کشمیر، مودی اور حسینہ واجد

قسور سعید مرزا / ایک نظر ادھر بھی
پانامہ کا جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب قومی سلامتی کی طرف توجہ دو۔ بھارت جو کچھ کشمیر میں کر رہا ہے، اس کو سمجھو۔ کیا کشمیر بلاوجہ خون میں نہا رہا ہے؟ تاریخ کے اس نازک موڑ پر مقبوضہ کشمیر کا سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی بول پڑا ہے کہ ”اونچے آسمان سے نیچے اتر آﺅ۔ میں کشمیر میں بہت ہی خراب صورتحال دیکھ رہا ہوں۔ نوجوانوں کا خون جس طرح کھول رہا ہے یہ ابال اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا“۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قابض بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں قتل و غارت گری اور تشدد کے واقعات انسانیت کےخلاف جرائم ہیں، بھارت مسلسل یہ ڈھنڈورا پیٹتا رہتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن وہ اپنے ملک میں مسلمانوں اور بالخصوص کشمیری مسلم باشندوں کی خواہشات اور آرزوں کےخلاف ان پر جو تشدد کر رہا ہے اور مظالم ڈھا رہا ہے، ایسے سارے اعمال اس کے جھوٹے دعوﺅں کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ بھارت بڑی چالاکی اور تیزی کے ساتھ پاکستان کےخلاف تانے بانے بننے میں جتا ہوا ہے۔ مودی برسرعام عالمی طاقتوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ پوری دنیا پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے اس پر بین الاقوامی دباﺅ بڑھایا جائے۔ یہ ہماری حکومت کی نالائقی اور سفارتی ناکامی ہے کہ بھارت، ایران اور سعودی عرب کو ہائی جیک کر چکا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کو بھی لے اڑا ہے۔ افغانستان میں ہمارے خلاف مورچہ زن ہے مودی نے پاکستان کےخلاف سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذوں پر غیر اعلانیہ جنگ چھیڑی ہوئی ہے، ہر محاذ پر ہم حالت جنگ میں ہیں ہمیں یہ حقیقت بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے تمام سیاستدان بین الاقوامی ایجنسیوں سے رابطہ میں ہیں۔ جب آئی ایس آئی ان پر نگاہ رکھتی ہے تو یہ چیختے ہیں ہمارا میڈیا ہو یا نام نہاد روشن خیال دانشوروں کا ٹولہ، انتظامیہ ہو یا مقننہ سوسال سوسائٹی ہو یا ڈالرز مافیا این جی اوز ان میں علیحدگی پسندوں اور جاسوسوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے موجود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کلبھوشن کا چیپٹر جتنا جلدی ہو سکے بند کیا جائے، اگر کلبھوشن لٹک گیا تو میمو گیٹ والا بھی لٹکے گا۔ شکیل آفریدی کےلئے جتنا دباﺅ ڈالا جا رہا ہے وہ قومی ادارے جانتے ہیں بھارت کلبھوشن یادیو کےلئے سعودی عرب اور دبئی سے بھی دباﺅ ڈلوانے سے باز نہیں آئے گا، ضروری ہے کہ کلبھوشن کی اپیل سب سے پہلے سنی جائے اور اس معاملہ کو طول نہ دیا جائے۔ ہمارے ہاں وہ چہرے جانے پہچانے ہیں کہ جو بھاگ بھاگ کر انڈیا جاتے ہیں۔ بال ٹھاکرے سے مل کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ انڈین کے ساتھ مل کر گتکا کھیلتے ہیں اور حسینہ واجد کی ہاںمیں بھی ہاں ملاتے ہیں۔ ذرا سوچئے اور دیکھئے کہ تاریخ کے کس موڑ پر امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل آرنلڈریمنڈ میک ماسٹر پاکستان کے اچانک دورہ پر تشریف لائے ہیں۔ یہ افغانستان میں ہولناک بم گرانے کے بعد کابل پہنچے اور وہاں فرمایا کہ پاکستان کےلئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ افغانستان سمیت کہیں بھی پراکسی میں نہ پڑے اور سفارتکاری کی راہ اپنائے اس یبان میں Between the lines انتباہ موجود ہے یہ تو امریکہ بہادرکی سوچ ہے اس کے تیور کو بہت اچھی طرح سمجھا اور پڑھا جاسکتا ہے جبکہ اس کا کاریگر پارٹنر گورا انگریز پاکستان کے ساتھ بطور ریاست برتاﺅ کرنے کی بجائے افراد کو اہمیت دے رہا ہے بلوچ علیحدگی پسند اس کی زندہ مثالیں ہیں اس ماحول میں بھارت داداگیری پر اترا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کے تازہ تازہ معاہدے ہوئے ہیں، ویسے بھی حسینہ واجد کو نریندر مودی کی مکمل تھپکی حاصل ہے۔ حسینہ واجد نے تو چن چن کر پھانسیاں دلوائی ہیں اس وقت یہ فل پھولن دیوی بنی ہوئی ہے۔ ایک ہی راگ یہ الاپ رہی ہے کہ 1971ءمیں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں 30 لاکھ بنگالیوں کا قتل عام ہوا ہے۔ ڈاکٹر جوزف نے کہا تھا کہ اگر تم ایک جھوٹ بار بار بولو گے تو لوگ اس کو سچ مان لیںگے اور جھوٹ جتنا بڑا ہوگا اتنا ہی اس کا اثر بھی ہوگا۔ حال ہی میں ایک بار پھربنگالیوں کو بےوقوف بنانے کیلئے 30 لاکھ ہلاکتوں کاواویلا کیا گیا۔وزیراعظم حسینہ واجد نے اپنی کابینہ کو یاد کرایا کہ 1971ءمیں بے دریغ بنگالیوں کی نسل کشی کی گئی تھی۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد نے 25 مارچ کو یوم قتل عام کا دن منایا۔ یہ جھوٹی کہانی ہندوستانی اور بنگالی سیاستدان بار بار دہرا کر پاکستان اور پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس جھوٹے قصہ کی بنیاد 23 دسمبر 1971ءکو ایک اخباری ادارے نے رکھی تھی جو ”پراودا“ میں شائع ہوا تھا۔ یہ اخبار سوویت یونین نواز تھا۔ اس شہرت پانے والے ادارے کے مطابق 30 لاکھ بنگالی 1971ءکی جنگ میں بری طرح قتل کر دیئے گئے تھے اسی کہانی کو شیخ مجیب الرحمن نے بی بی سی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں مزید بڑھایا جو ڈیوڈ فراسٹ نے 10فروری 1972ءکو لیا تھا۔ سراج الرحمن جو برطانیہ میں بی بی سی بنگلہ پروگرام کے سابق ڈپٹی ہیڈ تھے ان کا 24مئی 2011ءکو ”دی گارڈین“ میں ایک خط شائع ہوا جس میں انہوں نے لکھا کہ ہمارے اپنے ذرائع کے مطابق اس جنگ میں تین لاکھ سے زیادہ بنگالی نہیں مارے گئے۔ ڈیوڈ برج جو بنگلہ دیش میں برطانوی صحافی تھے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے پہلے سیکرٹری خارجہ سیدکریم نے لکھا تھا کہ ڈیوڈ فراسٹ کو دیئے گئے مجیب الرحمن کے انٹرویو میں تیس لاکھ کی تعداد مبالغہ تھی۔ یہ اعداد اس نے پروادا کے اداریے سے اٹھائے۔ مجیب الرحمن نے 1972ءمیں ایک کمیشن بنایا جس کا کام تھاکہ وہ اجتماعی بڑی قبروں کاسراغ لگائے چودھری مومن کی کتاب Behind the myth of three million جو 1973ءمیں شائع ہوئی لکھا ہے کہ اس کمیشن میں بنگلہ دیش کی آرمی، بارڈر سکیورٹی فورسز، رینجرز، پولیس اور سول انتظامیہ شامل تھی ان تمام کی انتہائی کوششوں کے باوجود بڑی قبروں کی نشاندہی نہ ہوسکی۔ اس کمیشن کے نتائج سے شیخ مجیب الرحمن خوش نہ تھے اور انہوں نے بعد میں اس کمیشن پر پابندی لگا دی تھی۔ مغربی آزاد ذرائع بھی اس تین لاکھ کے فضول اعداد کو بوگس قرار دیتے ہیں۔ ناروے کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بشمول سویڈن کی السپالا یونیورسٹی نے اپنی تحقیق کے نتائج میں بتایا کہ 58000 لوگ مارے گئے، جون 1972ءمیں La times کے ولیم ڈرمنڈ نے رپورٹ کیا کہ تیس لاکھ اموات مبالغہ آرائی اور بالکل بکواس ہے یکم مارچ 1973ءمیں سٹاک ہوم کی سب سے بڑے اخبار ڈیجنس نائی ہیٹر میں سویڈش جرنلسٹ اینگورادجا نے لکھا کہ 30لاکھ سے زائد لوگوں کے قتل عام کا الزام جھوٹ ہے۔ ریسرچ ایسوسی ایٹ آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنگالی انڈین صحافی سرمیلا بوس نے اپنی کتاب dead reckoning in 2011 میں تحریر کیا ہے کہ 30 لاکھ کے اعداد کسی بڑے بھونڈے مذاق سے کم نہیں اور جو لوگ مارے گئے تھے ان میں بنگالیوں کے علاوہ بہاری اور مغربی پاکستانی بھی تھے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل مانک شاہ نے خود کہا تھا کہ 1971ءمیں 30 لاکھ لوگوں کا قتل عام اور2 لاکھ عورتوں کی عصمت در جھوٹی، من گھڑت، فریبی اور سچائی سے کوسوں دور ایک کہانی ہے۔ انگلستان سے اسقاط حمل کی ایک ٹیم 1972ءمیں بنگلہ دیش آئی اور اس نے اپنے کام کے دوران 107 ایسی عورتوں کو پایا کہ جو اسقاط حمل سے دوچار ہوئی تھیں۔ اس طرح امریکن کانگریس مین چارلس ولسن نے کہا تھا کہ یہ کہنا کہ پاکستانیوں نے اپنے ہی تیس لاکھ بنگالی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور دو لاکھ خواتین کو اپنی حوس کا نشانہ بنایا تھا ایک ایسا الزام ہے کہ جس کا کم از کم انسانی سوچ احاطہ نہیں کرسکتی۔ ویسے بھی سادہ حساب کتاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ تیس لاکھ بنگالیوں کا قتل اور دو لاکھ خواتین کی عصمت دری ایک ایسی بےہودگی والی بات ہے کہ جو شاید بنگالی اسٹیبلشمنٹ کی سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن 25 مارچ کو شروع ہوا اور 16دسمبر 1971ءکو ختم ہوگیا۔ یہ 262 دن بنتے ہیں تو کیا 11450 بنگالیوں کو روزانہ مار کر دفنادیا جاتا تھا؟ دونوں اعداد غلط ہیں اور عمومی عقل کےخلاف ہیں۔۔
حسینہ واجد حکومت متواتر تیس لاکھ بنگالیوں کی اموات کا چرچا کرنے میں جتی ہوئی ہے۔ یہ دراصل پاکستانی فوج کےخلاف ایک مسلسل پروپیگنڈا ہے تاکہ اپنے ووٹر کو ساتھ رکھا جا سکے اور بھارت کی حمایت حاصل رہے حالانکہ مکتی باہنی میں ہندوﺅں نے شامل ہو کر جو گل کھلائے وہ نہ تو کبھی عوامی لیگ کو نظر آئیں گے اور نہ حسینہ واجد کو ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی ایسوں کی کمی نہیں کہ جو فوج کےخلاف پروپیگنڈے پر بغلیں بجاتے ہیں۔ اشاروںکناروں میں بات بھی کرتے ہیں اور لکھ بھی جاتے ہیں۔ اخبارات کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ کتنے لکھاری ایسے ہیں کہ جنہوں نے اس الزام کےخلاف لکھا اور کتنے ہمارے ایسے سیاسی اکابرین ہیں کہ جو آگے بڑھے ہوں اور حسینہ واجد کے الزامات کو جھٹلایا ہو۔ ایوب خان، یحییٰ خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف سے اختلاف کرنے اور رکھنے کی بہت سی گنجائش موجود ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج کے لیے دل میں بغض رکھا جائے۔ اس وقت دشمن سمجھتا ہے کہ اس کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں صرف فوج رکاوٹ ہے۔ باقی اس کے آزمائے ہوئے ہیں اور ان کی قیمت و اوقات سے بھی آگاہ ہے، سقوط ڈھاکہ اپنی جگہ ایک انتہائی المناک واقعہ ہے قتل ایک کا ہو یا تیس لاکھ کا بدبودار عمل ہے لیکن انسانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو کچھ مشرقی پاکستان میں ہواوہ بنگالیوں اور پاکستانیوں کےلئے تکلیف دہ تھا۔ عوامی لیگ اپنی سوچ بدلے۔ یہ بھارت سے حمایت لینے کے چکر میں جرم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ حسینہ واجد کو چاہیے کہ وہ اپنی سیاست کو صحیح اور معنی خیز مسائل کو حل کرنے کیلئے استعمال کرے۔ پاکستان بنگلہ دیش کی حکومت کو اپنی اوقات میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے چین کی مدد سے بنگلہ دیش میں بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ بس اتنا اشارہ کافی ہے۔ ہماری فالج زدہ حکومت بہت کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ مودی کو کرارا جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور بنگلہ دیش کو اس کی حد میں بھی رکھا جاسکتا ہے لیکن انہیں فی الحال میٹرو اور اورنج کلر سے فرصت نہیں۔ حسینہ واجد صاحبہ معقول وزیراعظم ہونے کا ثبوت دیں۔ خود سے بھی جھوٹ بولنا بند کریں اور اپنے لوگوں سے بھی جھوٹ نہ بولیں۔٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved