پاکستان کو انتظار رہے گا

صوفیہ بیدار……..امروز
جب دینا جناح پاکستان آئی تو میں نے کالم لکھا ”بابل کا دیس“ ملک کسی کے باپ کا نہیںہوتا مگر ”دینا جناح“ کے واقعی باپ کا ہے ان لوگوں کے ہم پر احسان ہیں جنہوں نے (گاﺅماتا) بھارت کو جو خود کو پورے برصغیر کے علاوہ کشمیر کو بھی بھارت کا اٹوٹ انگ جانتا ہے اور جسے ایک مسلمان نوجوان بیرسٹر نے ایک نظریہ کی سچائی سے الٹا کر برصغیر کا نقشہ تبدیل کر دیا،صحت کی قربانی کوئی چھوٹی قربانی نہیں۔ ذات کو مقدم سمجھنااور جسم کو قربان گاہ پر دھر دینا کہنے میں آسان مگر کرنے میں بہت مشکل ہے۔ محمد علی جناح کا خاندان ہی موقف کے ضمیر سے گندھا خاندان تھا جو لوگوں کےلئے آسائشوں کے ساماں کرکے خود انا کی صلیب پر عمر بھر رشتوں کو ترستے رہے مگر خودداری،انا اور وقار کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔
دینا جناح نے بھی پاکستان سے کیا لیا؟ مجھے اپنا ایک شعر انہیںلوگوں کو خراج تحسین لگتا ہے:
احتراماً وقت کو ہم نے وہیں ٹھہرا دیا
اک محبت کی اور اس کا عمر بھر پہرہ دیا
لوگ لوگوں کے نزدیک درست موقف رکھتے ہوں یا غلط مگر مضبوطی سے اپنے موقف پر کھڑے رہنا ہی اپنی جگہ مضبوط کردار کی نشانی ہے۔ وقتی طور پر نقصانات ہوتے ہیں مگر جو چیز آخر میں بچ جاتی ہے وہ بہت بڑی ہوتی ہے۔
15مارچ کو لاہور میں خواتین کی بہبود کے دیگر پروگراموں میں دو بڑے اجتماع ہوئے ایک ایوان اقبال میں وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں زیور تعلیم کےلئے خدمت کارڈ کا اجرا ءاور دوسری طرف فائیو سٹار میں جماعت اسلامی کے سابق امیدوار ہردلعزیز مقبول شخصیت راحیل قاضی کی دعوت پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی سربراہی میں اسلامی بہنوں کا اجتماع تھا۔ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ قوم کی بچیوں کےلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان کو مشاہدہ کیا جائے یا پھر اسلامی جماعتوں کی خواتین کے اذہان میں کیا چل رہا ہے اور ان کی قیادت آئندہ انتخابات میں ان کےلئے کیا رکھ رہی ہے؟ کہ اب جو بھی سیاسی لیڈر جو بھی اقدامات کر رہا ہے یا کہہ رہا ہے (وعدہ) وہ سب آئندہ انتخابات ہی سے متعلقہ ہے۔
اندازہ تھا کہ مڈل اور لوئر مڈل گھرانے کی بچیوں کو تعلیمی زیور جو ان کا حق ہے کس طرح ادا کیا جا رہا ہوگا۔ ادھر جماعت اسلامی کے امیر بھی جنت کی بشارت دے رہے ہوں گے، تاہم میری دلچسپی سمیعہ راحیل قاضی کی دعوت میں یوں دوچند تھی کہ تصویر کا دوسرا رخ بہت کم سامنے ہوتا ہے لہٰذا میںسراج الحق والی تقریب میں چلی گئی۔ جناب سراج الحق جھگڑنے والے لیڈروں دھرنا دینے والے لیڈروں اور حق سچ کے مقدموں میں پیش پیش ہوتے ہیں ان سے بارہا ملاقات بھی ہوئی اور اس تاثر کی نفی بھی ہوئی کہ جماعت اسلامی کے لیڈر عورتوں کے حق میں تنگ نظر ہوتے ہیں یا انہیں دوسرے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں جیسا کہ پی پی پی کے پرانی قیادت پراپیگنڈہ کرتی رہی کہ حالیہ کو تو پراپیگنڈہ کا بھی ٹائم نہیں پوری پی پی پی کی تھیوری اور فلسفہ محض آصفہ بھٹو اور بختاور کے خواتین سے متعلقہ ٹویٹ پر مبنی رہ گیاہے مگر جماعت اسلامی کے اجتماع میں جا کر تو معلوم ہوا کہ ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والی خواتین دائرہ اسلام میں مضبوط، باوقاراور بلند آہنگ رکھتی ہیں۔ ڈھانپے ہوئے چہروں کے پیچھے ذہین آنکھیں اور روشن دماغ ہیں۔جماعت اسلامی پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، امیر جماعتاسلامی قاضی حسین احمد سادہ زندگی بسر کرتے تھے میں ان سے کہا کرتی تھی کہ گستاخانہ مواد کے جواب یا اس سے بھی قبل اسلام کے مخالفوں کو لکھ کر تحریروں کے ذریعے اپنا نکتہ نظر اور اسلام کا وہ گداز انداز بیان کیا جائے جو عین جارحیت کے قابل امن کا پیغام ہے اور نبی اکرم کی حقیقی نرم روئی سے عبارت ہو قاضی صاحب متفق تھے کہ تحریر کے محاذ پر منفی پراپیگنڈے کا جواب اسلام سے محبت کرنے والوں کو لکھ کر دینا چاہیے جس کےلئے وہ خود بھی کوشاں رہتے تھے۔ سراج الحق نے خواتین کے اجتماع کو باحیا وفادار اور گھربار بنانے والی خواتین قرار دیا اور پارلیمنٹ کےلئے موزوں امیدواروں کےلئے ماں اور بہن کو حق ادا کرنے کی شرط لازمی قراردی۔ میں نے کہا کہ اس شرط میں بیوی کے حق کو بھی لازم و ملزوم کر دینا چاہیے تو سراج الحق جو اپنی ننھی منی سی صاحبزادی کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے کہا مگر بیوی تو روز لڑتی ہے پھر صلح بھی کرلیتی ہے ایسے میں میرے ساتھ کھڑی دوست کالم نگار راشدہ قریشی نے کہا کہ وہ بیچاری لڑ کر بھی کھانا پکاتی ہے، کپڑے دھوتی ہے میں نے کہا عورتیں جس قدر غلاظت ہی گھر والوں ی دھو دیتی اس کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ جن حقوق کی بازیابی کی بات کرتے ہیں تو وہ ان کو ان کے نبی نے دے رکھے ہیں اور جسے نبی کی سنت اختیار کرنے کے دعوے داروں نے چھین رکھا ہے تو کیا سوچیں گے سراج الحق کو 51فیصد خواتین کی عملی زندگی میں معاون اقدامات کی تفسیر کرتے دیکھ کر خوشی ہوئی، انہوں نے کہا کہ ان کے پاکستان میں ہر ستر برس کی خاتون کا وظیفہ ہوگا خواتین باروزگار ہوں گی ان کی خدمت میں عرض ہے کہ قطر جیسے (پاکستان سے کم ترقی یافتہ) ملک میںخواتین کی ہر کاروبار میں 30فیصد شراکت لازمی قرار دے دی گئی ہے اس طرح مسقط اومان میں بھی خواتین کی عملاً شراکت کی قانونی حیثیت ہے۔ بیوی کے حقوق ہم سب کو معلوم ہیں مگر موجودہ دور کی طالع آزمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے آنے والی بچیوں کے مضبوط مستقبل کےلئے اگر ہم کوئی قانونی حیثیت بنا دیں گے تو اس میں تمام والدین کے دل میں ٹھنڈک سامان ہوں گے۔ ہم گزری ہوئی عمروں کے والدین قبروں میں دعاگو ہیں کہ نسلوں کی قربانی کے صلے میں ہماری بیٹیوں کو مقصدوں پر نہ پھینک دیا جائے کوئی محمد بن قاسم آئے اور خواتین کو ان کے حقوق دلانہ دے محض لوٹا دے کہ حق لکھنے اورر دینے والی ذات تو نبی اکرم کی ہے۔
رہ گیا پاکستان تو وہ چاہے نیا ہو یا پرانا عمران خان کا ہو یا سراج الحق کا میاں شہباز شریف کا ہو یا میاں نواز شریف کا، کام دعوﺅں اور وعدوں کی حیثیت سے تو ٹھیک ہے مگر جن لوگوں کا ابتدا میں ذکر کیا وہ ہی اس کے بنانے والے ہیں اس کے رکھوالے بھی بننا ہے تو پاکستان بنانے والوں کے عوام سے کوئی ایک ”خو“ تو پرانے لوگوں کی لینا ہوگی کوئی ایک بات تو پرانے لوگوں سے مماثلث رکھتی ہو ورنہ پاکستان تو انتظار میں ہے انتظار میں رہے گا کسی سچے عاشق رسول کے کسی حقیقی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے کہ اس راہ پر چلنا بھی مقصود ہو تو بھی عین عبادت ہے، ریاست کو ہمیشہ سچے رہنما کا انتظار رہتا ہے، کوئی آئے تو۔٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved