تازہ تر ین

چہرے پر کیل چھائیوں سے نجات کا آسان طریقہ

مردہو یا عورت خوبصورت نظر آنا ہر ایک کی خواہش ہے۔ جلد نکھری اور رنگت گوری ہو تو خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ جلد اور رنگت ہر ایک کی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔کچھ کا رنگ سفید کچھ سانولی جلد کے مالک ہوتے ہیں۔سانولی رنگت والے افراد خاص کر گوری رنگت سے متاثر ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی غیر معیاری کریموں اور لوشنز کے استعمال سے اپنی جلد بھی خراب کر لیتے ہیں۔ اچھی اور معیاری کریموں اور لوشنز سے جلد صاف تو ہوسکتی ہے لیکن رنگت میں تبدیلی ممکن نہیں۔ خوشبو دار کریمیں ‘لوشنز‘ آلودہ ماحول گردوغبار‘ بہت زیادہ میک اپ اور ناقص غذا جلد کو خراب کرتی ہے حساس جلد بہت جلد متاثر ہوتی ہے ۔سردیوںمیں خشک جلد والی خواتین کو خارش اور دیگر جلدی بیماریوں کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔ فاسٹ فوڈز کی بجائے پھلوں اور جوسز کا استعمال کر نا چاہیئے۔ جوانی میں چہرے پر نکلنے والے دانوں پر خوامخواہ کریمیں اور لوشنز لگانے سے چہرے کی جلد خراب ہوجاتی ہے جبکہ چہرے پر پڑنے والی چھائیاں اور دانے خون کی کمی کی علامت ہیں۔ یہ کریموں سے ختم نہیںہوتی بلکہ فوری طور پر ماہر امراض جلد سے علاج کروانا چاہیئے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر تمیز الدین سربراہ ماہر امراض شعبہ جلد بے نظیرہسپتال نے روزنامہ خبریں کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ فضاءمیں موجود گر دوغبار دھواں کیمیائی اجزاءپولن کیمیکل ملے ڈٹرجنٹ وغیرہ نہ صرف سانس کی الرجی پیدا کرتے ہیں بلکہ جلد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں حساس اور خشک جلد پر ان عوامل کے زیادہ اثرات ہوتے ہیں۔ جلد سرخ اور اس پر خارش ہونا شروع ہوجاتی ہے جو بڑھ کر تمام جسم کو اپنی لپیٹ میںلے لیتی ہے۔ اگر احتیاط اور بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ ایگزیما میں تبدیل ہوجاتی ہے جو کہ نہایت تکلیف دہ صورتحال جس سے جسم پر دانے اور آبلے نمایاں ہوجاتے ہیں جو رستے ہیں اور ان سے نکلنے والے مواد سے پپڑی جم جاتی ہے۔ فنگس اور خارش سے مزید تکلیف بڑھتی ہے۔ یہ جلد کی بیماریوںمیں سب سے زیادہ لاحق ہونے والی بیماری ہے بعض اوقات اس کی ابتداءکپڑے دھونے کے صابن‘ ڈٹر جنٹ کے ناقص قسم کے واشنگ پاوڈرز یا مختلف قسم کی دھاتوں سے بنے ہوئے زیورات اور انگوٹھیاں پہننے سے بھی ہوسکتی ہے۔ اس بیماری میں جلد کی حدت بڑھ جاتی ہے۔ یہ جسمانی نظام میں زہریلے مادے پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اس سے نپٹنے کے لئے بہترین راستہ خون کو صاف اور غیر معیاری چیزوں کے استعمال سے بچانا ضروری ہے۔ بچوں اور ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد کی جلد عام طور پر حساس ہوتی ہے۔ حساس جلد کے حامل افراد کو خوشبو دار کریموں اور لوشنز‘ تیز دھوپ اور دیگر موسمی اثرات سے خود کو بچانا چاہیے ۔دمہ‘ ایگزیما‘ خارش‘ چنبل ایک ہی چیز ہے جسے طبی اصطلاح میں atopic family کہتے ہیں۔ گھروں میں پالتو جانور رکھنے والے لوگوں کو احتیاط کر نی چاہیئے۔ ان سے مختلف خطر ناک بیماریاں خصوصاً جلدی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ان میں فنگس کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں جن کے لئے جانوروں کی ویکسینیشن بہت ضروری ہے ورنہ جراثیم ماحول میں شامل ہوکر انسانی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ فنگس بچوں اور بڑوں کو لگ سکتی ہے اور بالوں پر حملہ آور ہوتی ہے جس سے بال ٹوٹ کر گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ برص اور پھلبہری مچھلی کھا کر دودھ پینے سے ہوتی ہے‘ ہر گز ایسی کوئی بات نہیںبلکہ یہ خاندانی اثرات کے باعث پیدا ہوتی ہے اس کی علامت جب تک واضح نہ ہوجائے تو اس وقت تک اس بیماری کا تصور نہیں کر نا چاہے اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ جگہ دودھ نما سفید ہوجاتی ہے تو اس صورتحال میں اسکا علاج مستند ڈاکٹر سے کروانا چاہے بہت زیادہ میک اپ کر نا ایسی خواتین جو ملازمت پیشہ ہیں روزانہ کی بنیاد پر میک اپ کرتی ہیں ان کی جلد عموما متاثر ہوکر خراب ہوجاتی ہے بیوٹی پارلرز میں مساج‘ با ر بار فیشلز اور رنگت گوری کر نے کے لئے کریموں کا بے جا استعمال‘ خوشبو دار لوشنز اور دیگر میک اپ کی چیزیں چہرے اور بالخصوص جسم کی دیگر جلد کو خراب کر دیتے ہیں۔ چہرے پر پڑنے والی چھائیاں اور کالے رنگ کے داغ دھبے ان لڑکیوں کو ہوتے ہیں جو سکول‘ کالج‘ یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کر نے کے لئے جاتی ہیں تو وہ اس دوران چپس‘ برگرز‘ سموسے پکوڑے اور دیگر ناقص غذائیں فاسٹ فوڈز کا استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان میں خون کی کمی ہوجاتی ہے اور انکے چہرے پر پڑنے والی چھائیاں اور کالے رنگ کے داغ دھبے نمایاں ہوجاتے ہیں اور چہرے کی خوبصورتی کے لئے ان غیر معیاری کریموں اور لوشنز کاا ستعمال کرتی ہیں تاکہ یہ نشانات ختم ہوجائیں ۔ایسا کر نے سے بہتر ہے کہ فوری طور پر اس صورتحال میں مستند ماہر ڈاکٹر سے علاج کروائیں اور معیاری غذا جس میں سیب ‘سنگترے‘ گاجر‘ چقندر ‘پانی اور جوس و دیگر وہ اشیاءجن میں خون بنانے کی صلاحیت زیادہ ہو انکا استعمال کریں ۔ جلد کی خوبصورتی کے لئے زیتون کا تیل مفید ہے۔ مغربی ممالک میں پراڈکٹس میں زیتون کا تیل خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مساج نہ صرف جلد کو چمکدار کر تا ہے بلکہ خوبصورت اور دیگر جلدی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے ۔ پولن الرجی ان چھوٹے چھوٹے پیلے رنگ کے ذرات کو کہا جاتا ہے جو ہمیں خوبصورت پھولوں کے اندر نظر آتے ہیں۔یہ ذرات شہد کی مکھیوں اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کے جسم سے چپک کر پودوں سے مادہ پودوں تک پہنچتے ہیں ۔ان پودوں کا پولن اتنا ہلکا اور چھوٹاہوتا ہے کہ ہوا میں اڑ تے ہوئے یہ پولن کے ذرات انسان کی سانس کی نالی میں داخل ہوسکتے ہیں اور حساس مریضوں میں الرجی پیدا کرتے ہیں ۔پولن الرجی پوری دنیا میں پائی جاتی ہے لیکن یہ صرف اس موسم میں ہوتی ہے جب کوئی مخصوص پودا اپنی پولن ہوا میں چھوڑ رہا ہوتا ہے لیکن یہ کوئی وبائی بیماری نہیں ‘یہ صرف موسم بہار میں ہوتی ہے جسکا دورانیہ فروری تا اپریل ہوتا ہے۔ پولن کے پھیلنے کی وجوہات جنگلی شہتوت پیپر ملبری (paper mulberry)کے پودے کے پولن سے ہوتی ہے اسلام آباد راولپنڈی اٹک زیادہ ہوتی ہے اسکے علاوہ جنگلی گھاس کی چند اقسام اور دیگر پودوں کے پولن سے الرجی پیدا ہوتی ہے ۔جون تا ستمبر ایبٹ آباد سے لیکر سرگودھا جنگلی بھنگ کے پودوں میں ہوتا ہے۔ لاہور میں موسم بہار میں سنبل اور عام گھاس کا پولن بھی الرجی پیدا کرتا ہے ۔ ماہر امراض جلد نے اس بات پر زور دیا کہ اگرجلد خراب ہوتو اشتہاری لوشنز خوشبودار کریموںکے استعمال بیوٹی پارلرز سے وقتی فلنگ کے بجائے مستند جلد کے ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہتے تاکہ جلد مزید خراب ہوکر پیچیدہ بیماریوں میں لاحق نہ ہوجائے۔ ٭٭٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain