پانامہ کیس فیصلہ : طاہرا لقادری کی حیران کن پیشنگوئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سارا نظام ہی ملک اور عوام دشمن ہے، سارا سسٹم ایک کرپٹ مافیا کے بھلے کے لئے ہے۔ اس ظالمانہ نظام میں عوام یا ملک کی بھلائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چینل ۵ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پانامہ کیس میں حکمران خاندان جس طرح بے نقاب ہوا ہے اس کے بعد بھی اگر بچ گیا تو بڑی حیرت ہو گی۔ دو میں سے صرف ایک کام ہو سکتا ہے کہ یا تو سپریم کورٹ خود کو بطور ادارہ بچا لے یا پھر نوازشریف کو بچا لے۔ میرے جیسے لوگ اس نظام کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہم تو سسٹم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں اور یہ سارے کردار تو اس سسٹم کی پیداوار ہیں۔ کرپٹ سسٹم میں آئین کا کوئی رول نہیں ہے عام عوام کا کیا رول ہو گا۔ موجودہ سسٹم کے تحت تو دس بار الیکشن ہو جائے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس سسٹم نے ان لوگوں کو ہی سامنے لانا ہے جو اس کے بنانے والے ہیں اور بچا کر رکھا ہے۔ سسٹم اور اس کے بنانے والے ایک دوسرے کے محافظ ہیں اس لئے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ سسٹم کو چلنا چاہئے کیونکہ اس میں سب کو حصہ ملتا ہے۔ کرپشن، لوٹ مار اور لاقانونیت کا نام سسٹم رکھا ہے جس میں عوام کا کوئی رول نہیں ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی شریف آدمی کی سیاست یا تجارت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پانامہ فیصلہ آئے گا تو ہی پتہ چلے گا کہ اسے کس لحاظ سے یاد رکھا جائے گا۔ اگر کسی کی سمجھ میں ہی کچھ نہ آیا کہ ہوا کیا ہے تو یہ بھی یاد رکھا جائے گا۔ ماضی میں بھی ایک فیصلہ ایسا آیا تھا کہ سارے ہی رو رہے تھے اور سارے ہی خوش تھے پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ کون ہارا اور کون جیتا۔ سپریم کورٹ اگر جرا¿تمندانہ اور حق پر مبنی فیصلہ کرتی ہے، اس میں طاقتور لوگوں کی جانب دیکھنے کے بجائے آئین قانون سچائی پر فیصلہ کرتی ہے تو اسے یاد رکھا جائے گا تاہم پاکستان کی تاریخ میں ایسے فیصلے آنا طویل مدت سے ختم ہو چکے ہیں۔ کئی دہائیوں سے کسی طاقتور کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ ایسا فیصلہ بھی آ سکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی سپریم کورٹ کا رخ ہی نہ کرے، ادارے کی وفات ہو جائے تو یہ بھی یاد رکھا جائے گا۔ اگر کسی کے بھی خلاف فیصلہ نہ ہو اور سارے ہی ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہوں جشن منا رہے ہوں تو یہ بھی یاد رکھا جائے گا یعنی اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ میرے ذہن میں اس فیصلہ کے حوالے سے کئی چیزیں سمجھ میں آتی ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ کیا فیصلہ آتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved