آئندہ انتخابات اور قانون سازی

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
بادی النظر میں وطن عزیز میں موجود سمسیاﺅں کا جائزہ لیا جائے تو معاملات اور مشینری جام نظر آتی ہے اس میں کچھ غلط بھی نہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کرپشن کی اس زچ ہوئی صورتحال کو کیسے توڑا جائے۔کہیں سے آواز آتی ہے کہ صاحب مارشل لا ہی اس سب کا حل ہے اس کے بعد ساری بات مفروضے اور قسمت پر ہے کہ اگر ڈکٹیٹر شریف النفس اور فرشتہ صفت ہوا تو یقیناملک و قوم ترقی کی تمام منزلیں پا ر کر جائے گا۔ڈکٹیٹر والی کہانی تو کسی کو بھی ہضم نہیں ہوتی لے دے کے سب کے سامنے یہ بات آتی ہے کہ اگر الیکشن شفاف ہو جائیں تو حکمران بھی شفاف آئیں گے یہ بات کافی حد تک منطقی اور سمجھ آنے والی ہے۔اس کیلئے الیکشن کمیشن میں کچھ ہل جل ہونی شروع ہوئی ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے الیکشن لا 2017ءکیلئے قانون سازی کو فوری حتمی شکل دینے کے مطالبے کے بعد حکومت، اپوزیشن اور ای سی پی نے معاملے میں تاخیر کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کردی۔اپوزیشن کی دو اہم جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے حکومت اور ای سی پی کو انتخابی اصلاحات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ ای سی پی کا کہنا تھا کہ قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ای سی پی نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو رواں ہفتے کے آغاز میں بھیجی گئی تحریر کے ذریعے کہا تھا کہ وہ انتخابی اصلاحات پر قائم پارلیمانی کمیٹی کو ہدایت کریں کہ اپنی تجاویز کو حتمی شکل دیں اور جس قدر جلد ہوسکے بل کو منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ نئے قانون کے مطابق ای سی پی اپنا کام مکمل کرسکے۔
کمیٹی کے سربراہ اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ سال 20 دسمبر کو پارلیمنٹ ہاو¿س کے دونوں ایوانوں میں الیکشن لا 2017ءکا بل ڈرافٹ کیا تھاانہوں نے اعلان کیا تھا کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز لی جائیں گی اور حتمی ڈرافٹ 30 یوم میں مکمل کرلیا جائے گا۔تاہم اس کے بعد اس معاملے میں کسی بھی قسم کی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے ای سی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ادارے نے اپنے کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ای سی پی انتخابی اصلاحات کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکٹرونک ووٹر مشین (ای وی ایم) کے استعمال، ووٹرز کی شناخت کیلئے بائیومیٹرک تصدیق اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کے حق کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اس سے قبل ای سی پی کے حکام نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کے استعمال کیلئے تیار ہیں لیکن بعد ازاں اسے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا کو ہیک کیا جاسکتا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کاکہنا ہے کہ ای سی پی سرگرم نہیں ہے اصلاحات میں تاخیر کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ای سی پی کو ضروری مدد فراہم کرے۔
خیال رہے کہ پی پی پی کی شازیہ مری خود بھی انتخابی اصلاحات کمیٹی کی رکن ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی ای سی پی کو مضبوط کرنا چاہتی ہے اور یہ دیکھا جارہا ہے کہ کمیشن خود مختاری چاہتا ہے لیکن حکومت کی ترجیحات اس سے مختلف ہیں۔سینیٹ میں متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندے سینیٹر طاہر مشہدی نے پی ٹی آئی کو انتخابی اصلاحات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ڈرافٹ میں معمولی مسائل پر ہنگامہ برپا کیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیٹی کے رکن اور وزیر مملکت برائے کیپٹل ڈولپمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے تاخیر کا ذمہ دار اپوزیشن کو ٹھہرایا۔انہوں نے کمیٹی کے گزشتہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے مذکورہ ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے کیلئے حکومت سے کچھ وقت مانگا تھا، جس کے بعد سے وہ جواب کے منتظر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تاخیر نہیں ہور ہی اور ا±مید کا اظہار کیا کہ آئندہ کچھ ہفتوں میں کمیٹی اپنا کام مکمل کرلے گی۔اس دوران ای سی پی کے ایڈیشنل سیکریٹری فدا محمد کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران اے وی ایمز اور بی وی ایمز کے استعمال کی تجویز ڈرافٹ میں پیش کی گئی تھی، ان کا کہنا تھا تاہم یہ اب بھی ڈرافٹ کی صورت میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کہ ای وی ایمز اور بی وی ایمز کا استعمال قانونی کے تحت نہیں تاہم ای سی پی نے وزیراعظم سے ایک سمری کے ذریعے درخواست کی ہے کہ ان مشینوں کے استعمال سے قبل ان کی جانچ کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ 185 ای وی ایمز اور 100 بی وی ایمز کی خریداری کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے گئے ہیں اور یہ مشینیں جون 2017 تک وصول کرلی جائیں گی۔ای سی پی کے سیکریٹری کا کہنا تھا کہ انہیں عام انتخابات کیلئے کم سے کم 3 لاکھ ای وی ایمز درکار ہوں گی جس کی لاگت 30 ارب روپے لگائی جارہی ہے جس میں ان کی بحالی اور خدمات بھی شامل ہوں گی۔
اپوزیشن کے خدشات اور الزامات کو اگر الیکشن کے انعقاد سے پہلے دور نہ کیا گیا تو آمدی انتخابات کی صحت مشکوک ہو سکتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اس ضمن میں اپوزیشن کے تحفظات اور الزمات کو دور کرنے کےلئے اصلاحات کو جلد سے جلد پایا تکمیل تک پہنچائے۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved