پانامہ کا فیصلہ، 550شخصیات کیخلاف شکنجہ تیار

لاہور، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاناما کیس کے فیصلے کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) نے آج اپنے قائد نوازشریف سے اظہار یکجہتی کیلئے سہ پہر 4 بجے پنجاب بھر میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کردیا۔ ریلیوں کی قیادت وزرائ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کے چیئرمین کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) اپنے گڑھ لاہور میں تین مقامات پریس کلب، لبرٹی اور لالک چوک پر ریلیاں نکالے گی۔ یہ ریلیاں سہ پہر 4 بجے نکالی جائیں گی۔ پریس کلب کے سامنے ریلی کی قیادت میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید، صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر اور مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر پرویز ملک کریں گے۔ خواجہ احسان لبرٹی اور وفاقی وزیر سعد رفیق لالک چوک پر ریلی کی قیادت کریں گے۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں پریس کلب کے سامنے ریلیاں بھی سہ پہر 4 بجے ہی ن کالی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ اور قیادت نے کارکنان کو ریلیوں میں صرف قائد نوازشریف کی تصاویر اور جھنڈے لانے کی ہدایت کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی جانب سے طے کیا گیا ہے کہ صوبے میں نکالی جانے والی ریلیاں مکمل طور پر پُرامن ہوں گی، انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پاناما لیکس میں حکمران جماعت کے خاندان کے افراد کے بارے میں فیصلہ سامنے آنے کے بعد پاناما لیکس اور بہاماس لیکس کا پنڈورا بکس بند نہیں ہوگا بلکہ باقی 550 متمول پاکستانیوں کے خلاف کارروائی فوری طور پر شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس ضمن میں جب ایف بی آر کے ایک اعلیٰ ذمہ دار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے انہیں اپنے فیصلے میں پاناما لیکس اور بہاماس لیکس میں شامل باقی افراد کے خلاف کارروائی کے لیے ہدایت یا کوئی اختیار تفویض کیا تو نہ صرف ایف بی آر بلکہ دیگر ادارے بھی پاناما اور بہاماس لیکس کے کیسوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی کا آغاز کردیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کے قانونی و آئینی پہلوو¿ں کی تشریح کروائی جائے گی اور ان کو سمجھا جائے گا اس کی روشنی میں کارروائی ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا پاناما لیکس کیس میں فیصلہ سامنے آنے کے بعد قومی اداروں کو ایسے کیسوں کی تحقیقات کے لیے موجودہ قوانین کو اپ گریڈ کرنے اور ان افراد، کمپنیوں جن کو ایف بی آر نے اب تک پاناما لیکس اور بہاماس لیکس کیس میں نوٹس جاری کررکھے ہیں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے اور ہدایات کی روشنی میں کارروائی ممکن ہوگی۔ قائم مقام آئی جی پنجاب عثمان خٹک نے کہاہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد کسی کو بھی ہوائی فائرنگ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ توڑ پھوڑ کرنے والوں کیساتھ نہایت سختی سے نمٹا جائے گا۔آئی پنجاب نے پانامہ کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلا ن کیا ہے کہ کسی کو اسلحہ ساتھ لے کر چلنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کو ہوائی فائرنگ کرنے دی جائے گی۔انہوں نے امن وامان کے قیام کویقینی بنانے کے لئے سخت سکیورٹی اقدامات کی ہدایت کردی ۔ بکیوں نے گول مول فیصلے کو فیورٹ قرار دیدیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بکیوں نے کسی بھی جماعت کے حق میں یکطرفہ فیصلہ نہ آنے کو فیورٹ قرار دیتے ہوئے 40پیسے ریٹ مقرر کیا ہے۔ یعنی گول مول فیصلہ پر شرط لگانے پر ایک لاکھ 40ہزار ملیں گے۔ وزیراعظم کی نااہلی کا ریٹ 70پیسے مقرر کیا گیا ہے۔ ایک لاکھ لگانے پر 70ہزارحاصل ہونگے۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان کو کلین چٹ کے فیصلے پر ایک لاکھ پر ایک لاکھ روپے ریٹ مقرر ہے۔ بکیوں کے مطابق زیادہ تر شرطیں وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی پر لگائی جارہی ہیں جس کے امکانات بہت کم ہیں۔ معروف قانون دان جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں اداروں کی ناکامی پر کچھ نئے قوانین اور ترامیم پر بات کی جاسکتی ہے۔ وزیراعظم کو فوری ہٹایا نہ بھی جائے‘ ہمہ جہتی کمیشن قائم کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ ایسی آبزرویشن کا امکان ہے کہ سپریم کورٹ کے بعد اب کمیشن کی فائنڈنگز تک وزیراعظم کسی اور کو اپنی جگہ نامزد کردیں اور کلیئرنس کے بعد اپنا عہدہ سنبھال لیں۔ معروف سینئر تجزیہ کار نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا کہ وہ وفاقی حکومت جانے کی صورت میں بھی پنجاب حکومت تو ن لیگ کے پاس ہی ہے اور رہے گی۔ پنجاب پولیس ودیگر ادارے بھی پاس رہیں گگے اس لئے پنجاب میں حالات زیادہ خراب کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ گڑ بڑ اور انارکی پھیلانے کیلئے بلدیاتی نمائندوں تک کو ہدایات دیدی گئی ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved