ماحول، خوراک اور نئی نسل کی نشو و نما

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق….. دِل کی بات
جن معاشروں میں ماحول کی اصلاح اور انسانیت کی فلاح کےلئے کردارادا کیا جارہا ہو وہ فلاحی معاشرہ قرار پاتا ہے اور اس ماحول کی پیداوار ایک اچھا انسان ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی پرورش اس کی نشوونما میں ماحول اور صحت بخش حالات 80فیصد سے زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے ماحول میں پرورش پانے والے بچے اپنی شخصیت کو سنوارلیتے ہیں۔ محنت کشوں کا گھریلو ماحول اگر بہتر ہو تو اُن کی زندگیوں میں حیرت انگیز انقلاب آسکتا ہے ۔ ہماری آنے والی نئی نسل کی نشوونما میں غیر یقینی کی صورتحال میں ملاوٹ اور ماحول کی پراگندگی شامل ہے ۔ گزشتہ روز لاہور فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نور الامین مینگل کے خیالات سے استفادہ کیا ۔ انہوں نے لاہوریوں کےلئے کھانے کی جگہوں کا بہترین ماحول میں بدل کر اچھی خوراک پر خصوصی توجہ دے رکھی ہے جس میں فوڈ سٹریٹ کی رنگا رنگی اور ماحول کی خوبصورتی نے لاہوریوں کو اچھے کھانے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ نور الامین نے فیصل آباد میں بھی اداروں کا ایک خاص معیار قائم کیا ہے۔ آغاز میں انہیں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر مشکل کے بعد ہی آسانی کاراستہ مل جاتا ہے۔ فیصل آباد میں شخصی کارکردگی کا گراف تو بہت عمدہ ہے مگر ادارے دم توڑتے جارہے تھے۔ نورالامین مینگل نے شخصی کارکردگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اداروں کو اور اُن کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دیا اور آج فیصل آبا د کے لوگ اپنے اس محسن و مربی کو بہت یاد کرتے ہیں ۔ فوڈ اتھارٹی پنجاب کے ڈی جی نورالامین مینگل گزشتہ روز تحریک استحکام پاکستان کونسل کی سالانہ تقریب تقسیم گولڈ میڈل میں مہمان خاص کی حیثیت سے اظہار خیال کر رہے تھے ۔ کونسل کے سربراہ شیر بہادر چغتائی کی خوبی یہ ہے کہ وہ پورے پاکستان میں اپنے اپنے شعبوں میں ناقابل فراموش خدمات پیش کرنے والوں کو اپنی اس تقریب میں سب کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور دنیا کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ایسے ایسے لوگ موجو دہیں جن کی پوری زندگیاں فلاح انسانیت کی خاطر گزر گئیں اور اُن کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ کونسل انہیں قائد اعظم گولڈ میڈل سے بھی نوازتی ہے۔ ہمارے ملک میں اس وقت نسل نو کی نشو و نما کی صحت مندی میں جو چیز حائل ہے وہ روز مرہ زندگی کی خوراک میں ملاوٹ کی وجہ ہے۔ شفاف ماحول کے ساتھ ساتھ خالص غذا بھی کام دکھاتی ہے۔ ہمارے عناصر اربعہ کا توازن نئی نسل میں بری طرح سے بچپن میں ہی بگڑتا جارہا ہے حالانکہ پچاس سال پہلے ہم نے ان بیماریوں کے نام تک نہیں سنے تھے۔ شوگر، بلڈ پریشر، معدے کی بیماریاں، جوڑوں کے درد بڑوں اور چھوٹوں میںکثرت سے پائے جارہے ہیں۔ ہمارے بچوں کی نشوو نما میں سب سے بڑی رکاوٹ پراگندہ ماحول اور خیالات کی بھی پراگندگی شامل ہے جب تک ہم اپنا ماحول اور خوراک کا معیار بہتر نہیں رکھیں گے اس وقت تک ہم اپنے مستقبل کے معماروں کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے۔ خدارا ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی بہترین فصلوں کی تیاری میں اپنا فرض اور قرض ادا کرنا ضروری ہے ۔ جس طرح ہمارے والدین نے ہمارے تابناک مستقبل کےلئے ایثار و قربانی کی لازوال مثالیں پیش کی ہیں اسی طرح ہمیں اپنے آنے والے معماروں کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ خوراک اور ماحول کی تازگی مستقبل کی تابناکی کی ضمانت ہے۔٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved