تازہ تر ین

پاکستان کا میزائل ٹیکنالوجی میں بڑا معرکہ د شمن حواس باختہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) میزائل ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی دفاعی صلاحیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان 1998 میں ایٹمی قوت بنا تو پاکستانی سائنسدانوں ، انجنئیرز اور ٹیکنیشنز کی انتھک محنت نے اسے میزائل ٹیکنالوجی میں روایتی دشمن بھارت پر فوقیت دلا دی۔ پاکستان 1998 میں اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا۔ ایٹم بم بنانے کے بعد بھی پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے بھرپور چیلنجز درپیش تھے۔ وطن عزیز کے سائنسدانوں اور انجنئیرز کی محنت رنگ لائی۔ پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی میں دشمن کو کئی پیچھے چھوڑ دیا۔ بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن بھی ناکام بنا دی گئی۔ آج پاکستان کے پاس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی میں ساٹھ کلو میٹر سے لیکر 2750 کلو میٹر تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔ کروز ٹیکنالوجی میں بھی پاکستان فضا ، زمین اور سمندر سے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کا کروز میزائل 450 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ نیوکلیئرمیزائل ٹیکنالوجی میں اہم اہداف کے حصول کے بعد پاکستان نے کم سے کم دفاعی صلاحیت کی پالیسی کو موثر انداز میں آگے بڑھایا ہے۔ ملٹی پل انڈیپینڈنٹ ری انٹری وہیکل میزائل ابابیل کے تجربے سے پاکستان کی میزائل سازی کی لاگت میں بھی نمایاں کمی ا?ئی۔ زمین سے زمین پر مار کرنے والے ٹیکٹیکل ویپن نصر میزائل نے بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کامنصوبہ خاک میں ملا دیا۔ آبدوز سے کروز میزائل بابر تھری کے کامیاب تجربے نے بھارتی کی دفاعی برتری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain