تازہ تر ین

کالا پتھر پیتی عورتیں

صوفیہ بیدار……..امروز
شادباغ کی ایک خاتون نے اپنے ہی دو جگر گوشوں کو مختلف انداز میں موت کے گھاٹ اتار کر خود اپنی کلائی کاٹ کر اس رفاقت کا اختتام کردیا جو اسے اس مقام پر لائی تھی۔ بیٹے کا گلا دبایا اور بیٹی کو پانی میں ڈبو ڈبو کر مار دیا۔ ایسی خاتون کو اپنی جان لینے کا تو حق تھا مگر اپنے ہی بچوں کو جو شاید کل کو ڈاکٹر‘ انجینئر یا پھر کسی اور خدمت کے محکمہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے جان لینے کا کیا حق تھا۔ ایک خاتون کے یہ سمجھ لینے سے کہ میرے بعد انہیں کون پالے گا‘ بچے ایسی خوفناک موت کی نذر ہوئے۔
یہ امر اپنی جگہ درست ہے کہ ماں ایک گھنٹہ بھی دو چار برس کی عمر کے بچوں سے دست بردار ہوجائے تو بچے کو حادثہ پیش آسکتا ہے مگر کائنات کے سب سے اعلیٰ ترین تربیت و پرورش اور کامل محبوب خدا تو والدین کی وفات کے بعد بھی اس اوج عرش کو پہنچے جہاں کی خاک کا بھی ماﺅں والے نہیں سوچ سکتے، پھر کیا یہ ایک انتقامی سوچ ہے جو ہمیشہ ہی مہلک ہوتی ہے۔ محض دوسرے ساتھی کو رنج پہنچانے کے لئے بچے برباد کر دینا یا پھر ان کی جان لے لینا؟ اتنا غصہ‘ اتنا انتقام کیوں؟ یہ دنیا بھی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ہم مختصر سا وقت انتقامی کارروائیوں میں گزار دیں جبکہ انتقام کے دو ہی پہلو ہیں‘ ایک تو یہ کہ انتقام لینے والا بھی اتنے ہی نقصان میں ہوتا ہے جتنے میں وہ شخص جس سے انتقام لیا جائے۔ دوسرا ذات کا انتقام ویسے بھی ممکن نہیں۔ مالی نقصان کے ذریعے انتقام سب سے زیادہ بے اثر ہے کیونکہ یہ محاورے یا فسانے کی بات نہیں۔ حقیقت میں ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ انسان انسان کو مالی بدحالی سے شکار کرسکتا تو دنیا کے 80 فیصد لوگ تباہ حال ہوئے۔ اس لئے یہ کار بے سود ہے۔ نوبت این جا رسید کہ حال دل بیاں کرنے سے بھی آپ کی کمزوری پکڑی جاتی ہے۔ مشاورت نہیں ملتی، منیر نیازی یاد آگئے
روکا انا نے کاوش بے سود سے مجھے
اس بت کو اپنا حال سنانے نہیں دیا
یہاں تو دکھوں کی مٹھی کھولتے ہی ساری عزت و توقیر ہاتھوں کی پوروں سے ناقبول ہونے والی دعا کی طرح بکھر (کر) جاتی ہے تو وہاں یہ سوچ کر خودکشی کرنا کہ کسی کو دکھ ہوگا یا کوئی پچھتائے گا فضول ہے پھر خود کو مارنے سے کہیں بہتر ہے۔ دشمنی کی جڑ کو ختم کیا جائے‘ خودکش بمبار بھی سینکڑوں کی جان لے کر اپنی ختم کرتے ہیں۔ اس عورت نے مشرق کے رومانس میں یہ سوچ کر خود کو مع اپنے جسم کے ٹکڑوں سمیت ختم کیا کہ میں کسی کا گھر اجاڑ رہی ہوں شوہر گھر کا سناٹا دیکھے گا تو پچھتائے گا اب یہ اس کی روح تھوڑا ہی دیکھنے آئے گی۔ جب چالیسویں سے بھی پہلے اس کی بہنیں نئے سہرے باندھ کر اس ”پاگل عورت“ کی جگہ نئی نویلی دلہن لے آئیں گی اور یہ عورت قصہ پارینہ ہو جائے گی، کہانی نے کسی رخ تو چلنا ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہوا بندے کو کاروبار میں گھاٹا ہوگیا تو اسی ظلم کا نتیجہ سمجھا جائے گا خیر اس سارے قضیے میں ریاست اپنے فرائض سے بالکل غافل ہے جبکہ نبی اکرم ذاتی طور پر ستائی ہوئی خواتین کی حاجات خود سنا کرتے اور سدباب کرتے۔
میں نے کبھی کسی حکمران کو تشدد شدہ خاتون کی داد رسی کرتے نہیں دیکھا کہنے کو یہ ایک اسلامی ریاست ہے۔8 افراد جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں نے مزید خودکشی کی (جو رپورٹ ہوئی) وگرنہ جو خودکشیاں دم گھٹ گھٹ کر ہو رہی ہیں ان کا کوئی شمارنہیں۔ خبر ہے کہ 13 افراد نے جان لینے کی کوشش کی مگر ابھی زندگی اور موت کے بیچ میں ہیں۔ مظفرگڑھ کی شمیم نے آئے روز معمولی معمولی بات پر بے عزتی سے دلبرداشتہ ہو کرکالا پتھر پی لیا، متاثرہ کو نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا مگر کالا پتھر اپنا کام کر گیا چھتیس برس کے علی نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کو ختم کرلیا، ملتان کے 45 سالہ اشفاق نے زہریلی گولیاں کھا کر خود کو ختم کرنا چاہا ، ہنوز موت سے پنجہ آزمائی ہے۔ ملتان کی 18 سالہ شبانہ نے بلیچنگ پی لیا( جس نے آنتوں کو سیال کر دیا ہوگا) مظفرگڑھ ہی کی 35 سالہ غلام جنت نے کالا پتھر پی کر خود کو موت کے حوالے کیا۔ وہاڑی کی 32 سالہ خاتون نے گھریلو ناچاقی پر گلے میں پڑا آنچل پھندا بنالیا وہاڑی ہی کے نواحی گاﺅں 35 بی ڈبلیو میں 32 سالہ ذکیہ نے بھابی سے جھگڑ کر تیزاب پی لیا۔ حالت نازک ہونے پر ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی داخل کروایا گیا مگر تیزاب ہوا وجود کیا موت سے پنجہ آزمائی کرتا یہ تو خود تھکے ہوئے موت کی طرف بھاگتے وجود ہیں لہٰذا ہسپتال تو روایتاً لے جایا جاتا ہے وہاں سے ”باڈی“ بن کر واپس آ جاتے ہیں۔ قبرستان میں جگہ خرید کو ”فارغ“ کر دیا جاتا ہے۔
جمن شاہ کا واقعہ بھی بہت افسوسناک ہے۔ 45سالہ خاتون نے بیٹی امینہ کا رشتہ بھائی کے بیٹے سے کیا۔ شوہر کو ظاہر ہے اس پر غصہ آیا‘ جھگڑا ہوا اور دونوں خواتین نے کالا پتھر پی کر خود کو ختم کر لیا۔ شوہر کی سسرال سے نفرت اور انا جیت گئی…. بیس سالہ خاور ماموں کے گھر گیا‘ صبح زہر سے موت واقع ہو گئی (جو ظاہر ہے خود نہیں پیا ہو گا) 22سالہ اوکاڑہ کی منزہ نے بھی زہریلی گولیاں کھا کر خود کو ختم کر لیا۔ نواحی گاﺅں 16ڈی جی میں موکھا نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کو ختم کیا۔ فیصل آباد میں تین افراد نے خودکشی کی۔ نشاط آباد میں 23سالہ نسیم‘ 30سالہ آصف‘ رسول نگر کے خالد نے کنپٹی پر گولی مار کر‘ عبداللہ نے نہر میں ڈوب کر‘ سیالکوٹ کی سعدیہ بی بی نے گولیاں کھا کرایک فہرست ابھی باقی ہے۔ یہ جاندار رپورٹنگ کے نتیجے میں شائع شدہ خبروں سے بھی اقتباس ہے۔ ابھی اور نامرادوں کی فہرست تھی کہ میرا قلم تھک گیا۔ شاید حکومت کا قلم بھی تھک گیا ہے۔ اتنے دلبرداشتہ لوگوں کے ووٹوں سے بنی حکومت اور کاموں میں ”بزی“ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے مذکورہ لوگ کیوں اتنے دلبرداشتہ ہوگئے‘ انہیں اگر گھروں میں زہرآلود حالات کا سامنا تھاتو کم از کم ریاست ہی کچھ مداوا کرتی۔ اگر ان لوگوں کو حکومت سے انصاف کی توقع ہوتی تو وہ کیوں انتہائی وحشت میں اپنی جان لیتے۔
حکومتیں شاید سفاکی سے ہی چلتی ہیں۔ ایک طرف مرتی ہوئی مائیں‘ دوسری طرف پولیو کے اشتہار میں خوش باش ایکٹریس‘ ایک طرف گھریلو ناچاقیوں پر کالاپتھر پیتی عورتیں‘ دوسری طرف حقوق نسواں کے خلاف (نیا کاروبار خراب ہوتے دیکھ کر) شور ڈالتے اسلامی نظریاتی کونسل والے حکومت ان سکالرز کو کیوں ان کفن پوش عورتوں سے متعارف نہیں کرواتی جو ان حقوق کے چھیننے پر آج قبروں میں ہیں جو انہیں کسی عام انسان نے نہیں محبوب خدا نبی اکرم نے عطا کئے، وہ جو رب کے پیغامبر ہیں۔
اسلام نے جتنے حقوق عورتوں کو دیئے کیا اتنی خودکشیاں (محض چند دنوں میں) اور رپورٹ نہ ہونے والے قتل پر ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے عورتوں کے محکمے‘ اسلامی نظریاتی کونسل و خواتین مخالف ملا اور ریاست جوابدہ نہیں؟٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved