پاکستان کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ، کامیاب اقتصادی حکمت عملی کس نے بنائی ہوئی ہے ۔


کراچی (ویب ڈیسک)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مےن اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی کامیابی کے لئے انشورنس سیکٹر کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ اسکا حجم بڑھ سکے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور حکومت کی کامیاب اقتصادی حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے مگر ملک میں انشورنس ٹو جی ڈی پی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے جو ضروریات سے انتہائی کم ہے۔ غریب عوام کو تحفظ دینے کیلئے مائیکرو انشورنس کا خاطر خواہ انتظام موجود نہیں اس لئے اس شعبے کو ترقی دینے اور اسکے لئے الگ ریگولیٹر کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اقتصادی راہداری کیلئے جہاں کاروباری برادری کو زیادہ قرضوں کی ضرورت ہو گی اور ایف بی آر کو مزید بھرتی کرنا پڑےں گی وہیں انشورنس کمپنیوں کو بھی اپنا نیٹ ورک اور مجموعی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے جسکے لئے حکومت مداخلت کرے۔ انھوں نے کہا کہ انشورنس کمپنیاں امیر اور متوسط طبقے سے کاروبار میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں اسلئے غریب عوام جو عام انشورنس پالیسی خریدنے کی استعداد نہیں رکھتے انکے کیلئے مائیکرو انشورنس سیکٹر کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انھیں رسک سے بچایا جا سکے۔ اس ضمن میں لائف انشورنس، ہیلتھ انشورنس، معذوری کا بیمہ اور چھوٹے کاروبار کے تحفظ کا موثر نظام متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت پنجاب نے کراپ انشورنس ا سکیم متعارف کروائی ہے اورحکومت سندھ نے حادثاتی اموات کی کوریج کیلئے یونیورسل لائف انشورنس پلان متعارف کروایا ہے جبکہ بعض نجی کمپنیوں نے مائیکرو انشورنس کی ا سکیمیں متعارف کروائی ہیں مگر یہ ناکافی ہیں اور اس ضمن میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس شعبے کی ترقی کیلئے عوام کو آگاہی کے علاوہ انشورنس کمپنیوں کو ٹیکسوں میں نرمی سمیت دیگر ترغیبات دی جائیں۔ #

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved