ذمہ داری ہے وہ بھی حافظ جی کی طرح کے اندھے ہیں سب کچھ دیکھ رہے ہیں مگر اس لئے دانستہ طور پر اندھے اور گونگے بہرے بنے ہوئے ہیں کہ ان کو جھوٹ موٹ کا اندھا بننے کا معاوضہ یا بھٹہ جو بھی طلب کریں انہیں مل جاتا ہے۔ حافظ جی تو ایسے عناصر سے ہزار درجہ بہتر ہیں جنہوں نے کم از کم ملاوٹ کرنے والے کو بتا تو دیا کہ ان کی آنکھیں ٹھیک ہوگئی ہیں آج کل کے پاکستانی ماحول میں جس بچے کی آنکھیں کھلتی ہیں وہ اپنے آس پاس کرپشن کا ماحول دیکھ کر خود بھی کرپٹ ہوجاتا ہے ایک ماں جب بچے سے کہتی ہے کہ بازار سے 50کا دودھ لے آﺅ بچہ جب پانچ روپے اپنے لئے مانگتا ہے تو ماں اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیتی ہے اور یہی بچہ دکان پر جاکر دودھ والے سے کہتا ہے کہ انکل 45 روپے کا دودھ دے دیں گویا بچے کو کرپشن پر ماں نے مجبور کیا اور یہی بچہ جب بڑا ہوگا اور اتفاق سے وزیر خزانہ بن گیا تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ کیسی کیسی کرپشن کرے گا۔ صدر ممنون حسین نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن نے ملکی ترقی کا راستہ روک رکھا ہے لہٰذا نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ بدعنوانی کا راستہ روکے مگر جب 5 روپے کا دودھ کم لانے والا بچہ گھر سے ہی کرپشن سیکھے گا تو وہ کیسے کرپشن کیخلاف آواز اٹھائے گا؟بات حافظ جی کی اور آنکھوں کے حوالے سے ہورہی تھی۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ جب پاکستانی معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے اور اپنے آس پاس کا ماحول دیکھتا ہے تو وہ خود ہی کرپٹ ہوجاتا ہے مثلاً جب کوئی طالب علم ایف ایس سی میں ٹاپ کرتا ہے اور ڈاکٹر بننے کا عزم کرتا ہے تب اس کا جذبہ اور بیان یہی ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کرے گا مگر ڈاکٹری سیکھنے کے دوران جب وہ دیکھتا ہے کہ اسے کتنے لاکھ دے کر ڈاکٹر بننا پڑاتب ڈاکٹر بننے کے بعد دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ دکھی انسانیت کو مزید دکھی کرنے کی راہ پر چل نکلتا ہے۔
گزشتہ روز کے اخبار میں ایک خبر یہ تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو سری لنکا سے قرینہ کے تحفے ملے ہیں جس سے 10 افراد کی آنکھیں روشن ہوگئی ہیں ۔ خوش نصیب ہیں وہ افراد جن کو سری لنکا سے تحفہ میں ملنے والے قرنیہ کی بدولت دنیا روشن ہوگئی۔ مگر ہمارا خیال تھا کہ اگر یہ قرنیہ کچھ سیاسی اور بااختیار لوگوں کی آنکھوں میں لگا دیئے جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا اور شاید سری لنکا سے ملنے والے ان قرنیہ کی بدولت ان کی آنکھیں صرف ذاتی مفاد کو نہ دیکھتیں بلکہ انہیں معاشرے کے حقیقی دکھ بھی نظر آتے اور وہ لوگوں کے ان دکھوں کا بھی مداوا کرپاتے جیسا کہ ہم سطور بالا میں لکھ چکے ہیں کہ جس بچے کی آنکھیں ہمارے ہاں کے کرپٹ معاشرے میں کھلتی ہیں ان آنکھوں کو صرف اپنا مفاد نظر آتا ہے۔ آئندہ سری لنکا سے اگر مزید قرنیہ بطور تحفہ ملیں تو انہیں ایسے سیاسی اور بااثر لوگوں کی آنکھوں میں لگایا جائے جن کی پہلے سے موجود آنکھوں میں صرف دولت اور سونے چاندی کی ہوس نظر آتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس وقت نہ جانے آنکھوں والے ایسے کتنے ہی حافظ جی ہیں جنہوں نے اپنی کاروباری زندگی کا یہ اصول بنا رکھا ہے کہ سب کچھ دیکھ کر بھی کہتے ہیں کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا جو جان بوجھ کر اندھے، گونگے اور بہرے بنے ہوئے ہیں یہ وہ حافظ ہیں جن سے کسی نے کہا کہ حضرت پہلے آپ اندھے بن کر گلی کی نکڑ پر بھیک مانگا کرتے تھے مگر اب لنگڑے بن کر بھیک مانگتے ہیں جس کا حافظ جی نے بڑا منطقی جواز پیش کیا اور کہا کہ جب وہ اندھے بن کر بھیک مانگا کرتے تھے تو لوگ انہیں جعلی نوٹ اور کھوٹے سکے دے جایا کرتے تھے مگر اب لنگڑا بن کر ان کی یہ شکایت دور ہوگئی ہے۔ سو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آ ج کل کوئی بھی اندھا، گونگا اور بہرہ نہیں ہے سب نے کسی نہ کسی روپ میں اپنی دکانداری لگا رکھی ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک بار پاکستان بیت المال کے چیئرمین ایم اے کے چوہدری (مرحوم) نے بتایا کہ انہوں نے گداگری کی لعنت ختم کرنے کیلئے پیشہ ور گداگروں کا کریک ڈاﺅن شروع کیا اور جب بڑی بڑی شاہراﺅں اور چوراہوں پر ان گداگروں کو پکڑنے کی کوشش کی تو اندھے اور لنگڑے فقیروں کی سپیڈ ہاکی کے کھلاڑیوںسے بھی زیادہ تیز تھی پھر بھی ہم نے بہت سے گداگروں کو پکڑ کر دارالکفالہ میں بند کردیا جہاں مفت کھانے، رہائش کے علاوہ ان کو ہنر سکھانے کا بھی اہتمام تھا مگر حیرت یہ ہے کہ شام تک ان گداگروں کو چھڑوانے کیلئے ملک کی بڑی بڑی بااثر شخصیات کے سیکریٹریوں کے فون آگئے کہ فلاں کو چھوڑ دیں فلاں کو چھوڑ دیں۔ پاکستان بیت المال کے چیئرمین کے اس انکشاف نے یقینا ہمیں بھی حیرت زدہ کردیا ۔ سو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صرف آنکھوں والے حافظ جی ہی اکیلے قصور وار نہیں ان کے سرپرستوں پر بھی گرفت ہونی چاہیے جنہیں آج کے دور میں سہولت کاروں کا نام دیا گیا ہے۔٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved