تازہ تر ین

معاشرہ اور طبقاتی نظام

سید عرفان حسین شاہ ……اظہار خیال
معاشرہ انسان سے بنتا ہے اور معاشرہ انسان کی اصلاح میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔ انسانی نشوونما میں معاشرے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے‘ جو انسانوں کے کردار کا مختلف پہلوﺅں کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس دور حیات میں انسانیت مختلف قسم کی جنگوں سے مقابلہ میں آمنے سامنے ہے‘جن میں سب سے بدترین جنگ معاشی جنگ ہے‘ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابھرتے سورج کی مانند اپنی جڑوں کو مضبوطی کی طرف لے جارہی ہے‘ جو انسانیت کی بقاءکو متاثر کرتی جارہی ہے اور قتل و غارت کی آماجگاہ بنتی جارہی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کا مطلب قتل و غارت اور حق تلفی نہیں بلکہ مساوات اور برابری کی بنیاد پر حقوق کا تحفظ ہے اور اس کو جانچنے اور سمجھنے کی کوشش کرے یا پھر ان کی ایکوائرمنٹس کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ پاکستان کا اثاثہ نوجوان نسل ہے‘ جن کو مختلف طریقوں سے تباہی کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ طبقاتی نظام آگ کی طرح پھیلتا جارہا ہے جو ایک سنگین نوعیت کا وائرس ہے‘ جو ہمیں خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے اور ہم سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر پا رہے بلکہ اس کا بڑی تیزی سے شکار ہوتے جارہے ہیں۔ اس ملک کی اصل جنگ طبقاتی نظام کے خلاف ہے۔ تاجر‘ کسان‘ مزدور اور نوجوان اس ملک کے ستون ہیں۔ پہلے طبقہ میں غریب عوام‘ دوسرے میں سفید پوش اور تیسرا امیر طبقہ ہے جبکہ سفید پوش اور غریب عوام مسائل سے دوچار ہے۔ افلاس سے تنگ آکر ایک مزدور اپنے خاندان کے ساتھ خودکشی کر بیٹھتا ہے۔ سفید پوش بھی اس طرح ہی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تعلیم و صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے‘ جس میں امیر طبقہ کو ہی سامنے رکھا جاتا ہے۔ غریب آدمی کا بچہ اچھے سکول میں بھی تعلیم حاصل نہیں کر پاتا‘ صرف اس لئے کہ وہ ایک غریب گھر کا بچہ ہے۔ صحت کا معیار اس کے لئے نامناسب ہے۔ لاکھوں‘ اربوں ڈالرز کی کرپشن کی جاتی ہے لیکن ان کی بقاءکے لئے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا۔ سوئس بینک کیس اور موجودہ دور کا پانامہ کیس اس کی مثالیں ہیں۔ انصاف دلانے والے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف کی باتیں کرنے والے آج تک ان کے حقوق دلا نہ سکے ہیں۔ اقتدار والوں کا کام ہے کرنا اور اپوزیشن والوں کا کام ہے کروانا جبکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جتنی بھی پولیٹیکل پارٹیز اقتدار میں آئیں اور اپوزیشن میںآئیں‘ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ملک میں اصل مسئلہ کیا ہے۔ اگر ان کے علم میں تھا تو اب تک حل کیوں نہیں کئے گئے۔ سب سے پہلے طبقاتی نظام کو ٹھیک کیا جائے۔ صحت و تعلیم کی طرف توجہ دی جائے اور ہر شہری کو صحت و تعلیم دلائی جائے۔
MNA,S‘ MPA,S امیدوار اسمبلیوں میں صرف تنقید کرنے اور کردارکشی کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ جس حلقہ سے ووٹ لیا جاتا ہے جیتنے کے بعد عوام کس حال میں زندگی بسر کررہی ہے‘ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ اسمبلیوں کو آج کل جوکر خانہ بنا دیا گیا ہے۔ گالم گلوچ‘ دھینگامشتی وغیرہ سب چل رہا ہے۔ قوم کا لیڈر سربراہ سپیکر صاحب کے سامنے خود کو کلیئر کرنے آتا ہے اور بیان دیا جاتا ہے۔ قوم سے خطاب کیا جاتا ہے اور عدالت میں کہا جاتا ہے کہ قوم کے سربراہ جو ایک قوم کا لیڈر ہے‘ اس نے یہ بیان عوام کے سامنے سیاسی دیا ہے۔ عوام کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ عوام کو اُلو بنایا جارہا ہے۔ کوئی بھی آئے اور عوام سے مذاق کر جائے‘ یہ کہاں کا قانون ہے۔ جو چاہتا ہے‘ اپنی مرضی سے اپنے مطابق تمام معاملات کو تبدیل کردیتا ہے۔
ایک مزدور جس کی مزدوری روزانہ کی 500 روپے ہے‘ جبکہ اس کے گھر کا خرچہ 1000 روپے ہے‘ 500 وہ کسی سے ادھار کی مد میں لیتا ہے۔ جو ایک بھاری قرضہ کی شکل بن جاتا ہے۔ امیر طبقہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے اپنی خواہش کے مطابق کام لے لیتا ہے۔ کسی کی عزت و وقار محفوظ نہ ہے۔ جان محفوظ نہ ہے۔ یہ اقتدار والے پتہ نہیں کیا کرتے رہے ہیں اور اپوزیشن والے پتہ نہیں کیا کرواتے رہے ہیں۔کون ہے جو اس شیطانی چکر کو ختم کرے اور معاشرتی طبقاتی تقسیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، ہے کوئی؟٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved