اوورسیز پاکستانی بمقابلہ ایف آئی اے

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
اور پردہ اٹھتا ہے!
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔نارروے میں مقیم ایک پاکستانی خاتون اپنی نوجوان بیٹی کے ساتھ ہوائی اڈے پر روانگی والے لاﺅنج میں موجود ہے‘ بیٹی واش روم جاتی ہے جہاں ٹوائلٹ ٹشو جو کہ مغربی ممالک کے عام گھروں سے لے کر ہر اس جگہ موجود ہوتے ہیں جہاں واش روم بنایا جائے‘ لیکن اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یہ موجود نہیں تھا‘ مذکورہ لڑکی نے وہاں سے گزرنے والی ”ایف آئی اے“ کی ایک باوردی ملازمہ سے ٹشو سے متعلق استفسار کیا تو بدتہذیبی کے نشے میں دھت اہلکار بولی! میں تمہیں کوئی ماسی یا چوڑی نظر آتی ہوں جو مجھے ٹشو کا علم ہو؟ مذکورہ لڑکی جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وہ نسل ہے جو بیرون ملک میں پیدا ہوئی اور وہیں پروان چڑھ رہی ہے‘ یہ لڑکی بھی ناروے کی پیدائش اور ڈاکٹری کی پڑھائی کر رہی ہے‘ اب اس کا قصور فقط یہ تھا کہ وردی پہنے ایک خاتون اہلکار کو ہوائی اڈے پر ایک ذمہ دار انسان سمجھ کر ٹشو کا پوچھ بیٹھی تھی جس پر یہ اہلکار اس قدر سیخ پا ہوئی کہ ہوائی اڈے پر ایک انہونا اور شرمناک سین شروع ہو گیا۔
میڈیا پر موبائل فون پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ”ایف آئی اے“ کی اہلکار کس غیرانسانی‘ غیراخلاقی اور غیر پیشہ ور طریقے سے اس لڑکی اور اس کی والدہ کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ اور ان دونوں پر تشدد کر رہی ہے۔ ”ایف آئی اے“ کے کئی مرد اہلکار تماشا دیکھ رہے ہیں ایسے دہشت زدہ ماحول میں ہوائی اڈے کے ”او پی ایف“ (اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن) کے کاﺅنٹر پر موجود ایک اہلکار اکرم نے انتہائی خوفزدگی کے عالم میں مداخلت کرتے ہوئے ”ایف آئی اے“ والوں سے احتجاج کیا کہ آپ یہ بلاجواز تشدد کیوں کر رہے ہیں‘ وہ بارہا یہ کہتا رہا کیا آپ ان خواتین کو اب مار ڈالیں گے۔ اس پر اسے دھمکی آمیز لہجے میں کہا گیا‘ تم پیچھے ہٹ جاﺅ‘ تمہارا کیا مسئلہ ہے تو اکرم نے کہا اوورسیز پاکستانیوں کو ایئرپورٹ پر درپیش کسی بھی مسئلہ اور ان کی حفاظت ”او پی ایف“ کی ذمہ داری ہے‘ لیکن صد افسوس کہ پاکستان کی ”فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی“ کی غنڈہ فورس کے سامنے اس کمزور اہلکار کی آواز ”نگارخانے میں طوطی کی آواز“ سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوئی اور یہ حیوانیت کا کھیل جاری رہا‘ ناروے جانے والے ان مسافروں کی فلائٹ چلی گئی‘ ان کے پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس پھاڑ دیئے گئے‘ انہیں گھسیٹ کر ہوائی اڈے کے پولیس سٹیشن لے جایا گیا‘ ان سے زبردستی معافی نامہ لکھوا کر انہیں ذلت کی تصویر اور پاکستان سے شدید نفرت کا تاثر دے کر اور ان کے جذبات و احساسات کو کرچی کرچی‘ اور ان کی اناﺅں کا خون کرنے کے بعد بالآخر انہیں رہا کردیا۔
پردہ پھر اٹھتا ہے!
اس واقعہ کا دوسرا رخ ”ایف آئی اے“ والوں کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ خواتین نے ہماری خاتون اہلکار سے بدزبانی کی تھی اور ہم یہاں گالیاں سننے کیلئے نہیں بیٹھے۔ اطراف کا تقابلی جائزہ لینے کیلئے اگر مان بھی لیا جائے کہ ان خواتین نے کسی اہلکار سے بدزبانی کی بھی تھی تو کیا ان کمزور‘ نہتی خواتین جن کے ساتھ ایک پانچ چھ سال کی ایک اور بچی بھی تھی‘ انہوں نے ”ایف آئی اے“ جیسے قابل قدر و فخریہ‘ قومی ادارے کی شان میں آخر ایسی کون سی بڑی گستاخی کر دی تھی جس کی سزا انہیں گھسیٹ کر‘ تھپڑ مار کر اور ان کے پاسپورٹ و بورڈنگ پاسز پھاڑ کر اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا امیج خراب کر کے دی گئی‘ کیا ”ایف آئی اے“ کی سربراہی کر رہے مظہر کاکاخیل کے پاس اس کا کوئی جواز اور معقول جواب موجود ہے؟
بظاہر لگتا تو یوں ہے کہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے غم میں بری طرح مبتلا ہے‘ اسی لئے حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ایک وزارت‘ ایک فیڈرل کمشنر‘ ایک صوبائی کمشنر‘ وفاقی و صوبائی محتسب کے ادارے‘ او پی ایف اور اس کے تحت پاکستان کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر خصوصی کاﺅنٹر ز بنارکھے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی، بیرون ملک پاکستان کے سفیر اور جانے کیا کیا القابات دئیے جاتے ہیں لیکن درحقیقت یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ کے علاوہ اورکچھ نہیں ان اوورسیز پاکستانیوں کی حقیقی عزت و توقیر وہی ہے جو اسلام آباد ہوائی اڈے پر ان دونوں خواتین اور شاید سینکڑوں ہزاروں، دیگر مسافروں کے ساتھ ہمہ وقت واقعات میں انہیں دی جاتی ہوگی؟ لیکن اب دل تھام کے پڑھیے کہ 80لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کی بیرون ملک سے پاکستان بھجوائی جانے والی رقم کتنی ہے یہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ کم و بیش 20 ارب ڈالر کی رقوم پاکستان زرمبادلہ کی صورت بھجواتے ہیں۔ پاکستانی روپے سے اس رقم کو ضرب دیں تو شاید 200ارب روپے سے زیادہ رقم ہوتی ہے تو کیا اس لئے کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے ان 200ارب روپے تنخواہیں لینے والے ”ایف آئی اے“ ہماری ماﺅں بہنوں اور بیٹیوں کو سرعام بالوں سے پکڑ کر گھسیٹیں ان پر تشدد کریں ، گالیاں دیں اور ان کے پاسپورٹ پھاڑ کر مجرموں کی طرح ان سے معافی منگوائیں، صرف ٹشو مانگنے یا پوچھنے کی پاداش میں؟ میرے صحافی دوست کا کہنا درست ہے کہ یہ لوگ طاقتوروں کے سامنے بھیگی بلی اورکمزوروں کے ساتھ خونخوار بھیڑیوں کا سا سلوک کرتے ہیں۔ کیا اب یہ سمجھ لیا جائے کہ پاکستان کے ہوائی اڈے ریاست کے اندر ریاست بن چکے ہیں؟
ذرا سردھنسئے اور غور کیجئے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت کے علاوہ ”او پی ایف“ وفاقی محتسب کمشنر فار اوورسیز پاکستانیز“ ” اوورسیزکمشنر پنجاب“ ”وفاقی کمشنر فار اوورسیز پاکستانیز“ سپریم کورٹ میں ہیومین رائٹس فار اوورسیز سیل ” وزیراعظم ہاﺅس میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے انسپکشن سیل“ چنانچہ وزارت سمیت یہ تمام ادارے بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت اور تحفظ کیلئے قائم کئے گئے ہیں، ہم جب ایئرلائن کا ٹکٹ خریدتے ہیں تو ایئرپورٹ ٹیکس کی مد میں بھی 15,10 ہزار روپے چارج کئے جاتے ہیں تو پھر ہمیں ہوائی اڈے پر تمام سہولتیں بھی میسر ہونی چاہئیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر اسی واقعہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہوائی اڈے کی ٹوائلٹ میں ٹشو کیوں نہیں تھا جو کہ ہر صورت میں ہونا چاہیے تھا ۔ باقی بحث بعد کی ہے کہ ”اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن“ اور دیگر ادارے جب ناروے جاکر یہ کہہ رہے ہیں بلکہ بھیک مانگ رہے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ترین ملک ہے یہاں سرمایہ کاری کریں تو اب کیا غیر ملکی سرمایہ کار آپ سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ بھائی! یہ اسلام آباد ہوائی اڈے پر آپ لوگوں نے ہمارے شہریوں کے ساتھ ایک ٹشو مانگنے پر کیا سلو ک کیا، ہمارے پاسپورٹ بھاڑ کر ہماری کس قدر تضحیک کی اور اس پر ہم سے یہ توقع کرتے ہیں کہ آپ کی خوشحالی کیلئے ہم اپنا پیسہ آپ کے ملک میں لگائیں پھر گالیاں اور دھکے کھائیں!
شنید ہے کہ ”او پی ایف“ کے چیئرمین بیرسٹرامجد ملک نے اس افسوسناک واقعہ پر فوری نوٹس لیا ہے اور وزیراعظم نوازشریف کو خط لکھا ہے کہ وہ خود اس واقعہ کی تفتیش کروائیں اور ذمہ داروں کو سزا دلوائیں، خط میں وزیراعظم سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ ”اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن“ کے ہوائی اڈﺅں پر بنائے گئے کاﺅنٹرز کے ساتھ وہاں ایس پی رینک کے ایک پولیس افیسر کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ وہاں ایک پولیس چوکی بھی بنائی جائے جو اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کی ضامن ہو۔ گوکہ وفاقی کمشنر فار اوورسیز پاکستانیز زبیر گل بھی اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے ایک ٹیسٹ کیس بناکر آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچنے کیلئے اقدامات کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن خدشہ ہے کہ اگر بہت سے دیگر سنگین واقعات کی طرح یہ بھی زبانی جمع خرچ ہی رہا تو اس ملک میں آنے جانے والے 80لاکھ اوورسیز پاکستانی یونہی ٹوائلٹ ٹشو کی طرح ”عزت افزائی“ پاتے رہیں گے۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved