حالاتِ حاضرہ کا نوحہ

اسرار ایوب….قوسِ قزح
پریشانی یہ نہیںکہ ہماری گردن پر وقت کی بے رحم گرفت مضبوط تر سے مضبوط ترین ہو تی جارہی ہے، تاسف کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس جیتی جاگتی حقیقت سے بھی غافل ہیں کہ گردن گُھٹ جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ ہم نے پاکستان میں یہ کیا معاشرہ تشکیل دے دیا ہے جس میں ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لئے ایسا قانون نافذ العمل ہے جس کی آڑ میں بار بار مظلومیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے وہ بھی رحمت ا للعالمین کے نام پرلیکن ہم ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں:
نجانے شہر یہ کیا سوچ کر بسائے گئے
نکال کر جہاں قبروں سے جسم کھائے گئے
دوسروں کے گھر تعمیر کرنے والے مزدور خود بے گھر ہیں، وہ بھی اس طرح کہ فٹ پاتھ پر سونا پڑتا ہے، دوسروں کا اناج اگانے والے کسانوں کے اپنے بچے بھوک سے بلکتے ہیں اور ان معصوموں کے آنسوﺅں کی قیمت ایک روکھی روٹی کے برابر بھی نہیں۔اس پر تقدیر کے خود ساختہ نظریے کی رو سے بتایا یہ جاتا ہے کہ رزق کی تقسیم خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، تو کیادنیا کے 1فیصد لوگوں کے پاس باقی کے 99فیصدکے برابرجو سرمایہ ہے اس میں رب العالمین کی رضا و رغبت شامل ہے؟ تو پھرزبان پریہ سوال کیونکر نہ ابھرے کہ
مرے خدا ترے نائب ہیں کیا یہی بندے
جو ایک نانِ جویں کے لئے رلائے گئے
سرہانہ اینٹ ہے فٹ پاتھ جن کا بستر ہے
سنا ہے ان کے لئے دو جہاں بنائے گئے
اس طرح کی خبریں سرِ عام سننے کو ملتی رہتی ہیں کہ فلاں شخص عمر قید کاٹنے کے بعدرہا ہوا اور فوت بھی ہو گیا تو دو برس بعد سپریم کورٹ نے اس کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے بے گناہ قرار دے کر ”باعزت“بری کر دیا:
کرے گی اُس کا مداوا کوئی عدالت کیا
جو قید کاٹ کے ہم بے گناہ پائے گئے
خدا کی قسم آرمی پبلک سکول کے اُن معصوم بچوں کی یادسے آج بھی دل دہل اٹھتا ہے، آنکھوں سے نیند اڑجاتی ہے اور پیروں کے نیچے سے زمین کھسکتی محسوس ہوتی ہے جن کے والدین نے انہیں تیار کرکے، ناشتہ کرایا اور لنچ باکس تھماتے ہوئے،سکول پڑھنے کے لئے روانہ کیالیکن واپسی پراُن کے ٹکڑوں کے ساتھ اپنے خواب بھی بارود میں جھلسے ہوئے ملے، یہی نہیں بلکہ یہ بھی بتایا گیا کہ بچے پڑھائی کرنے کے لئے نہیں بلکہ قربانی دینے کے لئے گئے ہوئے تھے، اور اس قربانی سے قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔تو خدائے بزرگ و برتر سے یہ سوال کیونکر نہ کروں کہ
تجھے بھی تھوڑی ندامت تو ہو رہی ہو گی
کہ تیرے نام پہ پھولوں پہ بم گرائے گئے
اب اس کے بعد بھی باقی کوئی قیامت ہے
کہ اپنے خواب بھی بارود سے اڑائے گئے
ہمیں نہ حشر کے آسیب سے ڈرائے کوئی
کہ ہم پہ حشر سے پہلے بھی حشر ڈھائے گئے
دن رات خدا اور رسول کے عشق میںمبتلا، جنت کی حوروں کا وردکرنے والے ”سچے عاشق“یہ بھی نہیں سوچتے کہ خدا اور رسول کے روبروان مجبور و لاچار لڑکیوں کا سامنا کیسے کریں گے جنہیں حیوانیت کی سولی پر لٹکانے کے بعدجلا دیا گیا، جب وہ یہ سوال کریں گی کہ ہماری تقدیس کا یہ سبق کیاخدا اور رسول نے تمھیں پڑھایا تھا جو ہماری راکھ دیکھ کربھی تم خاموش رہے تو جواب کیادیں گے؟ قیامت سے بڑھ کر کیا یہ قیامت نہیں ہو گی کہ شیطانیت کے الاﺅ میں جلائے گئے جسموں کے ساتھ ہماری بیٹیاں، بہنیں اور مائیں اللہ پاک سے جواب ضرور مانگیں گی۔
اگرچہ آتشِ نمرود میں جلے ہم بھی
مگر ہمارے لئے پھول کب کھلائے گئے
ترے جہاں میں حقیقت ہی کیا ہماری ہے
کہ ہم سے لوگ یہاں بے شمار آئے گئے
اس سے بڑھ کر شرم کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان کے ہاتھوں قدم قدم پر انسانیت کا خون ہو رہا ہے، کبھی غلبہ و اقتدار کے لئے کبھی دین و مذہب کے لئے تو کبھی مال و زر کے لئے۔ فرعونوں، ہامانوں اور قارونوں کا گٹھ جوڑ محکوموں، مریدوں اور غریبوں کا خون چوس رہا ہے۔ فرقوں اور گروہوں میںبٹے انسان ایک دوسرے کے قتل کو جہاد کا نام دے کر، اس کے عوض جنت میں جانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔کسی کوخدا کا سکھایا یہ مشہور و معروف سبق بھی یاد نہیں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے یعنی جنت یا جہنم دراصل اپنے ہی اعمال کا دوسرا نام ہے اور کسی کی جان لینا (چاہے وہ کوئی بھی ہو،ماسوائے اس کے کہ اسے عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہو)تمام نوعِ انسانی کا خون کرنے کے مترادف ہے۔
کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہم نے جنت جیسے پیارے پاکستان کو اپنے کرتوتوں سے جہنم بنا کر رکھ دیا ہے جس کی آگ ہماری آنے والی نسلوں تک کوجلا کر راکھ کر رہی ہے، لوگ اپنے بچوں کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے لیکن ہم یہ بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ غلط راستے پر چل رہے ہیں، ہمارا کیا بنے گا؟
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved